رمضان کی روشنی

حسان احمد

ريان ایک عام نوجوان تھا جو ایک چھوٹے محلے میں رہتا تھا۔ اس کے والد بیمار اور نحیف تھے، اس کی والدہ کئی سال پہلے اس دنیا سے رخصت ہوچکی تھی۔ اس نوجوان کی زندگی میں بہت سی مشکلات تھیں مگر یہ حساس اور نیک جذبات رکھنے والا شخص تھا۔ رمضان کے آغاز سے پہلے، ريان کی زندگی میں ایک بے چینی سی چھائی تھی۔ دل اُداس اور بُجھا سا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اللہ کی رحمت اس ماہ میں خاص ہوتی ہے، لیکن وہ خود کو بہتر بنانے اور برائیوں سے بچنے میں ناکام رہتا تھا۔ اس کی جھگڑے، بے صبری اور چھوٹی چھوٹی نقصان دہ عادات نے اس کے دل کو جکڑ رکھا تھا۔
اس مرتبہ رمضان المبارک میں ريان نے خود سے وعدہ کیا کہ اب وہ واقعی بدلے گا۔ اس نے اللہ سے مدد مانگی۔ سحری پر اُٹھا، سحری کی اور اذان کے بعد بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ نماز فجر ادا کی۔ دن بھر بھوک اور پیاس کے باوجود اس کو اپنے جسم میں توانائی کا احساس ہوا، دل میں نئی روشنی اور امید جاگی۔
ایک دن، جب ريان مسجد کے صحن میں بیٹھا تھا، اس کی نظر ایک بوڑھے شخص پر پڑی جو تسبیح پڑھ رہا تھا۔ وہ بزرگ کافی نحیف و نزار تھے۔ ريان نے اُن سے پوچھا، "آپ ہمیشہ یہاں کیسے آتے ہیں؟” بوڑھے نے مسکرا کر جواب دیا، "بیٹا، یہ رمضان ہے۔ یہ مہینہ ہمیں سکھاتا ہے کہ صبر، دعا اور اللہ کی یاد سے ہر مشکل آسان ہوجاتی ہے۔” ریان نے اس بات میں ایک گہرا سبق پایا۔ اس نے طے کیا کہ وہ بھی اپنی زندگی بدلنے کے لیے جدوجہد کرے گا۔ اس نے روزے رکھنے کا سلسلہ جاری رکھا، قرآن کی تلاوت شروع کی اور نمازوں میں پابندی اختیار کی۔ ہر دن، وہ اپنے دل کو صاف کرنے اور بری عادات کو چھوڑنے کی کوشش کرتا رہا۔
رمضان کے درمیانی ہفتے میں، ريان کے والد کی حالت بگڑ گئی۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ والد کی بیماری بڑھ رہی ہے اور دل سے دعا کر رہا تھا، "یا اللہ! میرے والد کی صحت بحال فرما، مجھے طاقت دے اور صبر اور حوصلہ عطا فرما۔” چند دنوں بعد، والد کی حالت میں بہتری آئی۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ والد اب خطرے سے باہر ہیں۔ ريان کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا۔ وہ جان گیا کہ دعا اور صبر کا پھل ہمیشہ ملتا ہے۔
ریان نے محسوس کیا کہ رمضان صرف بھوک اور پیاس کا مہینہ نہیں، بلکہ یہ دل کی تربیت، برائیوں سے بچنے اور اللہ کے قریب جانے کا بہترین وقت ہے۔ اس نے اپنے آپ کو بالکل بدل ڈالا۔ تمام بُرائیوں کو چھوڑ دیا۔
رمضان کے آخری عشرے میں، ريان کی شخصیت مکمل طور پر بدل چکی تھی۔ اب وہ نہ صرف اپنے بلکہ اپنے محلے کے دیگر لوگوں کے لیے بھی روشنی کا ذریعہ بن چکا تھا۔ اس نے اپنے دل سے حسد، غصہ اور بے صبری کو نکال باہر کیا تھا اور ہر کام میں صبر اور محبت کے اصول اپنانے لگا تھا۔
ريان نے یہ سیکھا کہ مشکلات چاہے جتنی بھی بڑی ہوں، صبر، دعا اور ایمان کے ذریعے انسان اپنی تقدیر بدل سکتا ہے۔ وہ اپنے تجربے کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کرنے لگا، تاکہ دوسرے نوجوان بھی اس سے سبق سیکھیں۔ وہ جان گیا کہ حقیقی کامیابی اور خوشی دل کی صفائی اور اللہ کی رضا حاصل کرنے میں ہے، نہ کہ دنیاوی دولت یا شہرت میں۔
اس کے بعد ہر سال ریان اسی جذبے کے ساتھ رمضان کو گزارنے لگا۔ وہ اب جانتا تھا کہ رمضان صرف بھوک اور پیاس کا مہینہ نہیں، بلکہ یہ دل کی تربیت، اخلاقی بہتری اور معاشرتی اصلاح کا موقع ہے۔
چھوٹے چھوٹے اچھے اعمال اور صبر و دعا سے ہر برائی کا مقابلہ ممکن ہے۔ ريان کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زندگی میں کوئی بھی مشکل ہو، صبر، دعا اور ایمان سے ہر مشکل آسان ہوسکتی ہے۔ یہ کہانی ہر مسلمان کے لیے امید، حوصلہ اور روحانی روشنی کا پیغام ہے۔

Light of RamzanRamadan ul Mubarak