دہشت گرد ناکام، پاکستان کا بھرپور جواب

مہروز احمد

پاکستان فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے اور اس حوالے سے اس کی کاوشیں کسی سے پوشیدہ نہیں۔ پاکستان کی سلامتی ہمیشہ سے خطے میں استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی رہی ہے۔ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات میں جب دہشت گردی کی خطرناک لہر ہمارے ملک اور خطے میں پھیلی ہوئی ہے، سرحدوں کی حفاظت اور دہشت گردی کے خلاف موثر کارروائیاں پاکستان کی قومی ترجیحات میں سب سے اوّل ہیں۔ گزشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی جانب سے فراہم کردہ معلومات سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے افغان سرحد پر دہشت گردوں کی پیش قدمی کو مکمل طور پر ناکام بناکر اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ دو اور تین اپریل کی درمیانی رات شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقے غلام خان سیکٹر میں افغان طالبان کی جانب سے ایک سرحدی چوکی پر حملے کی کوشش پاکستان کی فوج نے بروقت اور مؤثر کارروائی سے ناکام بنادی۔ اس کارروائی میں 37 دہشت گرد ہلاک جب کہ 80 سے زائد زخمی ہوئے۔ یہ پاکستان کی سرحدی دفاع کی مضبوطی اور اس عزم کا ثبوت ہے کہ کوئی بھی دہشت گرد پاکستانی زمین پر قبضہ یا حملے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ یہ کارروائی نہ صرف پاکستان کی سرحدی حفاظت کی مظہر ہے بلکہ اس سے یہ پیغام بھی جاتا ہے کہ پاکستان اپنے عوام، اپنی سرزمین اور قومی مفادات کے تحفظ میں ہر حال میں کامیاب رہے گا۔ وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق، افغانستان میں جاری آپریشن غضب للحق میں اب تک 796 دہشت گرد ہلاک ہوچکے ہیں اور 1043 زخمی ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاک فوج دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف مکمل طور پر منظم اور مؤثر کارروائیاں کررہی ہے۔
دہشت گردوں کے خلاف یہ کامیاب کارروائیاں نہ صرف سرحدی علاقوں میں امن قائم کرنے کے لیے ہیں بلکہ یہ اس بات کو بھی یقینی بناتی ہیں کہ افغانستان کی زمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد مقاصد کے لیے استعمال نہ ہو۔ یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ بھی ہے، کیونکہ پاکستان کی سرحد پر عدم تحفظ خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ افغانستان میں موجود دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے ٹھکانوں پر کارروائی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی فوج ہر محاذ پر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تیار ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت اور مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ آپریشن کے دوران اب تک 286 چوکیاں تباہ کی گئی ہیں اور 44 چوکیاں قبضے میں لی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ 249 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، توپیں اور ڈرون تباہ کردیے گئے ہیں۔ افغانستان بھر میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے 81 ٹھکانوں کو مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا۔ یہ تمام اعداد و شمار پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، درست منصوبہ بندی اور قومی سلامتی کے لیے عزم کا عملی ثبوت ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ افغانستان میں اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ اس طرح کے اقدامات یقینی بنائے جائیں کہ اس کی سرزمین کبھی بھی پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔ اس سلسلے میں پاکستان کی پالیسی ہمیشہ دفاعی اور حفاظتی رہی ہے، لیکن حالیہ پیش رفت سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدی تحفظ کے لیے کسی بھی ممکنہ خطرے کے خلاف عملی اقدامات کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ یہ صورت حال خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ دہشت گردی اور غیر قانونی سرگرمیوں کی اجازت کسی بھی حالت میں نہیں دی جائے گی۔ پاکستان کی سرحدی علاقوں میں مضبوط اور مؤثر موجودگی نہ صرف دہشت گردوں کو پاکستان کے خلاف سرگرمیوں سے روکتی ہے، بلکہ یہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے بھی ایک اہم قدم ہے۔ سرحدی علاقوں میں محفوظ ماحول، تجارتی راستوں کی حفاظت اور عوام کی زندگیوں کی سلامتی یقینی بنانا پاکستان کی قومی ترجیح ہے۔
پاکستان کی فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور مؤثر کارروائیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ملک اپنے عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکنہ اقدام کررہا ہے۔ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر پاکستان نے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کے خلاف کسی بھی جارحیت کو برداشت نہیں کرے گا۔ یہ اقدامات نہ صرف ملکی دفاع بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ اور اعتماد کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، پاکستان کی حکومت کی جانب سے پاک فوج کے لیے جدید آلات، ٹیکنالوجی اور تربیت فراہم کرنا اس بات کی ضمانت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں مؤثر اور وقت پر انجام پائیں۔ پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ سرحدی علاقوں میں موجود خطرات کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے، تاکہ عوام کی زندگیوں اور ملکی معیشت کو محفوظ بنایا جاسکے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان کے لیے دہشت گردی کے خلاف مضبوط اور مستحکم اقدامات نہ صرف ملکی دفاع بلکہ خطے میں امن، استحکام اور تزویراتی توازن کے لیے بھی لازمی ہیں۔ افغانستان کی سرزمین پر دہشت گرد سرگرمیوں کی اجازت کسی بھی صورت میں نہیں دی جانی چاہیے اور پاکستان کو ہر سطح پر یہ یقینی بنانا ہوگا کہ اس کی سرحدیں محفوظ رہیں۔ پاکستان کی مضبوط مسلح افواج، جدید حکمت عملی اور عزم کے ساتھ یہ یقین دہانی کراتی ہیں کہ ملک کی سلامتی ہمیشہ اولین ترجیح رہے گی اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔