دوسرے ملک منتقلی کا بڑھتا رجحان، سالانہ ساڑھے تین کروڑ لوگ ہجرت کرتے ہیں

کراچی: دنیا بھر میں ہجرت کے رجحان میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران حیران کن اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق سال 2000 کے بعد سے عالمی سطح پر دوسرے ممالک منتقل ہونے والے افراد کی تعداد تقریباً تین گنا ہو چکی ہے۔
ڈیپ لرننگ ٹیکنالوجی کی مدد سے کی گئی تحقیق میں انکشاف ہوا کہ اب ہر سال تقریباً 3 کروڑ 50 لاکھ افراد کسی دوسرے ملک میں جا کر آباد ہوتے ہیں۔
یہ تعداد 1990 میں سالانہ قریباً 1 کروڑ 50 لاکھ جبکہ 2000 میں 1 کروڑ 30 لاکھ کے قریب تھی۔
محققین کا کہنا ہے کہ اہم بات یہ ہے کہ ہجرت کی رفتار اب آبادی میں اضافے سے بھی زیادہ ہو چکی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ متحرک اور نقل مکانی کرنے والی بن گئی ہے۔
اگرچہ 1990 کی دہائی میں عالمی ہجرت میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا لیکن 2000 کے بعد سے دوسرے ممالک منتقل ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد مسلسل بڑھتی رہی ہے۔
البتہ 2008 کے عالمی مالیاتی بحران اور کووڈ-19 وبا کے دوران اس رجحان میں عارضی کمی دیکھی گئی کیونکہ ان ادوار میں عالمی سفر اور نقل و حرکت تقریباً رک گئی تھی۔
تحقیق کے مطابق 1990 میں برطانیہ میں خالص ہجرت (نیٹ مائیگریشن) 65 ہزار 793 تھی، جب 3 لاکھ 20 ہزار 966 افراد ملک میں آئے جبکہ 2 لاکھ 55 ہزار 173 افراد برطانیہ چھوڑ گئے۔
تاہم 2023 تک یہ تعداد 10 گنا سے بھی زیادہ بڑھ گئی، اور نئے آنے والوں نے برطانیہ کی آبادی میں 6 لاکھ 79 ہزار 821 افراد کا اضافہ کیا۔