حسد کی آگ

حسان احمد

شہر کے ایک متمول علاقہ، جہاں رات کی خاموشی بھی کچھ کہانیاں سناتی تھی، وہاں شہروز رہتا تھا۔ وہ ایک باشعور اور بااثر نوجوان تھا، جس کی زندگی میں سب کچھ تھا۔ خوبصورتی، دولت اور ذہانت، لیکن دل کے اندھیروں میں ایک زہر پروان چڑھ رہا تھا، ایک ایسا زہر جو نہ نظر آتا، نہ چھوتا، مگر انسان کو اندر سے کھا جاتا تھا، حسد۔
شہروز کا دوست اور ہم عصر، فرحان محلے کا سب سے زیادہ قابل عزت اور کامیاب نوجوان تھا۔ فرحان کی ہر کامیابی، ہر تعریف، شہروز کے دل میں کانٹے گھونپتی تھی۔ وہ دیکھتا کہ لوگ فرحان کے لیے احترام اور محبت سے بات کرتے ہیں، لیکن شہروز کے لیے وہی لوگ بس مسکرا دیتے اور نظریں جھکادیتے۔ ایک دن شہروز نے خود سے کہا: “یہ سب ناجائز ہے۔ میں فرحان سے بہتر ہوں۔ میں اسے نیچا دکھاؤں گا، چاہے کچھ بھی ہوجائے۔”
یہ وہ لمحہ تھا جب حسد نے شہروز کی روح کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ وہ رات دن فرحان کے خلاف منصوبے بناتا، لوگوں کے ذہنوں میں شک اور غلط تاثر پیدا کرتا اور اپنی ذات کو اعلیٰ مقام پر دیکھنے کی خواہش کرتا۔ شہروز کی زندگی اب محض منصوبہ بندی، جھوٹ اور دشمنی میں گزرتی۔ اس کے اعمال کا اثر محلے میں واضح ہونے لگا۔ فرحان کی نیک نامی پر حرف آنے لگا۔ حالانکہ فرحان نیک دل اور صاف ستھرا انسان تھا۔ وہ کسی کا بُرا نہیں چاہتا تھا۔
شہروز نے یہ نہیں سوچا کہ حسد صرف دوسروں کو نہیں بلکہ اپنی روح کو تباہ کرتا ہے۔ وہ رات کے اندھیرے میں بھی تنہا اور خوف زدہ رہتا، دل میں اضطراب اور بے سکونی کے طوفان اٹھتے۔ وہ جتنا زیادہ فرحان کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتا، اُتنی ہی اپنی زندگی کے قیمتی لمحے ضائع کرتا۔ ایک دن، راہ چلتے ہوئے امام صاحب سے اس کی ملاقات ہوگئی۔ امام صاحب نے شہروز کو کافی عرصے سے نوٹ کررہے تھے۔ انہوں نے علیک سلیک کے بعد شہروز کو نیک اعمال کرنے کی تلقین کی۔ اُسے اچھے کاموں کے کرنے کی جانب رغبت دلائی اور پھر اس کے بعد حسد کے نقصانات بیان فرمائے۔ امام صاحب نے قرآن کی آیات اور احادیث کا حوالہ دیا۔ (ترجمہ) “حسد انسان کے دل اور اعمال دونوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور جو اللہ کی ہدایت سے ہٹتا ہے، وہ خسارے میں رہتا ہے۔”
شہروز کے دل پر امام صاحب کی باتیں زوردار دھماکے کی طرح لگیں۔ پہلی بار اس نے اپنے اعمال کا تجزیہ کیا۔ اسے احساس ہوا کہ اس کے حسد نے نہ صرف فرحان بلکہ اس کی اپنی روح، جسم اور مستقبل کو بھی زہر آلود کردیا ہے۔ اس رات شہروز نے پہلی بار سچے دل سے دعا کی:
“اے اللہ! میں نے اپنی جان، ایمان اور محلے کی عزت سب کچھ حسد کے زہر میں ضائع کردیا۔ مجھے معاف فرما اور سیدھی راہ دکھا۔”
یہ دعا ایک نئے آغاز کی طرف اشارہ تھی۔ شہروز نے سخت محنت شروع کی۔ وہ جھوٹ اور افواہوں سے باز آیا، محلے کے لوگوں کے ساتھ اپنے تعلقات درست کرنے لگا اور اللہ کے قریب ہونے کے لیے عبادت میں وقت گزارنے لگا۔ شروع میں تبدیلی آسان نہ تھی۔ شہروز کو اکثر اپنے اندر دوبارہ حسد کی خواہش محسوس ہوتی اور فرحان کی کامیابیاں دوبارہ اس کے دل کو جلانے لگتی تھیں، لیکن شہروز نے قرآن کی آیات اور دعا کے ذریعے اپنے دل کو قابو میں رکھا۔ اس نے یہ سمجھ لیا کہ حسد صرف وقتی سکون دیتا ہے، لیکن اندرونی سکون اور روحانی سکون ایمان اور صبر سے حاصل ہوتا ہے۔
مہینوں کی محنت کے بعد شہروز نے اپنی زندگی میں واضح فرق محسوس کیا۔ اس کے دل کی بے سکونی ختم ہوئی، جسم اور دماغ تندرست ہوگئے۔ وہ نیک عمل کرتا اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتا۔ مثبت سوچ نے اُس میں کافی نکھار پیدا کر ڈالا تھا۔ محلے کے لوگ بھی اُس کے اس رویے سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ فرحان نے بھی شہروز کی تبدیلی دیکھی اور اسے معاف کردیا۔
یہ کہانی ہر اُس انسان کے لیے سبق ہے جو حسد کی آگ میں جل رہا ہے، انسان کی اصل طاقت صبر، ایمان اور اللہ کی رضا کی تلاشمیں ہے، نہ کہ دوسروں کو نیچا دکھانے میں۔ حسد ہر انسان کے دل اور اعمال کے لیے زہر ہے۔ قرآن میں واضح ہے کہ حسد کرنے والے خسارے میں رہتے ہیں اور اللہ کی ہدایت سے دور ہوجاتے ہیں۔ استغفار، دعا اور اچھے اعمال کے ذریعے حسد کے زہر سے نجات ممکن ہے۔ دوسروں کی کامیابی کو خوشی اور نیکی کے مواقع کے طور پر دیکھنا دل اور روح کو مضبوط کرتا ہے۔
شہروز کی کہانی واضح پیغام ہے کہ حسد صرف تباہی لاتا ہے، لیکن ایمان، صبر اور اللہ کی یاد دل اور روح کو پاک کر سکتی ہے۔ زندگی کی حقیقی کامیابی دوسروں کو نیچا دکھانے میں نہیں بلکہ اللہ کی رضا اور نیک اعمال میں ہے۔

EnvyislamStory