نسلوں کی بحث: الزام نہیں، تسلسل

ہر دور، ہر نسل ایک مخصوص ماحول، حالات اور چیلنجز کے زیرِ اثر پروان چڑھتی ہے۔ بیبی بومرز (Baby Boomers) ہوں، جین ایکس (Generation X)، ملینیئلز(Millennials)، جین زی (Generation Z) یا جین الفا (Generation Alpha)، کوئی نسل فرشتوں پر مشتمل نہیں ہوتی اور نہ ہی مکمل طور پر ناکارہ افراد کا مجموعہ۔ ہر نسل میں بہترین لوگ بھی ہوتے ہیں اور کمزوریاں رکھنے والے بھی اور یہی انسانی معاشروں کا فطری حسن اور المیہ ہے۔
اسی لیے کسی ایک نسل کو مکمل طور پر موردِ الزام ٹھہرانا اور دوسری کو حد سے زیادہ سراہنا نہ دانش مندی ہے اور نہ ہی انصاف۔ یہ سوال ہمیں خود سے ضرور پوچھنا چاہیے کہ پاکستان کس نے بنایا؟ ہمیں ایٹمی طاقت کس نے بنایا؟ کن لوگوں نے اپنی محنت، وسائل اور بعض اوقات اپنی زندگیاں قربان کرکے نئی نسلوں کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کیے۔ چاہے وہ اندرونِ ملک ہوں یا بیرونِ ملک؟
یہ درست ہے کہ ماضی میں بہت سی غلطیاں ہوئیں، کمزور فیصلے بھی کیے گئے، اور بعض مواقع ضائع بھی ہوئے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسی سرزمین کو بیبی بومرز اور جین ایکس کی بے مثال قربانیوں نے محفوظ رکھا۔ عزیز بھٹی شہید، شبیر شریف شہید اور قوم کے فخر ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے محسن، یہ سب اسی تسلسل کا حصہ تھے، جس نے پاکستان کو شناخت دی۔
نئی نسل، خصوصاً جینز زی اور جینز الفا، سے امیدیں وابستہ ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ جدید دور کے تقاضوں کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں، نئی ٹیکنالوجی، نئی سوچ اور عالمی تناظر کے ساتھ آگے بڑھیں گے اور ان شاء اللہ ملک کو درست سمت میں لے جائیں گے۔ لیکن یہ سب کچھ پچھلی نسلوں کو مکمل طور پر رد کیے بغیر بھی ممکن ہے۔
قومیں ریلے ریس کی طرح ہوتی ہیں۔ ایک نسل دوڑتی ہے، پھر اگلی نسل کے ہاتھ میں بیٹن تھما دیتی ہے۔ اصل کامیابی یہ نہیں کہ پچھلے دوڑنے والے کو گرا دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ بیٹن مضبوطی سے پکڑ کر پہلے سے تیز اور درست سمت میں دوڑا جائے۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایک دوسرے کو سمجھنے، برداشت کرنے اور مل کر آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اللہ ہم سب کے ساتھ ہو۔ آمین۔
اور اس ساری بحث کو سمیٹتا ہوا یہ شعر ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے:
ہم ان سب کتابوں کو قابلِ ضبطی سمجھتے ہیں
جنہیں پڑھ کر بیٹے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں
(اکبر الٰہ آبادی)

ContinuityDebate of GenerationsNot Blame