فہیم سلیم
علی ایک نوجوان مسلمان تھا، جو بہتر مستقبل کے لیے اپنے وطن سے دُور دیار غیر میں ملازمت کررہا تھا۔ دل میں عقیدۂ توحید کی روشنی ہمیشہ جلتی آرہی تھی، اس کی زندگی میں آزمائشیں کم نہ تھیں۔ علی جب اس غیر مسلم ملک پہنچا، تو ہر چیز نئی اور عجیب تھی۔ وہاں کے لوگ، ان کے طریقے، کھانے پینے کی عادات، سب کچھ مختلف تھا، لیکن سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ وہ اپنے ایمان کے مطابق عبادت کرنا چاہتا تھا۔ نماز، روزہ، قرآن اور دیگر اعمالِ صالحہ کی پابندی اس کے لیے سب سے بڑا امتحان تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اللہ کی رضا سب سے بڑی نعمت ہے، لیکن ماحول ایسا تھا کہ ہر طرف رکاوٹیں اور مشکلات تھیں۔
رمضان کا پہلا روزہ علی کے لیے سب سے بڑا چیلنج تھا۔ دفتر کے ساتھی کھانے اور پینے میں مشغول تھے اور بعض لوگ اس کی روزہ داری پر ہنستے یا اعتراض کرتے تھے۔ دل پر بوجھ تھا، لیکن علی نے دل میں عزم کرلیا: "یااللہ! میں تیری رضا کے لیے یہ سب برداشت کروں گا۔” روزانہ افطار کے وقت وہ مسجد کے قریب پہنچ کر کھانے سے پہلے دعا کرتا اور نماز میں شامل ہوتا۔ کئی بار تھکن سے بے حال ہوجاتا، لیکن دل میں یقین تھا کہ اللہ ہر مشکل کو آسان کر دے گا۔
ایک دن کمپنی میں بڑے مالی نقصان کا بحران پیدا ہوگیا۔ کئی ساتھی اس کے اوپر الزام لگانے لگے اور بعض نے دھمکیاں تک دیں کہ وہ نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ دل شکستہ ہوا، آنکھوں میں آنسو آئے، لیکن علی نے اپنے رب سے لو لگائے رکھی۔ اس نے دل سے کہا: "یااللہ! میں نے اپنی نیت صاف رکھی ہے، میرا ایمان مضبوط ہے، مجھے اپنے فضل سے بچالے۔ میرے لیے راستے آسان فرما۔”
علی نے تہجد کی نماز پورے اہتمام کے ساتھ پڑھی۔ آنکھیں نم تھیں، دل اللہ کے حضور عاجزی سے بھر گیا۔ ہر لفظ جو اس نے دعا میں کہا، دل کی گہرائی سے نکل رہا تھا۔ اور پھر اللہ کا کرم ہوا۔ اگلے دن کمپنی کے ایک سینئر عہدیدار نے حقیقت جان کر علی کی حمایت کی۔ آڈٹ ہوا تو اصل حقیقت کھلنے لگی، نقصان کی ذمے داری درست انداز میں تقسیم ہوئی اور علی کی محنت اور ایمان داری کی وجہ سے اُس پر لگائے تمام الزامات جھوٹے ثابت ہوئے۔ علی جیسے ورکرز کی وجہ سے کمپنی کی ساکھ بحال ہوئی۔
لیکن یہ صرف ایک واقعہ نہیں تھا، بلکہ مسلسل آزمائشیں علی کی زندگی میں آرہی تھیں۔ علی نے ہر مشکل کا مقابلہ ایمان کے ساتھ کیا۔ ہر پریشانی میں اللہ کی پناہ طلب کی، ہر چیلنج میں صبر اور شکر کا دامن تھامے رکھا۔ ایک دن اسے بیماری نے گھیر لیا، تب بھی اس نے صبر اور دُعا کا دامن نہیں چھوڑا۔ رمضان کے دوران ہونے والی بارشوں میں علی نے محسوس کیا کہ اللہ کی رحمت ہر لمحے موجود ہے، بس ہمیں نظر ڈالنے کی دیر ہے۔
علی کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ ایمان کی طاقت سب سے بڑی ہے۔ چاہے حالات کتنے ہی مشکل ہوں، اللہ سے مضبوط تعلق رکھنے والا انسان کبھی شکست نہیں کھاتا۔ رمضان کا مہینہ خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ اس میں رحمتیں اور برکتیں کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔ ایک نیک نیت انسان کی ہر دعا اس مہینے میں زیادہ اثر رکھتی ہے۔
ایک دن علی نے دیکھا کہ ایک غیر مسلم ساتھی، جو پہلے اس کی روزہ داری پر ہنستا تھا، اب اس کی ثابت قدمی اور ایمان کی روشنی سے متاثر ہورہا تھا۔ اس نے علی سے کہا: "میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ کسی انسان کا ایمان اتنا مضبوط ہوسکتا ہے۔ تمہارے دل کی روشنی دیکھ کر میرا دل بھی سکون محسوس کررہا ہے۔” علی نے دل میں شکر ادا کیا اور سمجھ گیا کہ اللہ کا کرم صرف ہمارے لیے نہیں، بلکہ ہماری نیک نیت دوسروں کے دلوں میں بھی روشنی بکھیرتی ہے۔
رمضان کے آخری عشرے میں علی نے محسوس کیا کہ کس طرح اللہ نے ہر مشکل کو آسان کردیا، ہر پریشانی کے بعد خوشی آئی اور دل میں سکون پیدا ہوا۔ وہ دن یاد ہے جب ایک مالی مسئلہ اتنا پیچیدہ تھا کہ ہر انسان ہار ماننے کو تیار تھا، لیکن علی کی نیت اور ایمان نے مسئلے کو حل کردیا۔ اس کے آنسو خوشی اور شکر کے تھے۔ وہ روتا رہا اور ہر بار دعا میں اللہ کا شکر ادا کرتا رہا۔
یہ کہانی صرف علی کی نہیں، بلکہ ہر مسلمان کے لیے سبق ہے۔ ایمان صرف زبانی کلمات کا نام نہیں، بلکہ عمل، صبر، شکر اور اللہ پر بھروسہ کرنے کا نام ہے۔ مشکل وقت میں اللہ سے مدد طلب کرنا اور اپنی نیت کو صاف رکھنا، وہی حقیقی طاقت ہے جو ہر انسان کو کامیابی اور سکون کی طرف لے جاتی ہے۔
آج بھی اگر ہم دل کے اندر جھانکیں تو دیکھیں گے کہ ہر انسان کی زندگی میں کچھ نہ کچھ آزمائشیں موجود ہیں۔ کچھ مشکلات چھوٹی ہوتی ہیں، کچھ بڑی۔ لیکن علی کی طرح ہر شخص جو اپنے رب سے مضبوط تعلق رکھے، وہ ہر مسئلے کو حل کرسکتا ہے۔ رمضان ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ صرف عبادت اور روزہ نہیں، بلکہ ایمان کی مضبوطی اور دل کی صفائی بھی اہم ہے۔
آخری لمحے میں علی نے دل سے کہا: "یااللہ! میں نے تیری رضا کے لیے صبر کیا، میں نے اپنی نیت صاف رکھی، اب تو میری ہر پریشانی آسان فرمادے۔” اور اللہ نے معجزاتی طور پر اس کے دل کی تمام مشکلات ختم کردیں۔
یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حقیقی ایمان ہر حال میں اللہ کے ساتھ جڑا رہنا ہے۔ چاہے حالات کتنے ہی مشکل ہوں، چاہے دل ٹوٹ جائے، چاہے آنکھوں میں آنسو ہوں، لیکن جب انسان اللہ کی رضا کے لیے صبر کرے اور دعاؤں کا سہارا لے، تو اللہ ہر مشکل کو آسان کردیتا ہے، ہر پریشانی کے بعد خوشی بخشتا ہے اور دل کو سکون عطا کرتا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ایمان پر مضبوط یقین رکھیں۔ مشکل وقت میں صبر اور دعا کریں۔ اللہ کی رضا کے لیے ہر نیک عمل کریں۔ رمضان کی برکات سے دل اور روح کو روشن کریں۔ یاد رکھیں، ہر آنسو اور دعا اللہ کے نزدیک قیمتی ہے۔