الفاظ کی طاقت

مہروز احمد

شہرِ بے مثال کی وزارتوں میں عجیب و غریب قصے مشہور تھے، برسہا برس بیت جانے کے باوجود عوام کی حالت زار وہی تھی جب کہ حکمران طبقہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کررہا تھا۔ رشوت وصولی عام تھی، عوام کی کسی کو پروا نہیں تھی۔ طبقۂ امرا کے مزے تھے۔ شہر بے مثال سے منسوب تین واقعات ایسے تھے جو برسوں تک زبان زدِ عام رہے۔ آپ بھی پڑھیے۔
(1) شہر میں ایک نئے وزیرِ ترقیات تعینات ہوئے۔ قابلیت کے بارے میں لوگ زیادہ پُرامید نہ تھے، لیکن وہ خود کو غیر معمولی ذہین سمجھتے تھے۔ پہلے ہی ہفتے ایک بڑے ہاؤسنگ پروجیکٹ کی فائل ان کے پاس آئی۔ ٹھیکیدار نے اشاروں کنایوں میں "خدمت” یعنی رشوت دینے کا وعدہ کیا۔ وزیر صاحب نے جلدی میں فائل پر "Approved” لکھ دیا۔ چند دن گزر گئے، مگر نہ کوئی لفافہ آیا نہ کوئی پیغام۔ وزیر صاحب کی راتوں کی نیند اُڑ گئی۔
سیکریٹری سلیم برسوں سے اس وزارت میں تھے۔ انہوں نے وزیر کے چہرے کی ویرانی دیکھ کر پوچھا، "سر خیریت؟”
وزیر نے آہ بھری اور ماجرا بیان کیا۔ سلیم مسکرایا۔ "سر، فائل واپس منگوا لیں۔” فائل آئی تو سلیم نے کہا، "آپ Approved کے شروع میں Dis لکھ دیں۔” وزیر نے حیرت سے پوچھا، "کیوں؟” "بس سر، لکھ دیں۔” وزیر نے "Disapproved” لکھ دیا۔ اگلے ہی دن ٹھیکیدار گھبرایا ہوا آیا۔ "سر کوئی غلط فہمی ہوگئی ہے، یہ لیجیے خدمت۔” وزیر نے اطمینان کا سانس لیا۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ فائل دوبارہ کیسے منظور ہو؟
سلیم نے کہا، "سر Dis میں سے صرف ‘Dis’ پر ایک ہلکی سی لکیر لگادیں، باقی لفظ جوں کا توں رہے گا۔”
یوں فائل پھر "Approved” ہو گئی اور وزیر کو پہلی بار احساس ہوا کہ الفاظ کی طاقت کیا ہوتی ہے اور اصل طاقت کس کے پاس ہے۔
(2) چند ماہ بعد وزیرِ صحت کا تقرر ہوا۔ وہ ہر میٹنگ میں انگریزی کے مشکل الفاظ استعمال کرتے، حالانکہ اکثر خود بھی نہیں سمجھتے تھے۔
ایک دن اسپتالوں کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ پیش ہوا۔ بجٹ بھاری تھا اور ٹھیکیداروں کی قطار لگی تھی۔ وزیر نے میٹنگ میں اعلان کیا، "We must ensure transparency!” سب نے سر ہلایا، مگر پیچھے بیٹھے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ارشد نے مسکرا کر نوٹس لیا۔
میٹنگ کے بعد ایک ٹھیکیدار نے اشارہ دیا کہ اگر منظوری جلد مل جائے تو "شکریہ” بھاری رقم کی صورت ادا کیا جائے گا۔ وزیر نے فوراً فائل پر لکھ دیا:
"Process Immediately” مگر دن گزر گئے، کچھ نہ ملا۔ وزیر پریشان نظر آنے لگے۔ ارشد کو بلایا گیا۔ "یہ ٹھیکیدار وعدہ کرکے غائب ہوگیا۔” ارشد نے فائل دیکھی اور بولا، "سر، آپ نے لکھا ہے Process Immediately۔ اس کا مطلب ہے فوراً عمل درآمد۔ وہ سمجھا ہوگا سب ٹھیک ہے۔”
"تو اب کیا کریں؟” ارشد نے قلم اٹھایا اور "Process” سے پہلے "Re-” لگادیا۔ اب حکم بن گیا: "Reprocess Immediately”
فائل واپس نیچے چلی گئی۔ ٹھیکیدار کو پیغام ملا کہ کام دوبارہ جانچ میں ہے۔ وہ دوڑتا ہوا آیا اور بولا، "سر شاید کچھ کمی رہ گئی تھی، یہ آپ کی خدمت میں نذرانہ حاضر ہے۔” وزیر نے ارشد کی طرف دیکھا۔ ارشد نے سرگوشی کی، "اب Re پر ہلکی سی لائن لگادیں، حکم پھر وہی ہوجائے گا۔” یوں ایک حرف نے پورا کھیل بدل دیا۔
(3) تیسرا واقعہ سب سے دلچسپ تھا۔ وزارتِ ٹرانسپورٹ میں ایک نئے وزیر آئے جو ہر بات پر کہتے، "میں ایمان داری سے کام کروں گا۔” مگر نظام نے جلد ہی انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
ایک بڑی سڑک کا منصوبہ زیرِ غور تھا۔ ٹھیکیدار نے اشارہ دیا کہ اگر فائل پر دستخط ہوجائیں تو خاطر خواہ "تحفہ” رشوت کی مد میں ملے گا۔ وزیر نے اس بار احتیاط برتی۔ فائل روک لی اور کہا، "پہلے اپنا کہا مکمل کریں۔” مگر ٹھیکیدار چالاک تھا۔ اس نے سوچا جب تک دستخط نہیں ہوں گے، رقم نہیں دینی۔ وزیر الجھن میں تھا۔ اس کا پرانا ڈرائیور، بشیر، جو برسوں سے مختلف وزراء کے ساتھ رہا تھا، سب سمجھ گیا۔
بشیر نے کہا، "سر، فائل پر دستخط نہ کریں، بس انیشیئل کردیں۔” "فرق کیا ہے؟”
"سر، مکمل دستخط سے حکم نافذ ہوجاتا ہے۔ انیشیئل سے اشارہ ملتا ہے کہ فائل آگے بڑھ سکتی ہے مگر آخری منظوری باقی ہے۔”
وزیر نے انیشیئل کردیے۔ فائل نیچے گئی تو ٹھیکیدار کو پیغام ملا کہ کام قریباً منظور ہے، بس آخری مرحلہ باقی ہے۔ ٹھیکیدار فوراً حاضر ہوا اور بولا، "سر، باقی بات بھی مکمل کر لیتے ہیں۔” جب "تحفہ” پہنچ گیا تو بشیر نے کہا، "اب مکمل دستخط کر دیں۔”
یوں ایک چھوٹا سا دستخط اور ایک مکمل دستخط کے درمیان لاکھوں کا فرق نکل آیا۔
ان تینوں واقعات کے بعد شہر میں یہ بات عام ہوگئی کہ وزارتیں وزراء نہیں، ان کے ماتحت اہلکار چلاتے ہیں۔ وزیر آتے جاتے رہتے ہیں، مگر سیکریٹری، اسسٹنٹ، ڈرائیور اور چپڑاسی سالہا سال نظام کو سمجھتے اور چلاتے رہتے ہیں۔ اصل طاقت عہدے میں نہیں، تجربے اور چالاکی میں ہوتی ہے۔ اور کبھی کبھی ایک حرف، ایک لفظ یا ایک دستخط پورا منظرنامہ بدل دیتا ہے۔
لوگ ہنستے بھی تھے اور سوچتے بھی کہ اگر عقل اور دیانت صحیح جگہ استعمال ہو تو شہر بے مثال کہاں سے کہاں پہنچ جائے مگر جب عقل صرف لفظوں کے ہیر پھیر میں لگ جائے تو کہانیاں تو بنتی ہیں، نظام نہیں۔

ministerspower of WordsSheher e Bemisaal