دانیال جیلانی
بلوچستان، جو ہمیشہ سے پاکستان کی جغرافیائی، اسٹرٹیجک اور معاشی اہمیت کا حامل صوبہ رہا ہے، گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی اور بیرونی مداخلت کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانا دشمن قوتوں کی وہ گھناؤنی حکمتِ عملی رہی ہے، جس کا مقصد نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان میں خوف، انتشار اور بدامنی پھیلانا ہے۔ ایسے نازک حالات میں آپریشن ردّالفتنہ ون پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ایک فیصلہ کن، مربوط اور تاریخی اقدام کے طور پر سامنے آیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں آپریشن ردّالفتنہ ون کامیابی سے مکمل کرلیا، جس کے نتیجے میں 216 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا۔ یہ آپریشن بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مربوط، تیز رفتار اور انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں پر مشتمل تھا، جس کا بنیادی مقصد بلوچستان کے امن و استحکام کو یقینی بنانا تھا۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق 29 جنوری 2026 کو مصدقہ اور قابلِ اعتماد انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر پنجگور اور ضلع ہرنائی کے مضافاتی علاقوں میں آپریشنز کا آغاز کیا گیا۔ ان علاقوں میں دہشت گرد عناصر کی موجودگی سے مقامی آبادی کو شدید اور فوری خطرات لاحق تھے۔ دہشت گردوں کا واضح ہدف معصوم شہریوں کو نشانہ بناکر خوف و ہراس پھیلانا اور ترقیاتی عمل کو سبوتاژ کرنا تھا۔ آپریشن کے ابتدائی مرحلے میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں بھارتی پراکسی نیٹ ورکس سے وابستہ 41 دہشت گرد مارے گئے۔ اس کارروائی نے دشمن کے نیٹ ورک کو پہلا بڑا دھچکا پہنچایا اور ان کی عملی صلاحیت کو شدید متاثر کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے جرأت مندانہ اور پُرعزم ردعمل نے فتنہ الہندوستان کی جانب سے بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کی منظم کوششوں کو ناکام بنادیا۔ اس کے تسلسل میں مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے سلیپر سیلز کے خاتمے کے لیے وسیع پیمانے پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، کومبنگ اور کلیئرنس کارروائیاں کی گئیں۔ منصوبہ بندی، قابلِ عمل انٹیلی جنس اور مربوط مشترکہ کارروائیوں کے ذریعے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے مثالی ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا۔ انہی فیصلہ کن اقدامات کے نتیجے میں آپریشن ردّالفتنہ ون کے تحت دہشت گرد نیٹ ورکس کی قیادت، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور لاجسٹک صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔
کلیئرنس آپریشنز کے نتیجے میں مجموعی طور پر 216 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر ملکی ساختہ اسلحہ، وافر گولا بارود، دھماکا خیز مواد اور دیگر خطرناک آلات کا ایک بڑا ذخیرہ بھی برآمد کیا گیا۔ ابتدائی معلومات سے یہ شواہد سامنے آئے ہیں کہ دہشت گردوں کو منظم بیرونی معاونت اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کی جارہی تھی، جو دشمن کی مداخلت کا واضح ثبوت ہے۔ یہ کامیابی محض ایک عسکری فتح نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان کی خودمختاری، سلامتی اور قومی وقار کے تحفظ کی علامت ہے۔
اس آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیوں میں 36 معصوم شہری شہید ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وطن کے دفاع میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 22 بہادر جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق ان شہداء کی جرأت، پیشہ ورانہ مہارت اور غیر متزلزل عزم اعلیٰ عسکری روایات کا مظہر ہے۔ پوری قوم ان عظیم قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے اور شہداء کے اہلِ خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے فتنہ الہندوستان کی جانب سے بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی مذموم کوشش ناکام ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیرونی پشت پناہی میں ہونے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ریاست کی اولین ترجیح ہے۔ صدر زرداری نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ انٹیلی جنس پر مبنی مربوط کارروائیوں سے دہشت گرد نیٹ ورکس کی قیادت اور صلاحیت کی کمر توڑ دی گئی ہے اور قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے معصوم شہریوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ انہوں نے وطن کی حفاظت کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے 22 سیکیورٹی اہلکاروں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔
آپریشن ردّالفتنہ ون اس حقیقت کا عملی ثبوت ہے کہ پاکستان، بالخصوص بلوچستان کے غیور عوام، ہمیشہ تشدد پر امن، انتشار پر اتحاد اور بدامنی پر ترقی کو ترجیح دیتے رہیں گے۔ حکومتِ پاکستان نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی جدوجہد پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری رکھے گی۔ یہ آپریشن دشمن قوتوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ پاکستان کے امن، سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ہر سازش کو اسی عزم، قربانی اور اتحاد سے ناکام بنایا جاتا رہے گا۔