پاکستانی سینما کا لافانی ستارہ، اظہار قاضی

احسن لاکھانی

آج 24 دسمبر پاکستان فلم انڈسٹری کے معروف اداکار اظہار قاضی مرحوم کی 18 ویں برسی ہے۔ اظہار قاضی پاکستانی فلم انڈسٹری کے ان منفرد فنکاروں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی اداکاری، دلکش شخصیت اور اسکرین پر موجودگی سے لاکھوں دلوں کو موہ لیا۔ پاکستانی سینما کے سنہری دور میں وہ ایک نمایاں ہیرو کے طور پر ابھرے اور اپنے فنی سفر سے نہ صرف مداحوں کے دل جیتے بلکہ اپنے ہم عصروں کے لیے بھی ایک مثال قائم کی۔ اظہار قاضی 16 ستمبر 1955 کو کراچی میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے ان میں فنون لطیفہ اور اداکاری کی جھلک نمایاں تھی۔ نوجوانی میں انہوں نے مقامی تھیٹر میں کام کرنا شروع کیا، جہاں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا پہلا مظاہرہ کیا۔ ان کے اسٹیج پرفارمنس نے ناصرف انہیں مقامی شہرت دی بلکہ فلم انڈسٹری کے ہنرمند پروڈیوسرز کی توجہ بھی حاصل کی۔
پاکستانی فلم انڈسٹری میں ان کے قدم رکھنے کے بعد، اظہار قاضی نے اپنی محنت اور لگن سے بہت جلد ہی فلموں میں مرکزی کردار حاصل کیا۔ ان کے چہرے کی کشش، دلکش آواز اور قدرتی اندازِ اداکاری نے انہیں دیگر ہیروز سے ممتاز مقام عطا کیا۔ اظہار قاضی نے اپنی فلمی زندگی میں مختلف کردار ادا کیے، جو ان کی فنی وسعت اور تنوع کو ظاہر کرتے ہیں۔ چاہے وہ رومانس ہو، ایکشن، ڈرامہ یا مزاح، اظہار قاضی ہر نوعیت کے کردار میں مکمل طور پر ڈھل جاتے تھے۔ ان کی اداکاری کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ کردار کے ساتھ مکمل ہم آہنگ ہوجاتے تھے، جس سے فلم دیکھنے والے محسوس کرتے تھے کہ یہ کردار حقیقت میں موجود ہے۔ ان کی فلموں میں سب سے زیادہ یادگار رومانس اور ہیرو کے کردار رہے، جہاں ان کی کیمسٹری ہیروئن کے ساتھ بے حد شاندار دکھائی دیتی تھی۔ اسی وجہ سے ان کی فلمیں باکس آفس پر کامیاب رہیں اور وہ جلد ہی نوجوانوں کے دلوں میں چھا گئے۔
اظہار قاضی نے کئی ایسی فلموں میں کام کیا جو پاکستانی سینما کے کلاسکس میں شمار ہوتی ہیں۔ روبی، لوو اِن نیپال، عالمی جاسوس، خزانہ، سر کٹا انسان، انسانیت کے دشمن، زمین آسمان، جنگل کا قانون، پجارو گروپ، منیلا کی بجلیاں، روپ کی رانی، چوروں کا بادشاہ، باغی حسینـہ، عبداللہ دی گریٹ، ہیرو، سخّی بادشاہ میں یہ اپنی اداکاری کے عروج پر نظر آئے۔
ان کی فلموں میں رومانس، ایکشن اور سماجی مسائل پر مبنی کہانیاں شامل تھیں، جو عوامی دلچسپی کا سبب بنتی تھیں۔ ان کی کچھ مشہور فلمیں عوام کے دلوں میں خاص مقام رکھتی ہیں۔ ان کے کردار اکثر دلیر، پرکشش اور بااصول ہوتے تھے، جس کی وجہ سے لوگ ان کی شخصیت کو حقیقی زندگی کے ہیرو کے طور پر دیکھتے تھے۔ فلموں میں ان کی اداکاری اتنی قدرتی اور جاندار تھی کہ وہ ہر سین میں اپنی موجودگی کا لوہا منوا دیتے تھے۔ اظہار قاضی کی اداکاری کی سب سے بڑی خوبی ان کا قدرتی پن اور سادگی تھی۔ وہ بغیر کسی اضافی ڈرامے کے کردار میں ڈھل جاتے اور کردار کے جذبات کو پوری شدت کے ساتھ پیش کرتے۔ ان کے چہرے کے تاثرات، بولنے کا انداز اور جسمانی حرکات ہر کردار کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی تھیں، جس سے فلم میں حقیقت کا احساس پیدا ہوتا۔
اظہار قاضی کی مقبولیت صرف فلمی اسکرین تک محدود نہیں تھی۔ ان کے مداح انہیں روزمرہ زندگی میں بھی بہت عزیز رکھتے تھے۔ ان کی سادگی، خوش اخلاقی اور عوامی رابطے نے انہیں عوامی دلوں میں بسایا۔ پریس اور میڈیا میں بھی ان کی شخصیت کی تعریف کی جاتی رہی اور وہ فلم انڈسٹری کے محترم ہیروز میں شمار کیے جاتے تھے۔ مداحوں کے لیے اظہار قاضی ایک مثالی ہیرو کی شکل میں موجود تھے: نہ صرف دلکش بلکہ اخلاقی اقدار کے حامل بھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آج بھی پرانے پاکستانی سینما کے شائقین کے دلوں میں زندہ ہیں۔
اظہار قاضی نے پاکستانی فلم انڈسٹری میں وہ مقام حاصل کیا جو ہر اداکار کا خواب ہوتا ہے۔ انہوں نے نئی اسٹائل، فنی معیار اور پروفیشنل ازم کے ذریعے فلمی معیار کو بلند کیا۔ ان کی فلموں نے نوجوان اداکاروں کے لیے مثال قائم کی کہ کیسے ہر کردار کو حقیقت کے قریب اور پر اثر انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے۔
اظہار قاضی پاکستانی فلموں کا ایک ایسا ہیرو ہیں جنہوں نے اپنے فن، محنت اور دلکش شخصیت کے ذریعے فلم بینوں کے دلوں میں اپنا مقام بنایا۔ ان کی فلمیں، کردار، اور اداکاری آج بھی شائقین کے لیے یادگار ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ایک اداکار کی کامیابی صرف اس کے خوبصورت چہرے یا جسمانی کشش سے نہیں بلکہ اداکاری کی مہارت، کردار کے ساتھ ہم آہنگی اور عوام سے جڑنے کی صلاحیت سے بھی ہوتی ہے۔ بالآخر پاکستانی فلمی صنعت کا یہ عظیم ہیرو 24 دسمبر 2007 کو ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوگیا۔ پاکستانی فلمی صنعت کے لیے ان کی خدمات کو کبھی بُھلایا نہیں جاسکے گا۔

ActorDeath anniversaryIzhar QaziPakistani film industry