دانیال جیلانی
شہر کی چکاچوند میں رہنے والا، بلند و بالا عمارت کے پچیسویں فلور پر پُرتعیش اپارٹمنٹ کا مالک، اسلم خان، خود کو ایک روشن خیال، ترقی پسند اور حقیقت پسند سمجھتا تھا۔ وہ ان لوگوں میں سے تھا جو ہر چیز کو مادی ترازو میں تولتے تھے۔ اس کے لیے حب الوطنی ایک پرانا فیشن تھا۔ جب بھی خبروں میں کسی شہید کا تذکرہ ہوتا، کسی سرحد پر جھڑپ کی خبر آتی، یا کسی جنازے کی تصاویر نظر آتیں، اسلم خان کی زبان پر طنز تیار رہتا تھا۔ یہ لوگ صرف تنخواہ دار ملازم ہیں،” وہ اپنے دوستوں کی محفل میں قہقہہ لگاتے ہوئے کہتا۔ "انہیں معلوم تھا کہ اس نوکری میں جان کا خطرہ ہے۔ اس میں شہادت کا ڈھونگ کیا؟ یہ تو ان کا کام تھا۔” اسلم کا حلقہ احباب اس کی دولت اور اثر و رسوخ کی وجہ سے خاموشی سے یہ سب سنتا تھا۔ کچھ اسے خاموشی سے کوستے، مگر اس کے منہ پر کوئی کچھ کہنے کی جرأت نہیں کرتا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ وہ سچ بول رہا ہے، کہ وہ اس جذباتیت سے پاک ہے جو عام لوگوں کو اندھا کردیتی ہے۔ اس کے لیے سرحد پر مرنے والا سپاہی صرف ایک شماریاتی عدد (statistical figure) تھا۔
ایک بار، ایک تقریب میں، ایک ریٹائرڈ کرنل نے بڑی عقیدت سے ایک شہید سپاہی کا ذکر کیا، اُسے بھرپور خراج عقیدت پیش کیا تو یہ بات اسلم کو ذرا اچھی نہیں لگی، اُس نے اپنے دوستوں کی محفل میں اُس کا انتہائی بھونڈے انداز میں تذکرہ کیا۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ جب وہ اپنے ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں آرام سے سوتا ہے، تو کوئی اس کی نیند کا پہرہ دے رہا ہوتا ہے۔
دن گزرتے گئے اور اسلم کی یہ عادت پختہ ہوتی گئی۔ وہ سوشل میڈیا پر بھی مختلف موضوعات پر انتہائی نامناسب جملے لکھتا۔ اس کے لیے یہ سب کچھ ایک تفریح تھا، خود کو دوسروں سے الگ اور ذہین ثابت کرنے کا ایک طریقہ۔ پھر ایک دن، قدرت نے اپنا کھیل کھیلا۔ اسلم خان اپنے بزنس پارٹنرز کے ساتھ ایک مہم جوئی پر نکلا۔ وہ ملک کے دور دراز، دشوار گزار شمالی علاقے میں ٹریکنگ کے لیے گئے تھے۔ یہ وہ علاقہ تھا جہاں بلند و بالا پہاڑ اور بے رحم فطرت حکمرانی کرتی تھی۔ اسلم بہت خوش تھا، اسے لگا کہ یہ اس کے روشن خیال تجربات میں ایک نیا باب ہوگا۔
لیکن، موسم نے اچانک پلٹا کھایا۔ ایک شدید برفانی طوفان نے انہیں گھیر لیا۔ وہ اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گیا اور راستہ بھول گیا۔ اس کی جی پی ایس ڈیوائس بھی کام کرنا چھوڑ گئی۔ شدید ٹھنڈ، کم آکسیجن اور ہر طرف برف کا سمندر۔ اسلم کی تمام دولت، تمام روشن خیالی اور تمام تکبر اس بے رحم برف میں کہیں دب گیا۔ وہ کئی گھنٹوں تک بے مقصد بھٹکتا رہا۔ اس کا جسم آہستہ آہستہ ٹھنڈا پڑ رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ اب اس کا آخری وقت قریب ہے۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی پوری زندگی گھوم گئی۔ اس کے عالی شان اپارٹمنٹ، اس کی گاڑیاں، اس کی دولت۔ اسے اب یہ سب کچھ بے معنی لگ رہا تھا۔ اسے شدید پچھتاوا ہوا کہ اس نے اپنی زندگی صرف دولت کمانے میں ضائع کر دی۔
پھر، اسے دور سے کچھ حرکت نظر آئی۔ اسلم نے آخری کوشش کی اور اپنی بے جان ٹانگوں کو گھسیٹتا ہوا اس طرف بڑھا۔ اس نے دیکھا کہ وہاں ایک فوجی چوکی ہے۔ یہ چوکی بہت چھوٹی اور خستہ حال تھی، مگر اسلم کے لیے وہ جنت سے بڑھ کر تھی۔ وہاں دو سپاہی موجود تھے۔ وہ سپاہی اسلم کو دیکھتے ہی چوکی سے باہر نکلے۔ وہ اسلم کی حالت دیکھ کر فوراً اسے اندر لے گئے۔ انہوں نے اسے گرم کپڑے دیے، اسے آگ کے پاس بٹھایا اور گرم چائے دی۔ ان میں سے ایک سپاہی، جس کا نام علی تھا، بہت کم عمر تھا۔ طوفان باہر زوروں پر تھا۔ وہ سپاہی اسلم کا بہت خیال رکھ رہے تھے۔ اسلم نے دیکھا کہ وہ خود بھی بہت مشکلات میں تھے۔ ان کے پاس راشن کم تھا اور چوکی میں سہولتیں بھی نہ ہونے کے برابر تھیں۔ پھر بھی، ان کے چہروں پر کوئی شکایت نہیں تھی۔ وہ بڑی باوقار خاموشی سے اپنا فرض نبھا رہے تھے۔
اچانک، علی نے کچھ سنا۔ "طوفان بڑھ رہا ہے، صاحب،” اس نے اپنے ساتھی سے کہا۔ "دوسری چوکی سے رابطہ نہیں ہو رہا۔”
اس کے ساتھی نے اسے روکا، مگر علی نہ مانا۔ "مجھے جانا ہوگا، صاحب۔ وہاں ہمارے بھائی مشکل میں ہوں گے۔” علی نے اپنا بیگ تیار کیا اور جانے لگا۔ اسلم نے اسے روکنے کی کوشش کی۔ "اس طوفان میں باہر جانا موت کو دعوت دینا ہے! مت جاؤ!”
علی نے اسلم کی طرف دیکھا اور مسکرایا۔ "یہ موت نہیں، صاحب، یہ فرض ہے۔” اور علی طوفان میں غائب ہوگیا۔ اسلم اور دوسرا سپاہی ساری رات علی کے واپس آنے کا انتظار کرتے رہے۔ طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ اسلم کو علی کی وہ مسکراہٹ یاد آرہی تھی۔ وہ مسکراہٹ جس میں نہ کوئی تکبر تھا، نہ کوئی لالچ۔ اس مسکراہٹ میں صرف ایک پاک جذبہ تھا، قربانی کا جذبہ۔
صبح ہوئی تو طوفان تھم گیا۔ علی واپس نہیں آیا۔ وہ دوسری چوکی تک پہنچ گیا تھا اور وہاں موجود سپاہیوں کو بچالیا تھا، مگر خود واپس آتے ہوئے برفانی تودے کی زد میں آ گیا۔ اسلم خان جب اس چوکی سے واپس آیا، تو وہ اب وہ اسلم خان نہیں رہا تھا۔ اس کی وہ مغرورانہ ہنسی غائب ہوگئی تھی۔ اسے سمجھ آ گیا تھا کہ شہادت کوئی ڈھونگ نہیں، کوئی بے وقوفی نہیں۔ شہادت اس عظیم محبت کا نام ہے جس میں انسان اپنی جان سے بھی زیادہ کسی اور چیز سے محبت کرتا ہے- اپنے وطن سے، اپنے لوگوں سے۔
اسلم خان نے اب ایک نیا مقصد پالیا تھا۔ اس نے اپنی دولت کا ایک بڑا حصہ مستحقین کی مدد کے لیے وقف کردیا۔ وہ اب ہر سال شہدا کی قبروں پر جاتا اور پھول چڑھا کر خاموشی سے روتا۔ اسے اب ہر شہید کے چہرے پر علی کی وہ مسکراہٹ نظر آتی تھی۔
اس کا ضمیر اب اس کے تکبر کا بوجھ نہیں اٹھا رہا تھا، بلکہ ایک گہری پشیمانی اور ایک عظیم جذبے کی عقیدت کا بوجھ اٹھا رہا تھا۔ اسے سمجھ آ گیا تھا کہ اسلم خان تو پچیسویں فلور کے اپارٹمنٹ میں رہتا ہے، مگر اس کی نیند کا پہرہ علی جیسے سپاہی دیتے ہیں، وہ سپاہی جن کے لیے موت صرف ایک فرض ہے۔