حسان احمد
عبدالکریم بستی کا وہ شخص تھا جس کے ماتھے پر ہمیشہ سجدے کا نشان نمایاں رہتا۔ مسجد کی پہلی صف میں اس کی جگہ مقرر تھی، تسبیح اس کے ہاتھ سے کبھی جدا نہ ہوتی اور لوگ اسے نیک، پرہیزگار اور اللہ والا سمجھتے تھے مگر بستی کے چند باشعور لوگ جانتے تھے کہ یہ نیکی صرف ظاہر تک محدود ہے، باطن میں حسد، بغض اور سازشوں کا ایک گہرا اندھیرا آباد تھا۔
عبدالکریم کا سب سے بڑا مسئلہ اس کا پڑوسی سلیم تھا۔ سلیم ایک سیدھا سادہ، محنتی اور دیانت دار شخص تھا۔ اس کی دکان آہستہ آہستہ چل پڑی تھی، لوگ اس پر اعتماد کرتے تھے اور یہی بات عبدالکریم کے دل میں آگ لگادیتی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ سلیم کسی طرح بدنام ہوجائے، اس کا کاروبار تباہ ہوجائے اور لوگ اسے حقیر سمجھنے لگیں۔
عبدالکریم نے شیطانی چالوں کا آغاز کیا۔ کبھی کسی گاہک کے کان میں سلیم کے خلاف بات ڈال دیتا، کبھی اس پر ناپ تول میں کمی کا الزام لگاتا، کبھی یہ افواہ پھیلا دیتا کہ وہ سودی لین دین کرتا ہے۔ زبان سے وہ ہمیشہ کہتا، “اللہ سب جانتا ہے، میں تو صرف خیرخواہی کررہا ہوں۔”
حالانکہ قرآن واضح کہتا ہے: “اور مُکر نہ کرو، بے شک مُکر کرنے والوں کا انجام برا ہوتا ہے۔”
سلیم ابتدا میں پریشان ہوا مگر اس نے صبر کا دامن نہ چھوڑا۔ وہ فجر کے بعد اللہ کے حضور ہاتھ اٹھا کر صرف اتنا کہتا: “یااللہ! اگر میں حق پر ہوں تو میری حفاظت فرما، اور اگر مجھ سے کوئی خطا ہو تو مجھے ہدایت دے۔”
وقت گزرتا گیا۔ عبدالکریم نے اپنی سازشوں کا دائرہ وسیع کردیا۔ اس نے بستی کے ایک سرکاری افسر سے تعلقات بناکر سلیم کے خلاف جھوٹی شکایت درج کروائی۔ کاغذوں میں ردوبدل ہوا، تحقیقات شروع ہوئیں اور سلیم کی دکان سیل کردی گئی۔ بستی کے لوگ حیران تھے مگر سلیم خاموش رہا۔ اس نے کہا: “میرے اور میرے رب کے درمیان جو ہے، وہی کافی ہے۔”
عبدالکریم کو لگا کہ وہ جیت گیا ہے۔ اس کے چہرے پر مصنوعی افسوس اور دل میں شیطانی مسکراہٹ تھی مگر وہ یہ بھول گیا تھا کہ اللہ کی ڈھیل، اللہ کی پکڑ سے زیادہ سخت ہوتی ہے۔ چند ہی مہینوں بعد مارکیٹ میں ایک بڑا مالی آڈٹ شروع ہوا۔ سرکاری افسران نے تمام تاجروں کے حسابات کی جانچ شروع کی۔ عبدالکریم مطمئن تھا، اسے یقین تھا کہ وہ ہر لحاظ سے “صاف” ہے۔ مگر اسے یہ معلوم نہ تھا کہ جس افسر کے ذریعے اس نے سلیم کو پھنسایا تھا، وہی افسر اب اپنے بچاؤ کے لیے سب راز اگلنے والا ہے۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ جھوٹی شکایت، جعلی کاغذات اور رشوت سب عبدالکریم کے کہنے پر ہوئی تھی۔ اس کے مالی حسابات کھنگالے گئے تو سود، ٹیکس چوری اور ناجائز منافع سب سامنے آگیا۔ مسجد کی پہلی صف میں بیٹھنے والا شخص عدالت کے کٹہرے میں کھڑا تھا۔
بستی کے لوگ حیران تھے، کچھ شرمندہ، کچھ خاموش۔ وہی عبدالکریم جسے نیکی کی مثال سمجھا جاتا تھا، اب عبرت کی نشانی بن چکا تھا۔ اس کے بچے سر جھکائے پھرتے تھے، دکان بند ہوچکی تھی اور عزت خاک میں مل چکی تھی۔
ایک دن سلیم اس سے جیل میں ملنے آیا۔ عبدالکریم کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس نے کانپتی آواز میں کہا: “میں نے تمہارے لیے گڑھا کھودا تھا اور خود اسی میں گر گیا۔”
سلیم نے صرف اتنا کہا: “بھائی، میں نے تمہیں کبھی نقصان نہیں پہنچایا، میں نے معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا تھا۔” یہ سن کر عبدالکریم زار و قطار رونے لگا۔ اسے یاد آیا کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: “جس نے کسی مسلمان کے لیے دنیا میں آسانی پیدا کی، اللہ اس کے لیے آخرت میں آسانی پیدا کرے گا اور جس نے تکلیف دی، اللہ اسے نہیں چھوڑتا۔”
عبدالکریم نے پہلی بار سچے دل سے توبہ کی۔ وہ جان چکا تھا کہ عبادت صرف نماز اور تسبیح کا نام نہیں، بلکہ دل کی صفائی، نیت کی درستی اور بندوں کے حقوق ادا کرنے کا نام ہے۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ جو لوگ دوسروں کے لیے گڑھا کھودتے ہیں، وہ اللہ کے نظامِ عدل سے بچ نہیں سکتے۔ ظاہری نیکی، اگر باطن کی اصلاح کے بغیر ہو تو ریاکاری بن جاتی ہے۔ مظلوم کی دعا میں وہ طاقت ہے جو بڑے سے بڑے ظالم کو گرا دیتی ہے۔ صبر اور توکل کبھی ضائع نہیں جاتے۔ اللہ ہمیں دوسروں کے لیے سازشیں کرنے کے بجائے، اپنے اعمال درست کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)۔