لاہور: پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان کی شرکت کا فیصلہ چند روز بعد ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد چیئرمین پی سی بی نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ ورلڈکپ میں شرکت کا حتمی فیصلہ جمعہ یا آئندہ پیر کو کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
ملاقات میں بنگلادیش کو میگا ایونٹ سے باہر نکالے جانے سمیت دیگر امور زیر غور آئیں گے۔ پاکستان احتجاجاً ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرسکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار کی تجویز بھی ہے جب کہ پاکستانی ٹیم کے ورلڈکپ کے میچز میں سیاہ پٹیاں باندھ کر شرکت کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔
ورلڈکپ میچز کی جیت کو بنگلادیش کرکٹ فینز کے نام کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ بنگلادیشی کھلاڑی کو سیکیورٹی وجوہ کا بہانہ بناکر آئی پی ایل سے نکالے جانے کے بعد بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنی ٹیم کو بھارت بھیجنے سے منع کردیا تھا۔
بنگلادیش نے مؤقف اپنایا کہ جس ملک کے سیکیورٹی اداروں سے ہمارے ایک کھلاڑی کی حفاظت ممکن نہیں وہاں پوری ٹیم کو سیکیورٹی کیسے فراہم کی جائے گی۔
تاہم آئی سی سی نے دہرا معیار اپناتے ہوئے بنگلادیشی مؤقف کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور بنگلادیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرلیا۔
چیئرمین پی سی بی نے بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے بھارت میں نہ کھیلنے کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بنگلادیش کا مؤقف اصولوں پر مبنی ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ آئی سی سی کے دہرے معیار کو مسترد کرتا ہے۔
دوسری جانب بھارت میں پھیلنے والے خطرناک وائرس نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا انعقاد پہلے ہی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
بھارت کے مغربی بنگال میں دو نرسز اور ایک ڈاکٹر سمیت پانچ افراد میں نیپا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جن کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔
یہ خطرناک وائرس 7 فروری کو شروع ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے انعقاد سے چند ہفتے پہلے ہی پھیلنا شروع ہوا ہے۔
اگر وائرس کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے ایونٹ کی تیاریوں، لاجسٹکس اور سیکیورٹی انتظامات پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔