مشرقِ وسطیٰ جنگ خطرناک دوراہے پر

مہروز احمد

ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کی شہادت اور اس کے بعد ایران کی جانب سے اسرائیل پر جوابی حملے اس بات کی واضح علامت ہیں کہ خطہ ایک نئے اور زیادہ خطرناک تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ واقعات نہ صرف فریقین کے درمیان کشیدگی کو ظاہر کرتے بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ ایران کے اعلیٰ عہدیدار کی شہادت ایک معمولی واقعہ نہیں۔ ایسے حملے صرف ایک فرد کو نشانہ نہیں بناتے بلکہ ایک ریاست کے وقار، خودمختاری اور سیکیورٹی کو براہِ راست چیلنج کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کی جانب سے فوری اور شدید ردعمل سامنے آیا۔ تاہم، سوال یہ ہے کہ کیا یہ ردعمل مسئلے کا حل ہے یا ایک ایسے سلسلے کی شروعات، جس کا اختتام مزید تباہی پر ہوگا؟ اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، لیکن حالیہ واقعات نے اس تناؤ کو کھلی محاذ آرائی میں بدلنے کا خطرہ پیدا کردیا ہے۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو یہ تصادم نہ صرف دونوں ممالک تک محدود رہے گا بلکہ دیگر علاقائی اور عالمی طاقتیں بھی اس میں شامل ہوسکتی ہیں، جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہوں گے۔
جنگ کی تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ اس کا آغاز تو آسان ہوتا ہے، مگر اختتام ہمیشہ تباہ کن ہوتا ہے۔ انسانی جانوں کا ضیاع، معیشت کی تباہی اور معاشرتی عدم استحکام، یہ سب جنگ کے ناگزیر نتائج ہیں۔ جدید جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں۔ میزائل، ڈرون اور جدید ہتھیار شہری علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں، جس کا سب سے زیادہ نقصان عام لوگوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ بچے، خواتین اور بے گناہ شہری ان تنازعات کا ایندھن بن جاتے ہیں، جن کا فیصلہ انہوں نے کبھی نہیں کیا ہوتا۔ ایران میں اسرائیلی و امریکی حملوں کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 1500 سے زائد ہوچکی ہے، 18 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ایسے حالات میں عالمی برادری کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ، بڑی طاقتیں اور علاقائی تنظیمیں اگر بروقت اور مؤثر کردار ادا نہ کریں تو صورت حال ہاتھ سے نکل سکتی ہے۔ سفارتی کوششیں، مذاکرات اور ثالثی کے عمل کو فوری فعال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھانا اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا ہی وہ واحد راستہ ہے جو مزید خونریزی کو روک سکتا ہے۔ یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا طاقت کے استعمال سے مسائل حل ہوسکتے ہیں؟ تاریخ کا جواب واضح ہے، نہیں۔ طاقت وقتی برتری تو دے سکتی ہے مگر پائیدار امن صرف بات چیت، اعتماد سازی اور انصاف پر مبنی حل سے ہی ممکن ہے۔ ایران اور اسرائیل دونوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مسلسل حملے اور جوابی حملے انہیں کسی حل کے قریب نہیں لے جارہے، بلکہ ایک نہ ختم ہونے والے دائرے میں دھکیل رہے ہیں۔ امن کی راہ آسان نہیں ہوتی، خاص طور پر ایسے خطے میں جہاں دہائیوں سے تنازعات چلے آرہے ہوں، لیکن مشکل راستہ ہی درست راستہ ہوتا ہے۔ قیادت کا اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ جذبات کے بجائے عقل اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرے۔ جنگ کا فیصلہ چند لمحوں میں ہوسکتا ہے، مگر امن کے لیے صبر، حکمت اور مستقل مزاجی درکار ہوتی ہے۔ میڈیا اور عوام کا کردار بھی کم اہم نہیں۔ اشتعال انگیز بیانیہ، نفرت انگیز تقاریر اور یک طرفہ معلومات صورتحال کو مزید بگاڑ سکتی ہیں۔ اس کے برعکس، ذمے دارانہ صحافت اور متوازن گفتگو عوام میں شعور پیدا کرسکتی ہے اور امن کی ضرورت کو اجاگر کرسکتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ الفاظ بھی ہتھیار بن سکتے ہیں، یا تو وہ آگ بھڑکا سکتے یا اسے بجھا سکتے ہیں۔
موجودہ صورت حال میں سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ انسانی جان کو اولین ترجیح دی جائے۔ سیاسی مفادات، علاقائی برتری اور عسکری طاقت اپنی جگہ، مگر انسانیت سب سے بڑھ کر ہے۔ اگر اس اصول کو نظرانداز کیا گیا تو نقصان صرف ایک ملک یا ایک قوم کا نہیں ہوگا بلکہ پوری دنیا اس سے متاثر ہوگی۔ یہ وقت ہے کہ دنیا ایک بار پھر اس بنیادی سوال پر غور کرے۔ کیا ہم تنازعات کو جنگ کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں یا امن کے ذریعے؟ اگر جواب امن ہے، تو پھر اس کے لیے عملی اقدامات بھی کرنے ہوں گے۔ جنگ بندی، مذاکرات، اعتماد سازی کے اقدامات اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری، یہ سب وہ عناصر ہیں جو ایک پائیدار حل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ آخر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ کو ایک اور جنگ کی نہیں بلکہ ایک نئے امن کی ضرورت ہے۔ ایسا امن جو دیرپا ہو، صرف طاقت کے توازن پر نہیں بلکہ انصاف اور باہمی احترام پر قائم ہو۔ اگر عالمی برادری اور متعلقہ فریقین نے اب بھی دانش مندی کا مظاہرہ نہ کیا تو آنے والے دن مزید خطرناک ہوسکتے ہیں۔ یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔ یا تو دنیا ایک اور تباہ کن راستے پر چلے گی، یا پھر عقل، تحمل اور مکالمے کے ذریعے ایک بہتر مستقبل کی بنیاد رکھے گی۔ انتخاب اب بھی ممکن ہے اور شاید یہی آخری موقع بھی ہے۔

Ali Larijani Marytreddangerous crossroadsIranisraelMiddle East ConflictTrumpUSA