لندن: 1912 میں ڈوبنے والے مشہور بحری جہاز ٹائی ٹینک سے بچ جانے والی خاتون مسافر کی لائف جیکٹ برطانیہ میں ریکارڈ قیمت پر نیلام کردی گئی۔
برطانوی آکشن ہاؤس کے مطابق یہ لائف جیکٹ 9 لاکھ 4 ہزار 500 امریکی ڈالر (قریباً 25 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد) میں فروخت ہوئی، جو توقعات سے کہیں زیادہ ہے۔ نیلامی سے قبل اندازہ لگایا گیا تھا کہ اس کی قیمت 3 لاکھ 39 ہزار سے 4 لاکھ 74 ہزار ڈالر کے درمیان رہے گی۔
یہ لائف جیکٹ لورا میبل نامی مسافر کی تھی، جو ٹائی ٹینک کے فرسٹ کلاس کیبن میں سفر کررہی تھیں۔ وہ حادثے کے دوران لائف بوٹ نمبر 1 میں سوار ہوکر محفوظ رہیں۔ اس جیکٹ پر لورامیبل اور دیگر بچ جانے والے افراد کے دستخط بھی موجود ہیں، جس کی وجہ سے اس کی تاریخی اہمیت مزید بڑھ گئی۔
یاد رہے کہ ٹائی ٹینک اپریل 1912 میں اپنے اولین سفر کے دوران برطانیہ سے امریکا جاتے ہوئے بحرِ اوقیانوس میں ایک برفانی تودے سے ٹکرا کر ڈوب گیا تھا۔ اس الم ناک حادثے میں ڈیڑھ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے جب کہ قریباً 700 افراد کو بچالیا گیا۔
خیال رہے کہ ٹائی ٹینک نے دور کا سب سے پرتعیش اور جدید ترین بحری جہاز سمجھا جاتا تھا اور اسے ناقابلِ غرق قرار دیا گیا تھا، تاہم اس کے ڈوبنے نے دنیا بھر کو ہلا کر رکھ دیا۔
حادثے کے کئی دہائیوں بعد، 1985 میں امریکی ماہرِ بحریات رابرٹ بالارڈ اور ان کی ٹیم نے اس کے ملبے کو دریافت کیا، جو اس وقت تک ایک معمہ بنا ہوا تھا۔
نیلامی کرنے والے ادارے کے مطابق ٹائی ٹینک سے جڑی ہر چیز ایک کہانی بیان کرتی ہے اور یہ لائف جیکٹ بھی اسی تاریخی سانحے کی ایک نایاب یادگار ہے۔ اس جیکٹ کو اس سے قبل بلفاسٹ کے ایک میوزیم میں رکھا گیا تھا، تاہم خریدار کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔