حرام کا انجام

وقاص بیگ

شہر کے ایک مصروف بازار میں یاسر کی دکان تھی۔ بظاہر وہ نہایت شریف، ملنسار اور دین دار دکھائی دیتا تھا۔ پیشانی پر سجدے کا نشان، زبان پر میٹھی باتیں اور ہاتھ میں تسبیح، لوگ اسے قابلِ اعتماد سمجھتے تھے۔ مگر اس ظاہری دین داری کے پیچھے ایک ایسی سیاہ کہانی چھپی تھی جو آہستہ آہستہ کئی گھروں کو برباد کررہی تھی۔ یاسر کا کاروبار اصل میں اعتماد کی فروخت پر چلتا تھا۔ وہ لوگوں کو منافع کے سبز باغ دکھاتا، شراکت داری کے نام پر رقم لیتا اور پھر وہ پیسہ اپنی عیاشیوں پر لگا دیتا۔ اس کا اصول تھا: “جب تک لوگ سوال نہ کریں، تب تک سب حلال لگتا ہے۔”
ایک دن اس کے پاس اس کا پرانا دوست، نعمان آیا۔ نعمان محنت کش تھا، جس نے برسوں کی مزدوری کے بعد کچھ رقم جوڑی تھی تاکہ اپنے بچوں کا مستقبل بہتر بنا سکے۔ یاسر نے اسے یقین دلایا کہ اگر وہ یہ رقم کاروبار میں لگادے تو چند مہینوں میں دگنی ہوجائے گی۔ نعمان نے دو رکعت نفل پڑھ کر اللہ پر بھروسا کیا اور اپنی جمع پونجی یاسر کے سپرد کردی۔
قرآن کہتا ہے: “اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔” (النساء: 29) مگر یاسر اسلامی تعلیمات پر عمل کہاں کرتا تھا وہ تو دین کے مخالف عمل کے ذریعے عیاشی کرنے میں مصروف تھا۔
وقت گزرتا گیا۔ نعمان بار بار منافع پوچھتا مگر ہر بار نیا بہانہ سننے کو ملتا، کبھی مارکیٹ خراب، کبھی پارٹنر کی بددیانتی، کبھی سرکاری رکاوٹ۔ اصل میں یاسر نعمان کی رقم سے نئی گاڑی لے چکا تھا اور بیرونِ ملک سیر بھی کر آیا تھا۔
یہی نہیں، یاسر نے کئی اور لوگوں کو بھی اسی جال میں پھنسایا، کسی کی بیٹی کے جہیز کے پیسے، کسی کی بیوی کے علاج کی رقم، کسی یتیم کا حق۔ اس کا دل سخت ہوچکا تھا۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان عالی شان ہے: “جس نے دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔”(مسلم)
مگر دھوکے باز کو دھوکا اکثر دیر سے سمجھ آتا ہے۔ ایک رات یاسر کو شدید بے چینی نے آ لیا۔ نیند غائب تھی، دل گھبرا رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ وہ خواب میں ایک تنگ قبر میں ہے، جہاں آگ کے شعلے لپک رہے ہیں اور آواز آرہی ہے: “یہ اُن کا مال ہے جو تُو نے ناحق کھایا تھا!” وہ چیخ کر اٹھ بیٹھا، پسینے میں شرابور مگر صبح ہوتے ہی اس نے اس خواب کو محض وہم سمجھ کر نظرانداز کر دیا۔
چند ہی دنوں بعد حالات نے پلٹا کھایا۔ یاسر کا ایک بڑا فراڈ سامنے آگیا۔ متاثرین نے مل کر شکایت درج کرادی۔ پولیس آئی، دکان سیل ہوگئی، اکاؤنٹس منجمد ہوگئے۔ وہی لوگ جو کبھی سلام میں پہل کرتے تھے، اب نظریں چُرا رہے تھے۔
نعمان عدالت کے باہر کھڑا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر لہجے میں بددعا نہیں، صرف درد تھا: “یاسر، میں نے تم پر بھروسا کیا تھا، اللہ تمہیں ہدایت دے۔”
یہ جملہ یاسر کے دل میں تیر کی طرح لگا۔ وہ پہلی بار واقعی ٹوٹا۔ جیل کی سلاخوں کے پیچھے، اکیلی راتوں میں، یاسر کو اپنا ماضی ایک ایک کرکے یاد آنے لگا۔ وہ دعائیں جو اس نے لوگوں کے سامنے کیں، وہ صدقہ جو اس نے دکھاوے کے لیے دیا اور وہ مال جو اس نے حرام طریقے سے کمایا، سب اس کے سامنے کھڑا تھا۔ وہ رو پڑا۔ “اے اللہ! میں نے ظلم کیا، میں نے تیرے بندوں کا حق مارا، مجھے معاف کر دے۔”
نبی ﷺ کا فرمان ہے: “ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب بنے گا”(بخاری)
رہائی کے بعد یاسر کے پاس نہ دکان تھی، نہ عزت، نہ دولت مگر اس کے دل میں ندامت تھی۔ اس نے ایک ایک متاثرہ شخص سے معافی مانگنے اور رقم لوٹانے کی کوشش شروع کی۔ کئی لوگوں نے معاف کردیا، کچھ نے نہیں مگر یاسر نے صبر کیا، کیونکہ وہ جان چکا تھا کہ حقوق العباد کا معاملہ اللہ بھی تب تک معاف نہیں کرتا جب تک بندہ خود معاف نہ کردے۔ بہرحال اُس کی جانب سے تمام افراد کی رقم لوٹادی گئی۔ اس میں کافی سال لگے۔ یاسر اب اپنے گناہوں سے تائب ہوکر نیک نامی کی زندگی گزارنے لگا۔
برسوں بعد، یاسر ایک چھوٹے سے مدرسے میں بچوں کو ایمان داری اور حلال کمائی کا سبق دیتا نظر آیا۔ اس کے چہرے پر وہ چمک نہ تھی جو کبھی دولت سے آئی تھی، مگر سکون تھا، جو صرف توبہ سے ملتا ہے۔ یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ: حرام وقتی آسائش تو دے سکتا ہے مگر انجام ذلت، رسوائی اور عذاب کے سوا کچھ نہیں۔ اللہ ہمیں حلال کمانے، امانت داری اختیار کرنے اور دوسروں کے حقوق کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)۔

islamThe Consequence of Haram