کیلیفورنیا: یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، ریورسائیڈ کے محققین نے بیٹری سے چلنے والا انقلابی آکسیجن جیل تیار کیا ہے جو ذیابیطس کے مریضوں کے دیرینہ زخموں کو تیزی سے بھرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ یہ جیل انفیکشن کم کرتے ہوئے اور ممکنہ طور پر اعضا کاٹنے (امپیوٹیشن) سے بھی بچاسکتا ہے۔
یہ جدید جیل مشکل سے بھرنے والے ٹشوز تک مسلسل آکسیجن پہنچاتا ہے، جس سے صحت یابی کا عمل تیز ہوجاتا ہے۔
ابتدائی پری کلینیکل مطالعات کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹیکنالوجی ان زخموں کے علاج میں ڈاکٹروں کے لیے ایک مؤثر ہتھیار ثابت ہوسکتی ہے جو روایتی طریقہ علاج سے ٹھیک نہیں ہو پاتے۔
وہ زخم جو ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک کھلے رہیں، انہیں دائمی (کرونک) زخم کہا جاتا ہے۔ ہر سال قریباً 1 کروڑ 20 لاکھ افراد ایسے زخموں کا شکار ہوتے ہیں، جن کا قریباً پانچواں حصہ مریضوں کو اعضا کٹوانے کی نوبت تک پہنچا دیتا ہے۔
محققین کے مطابق دائمی زخموں کی بنیادی وجوہ میں سے ایک خراب ٹشوز کی گہرائی میں آکسیجن کی کمی ہے۔ جب آکسیجن کی سطح بہت کم ہوجاتی ہے تو زخم سوزش کے طویل مرحلے میں پھنسے رہتے ہیں، جس کے نتیجے میں بیکٹیریا کی افزائش بڑھتی ہے اور ٹشو کی مرمت کے بجائے ٹوٹ پھوٹ شروع ہوجاتی ہے۔ یہ نیا آکسیجن جیل اسی بنیادی مسئلے کو ہدف بناکر شفایابی کے قدرتی عمل کو بحال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہوئی ہے۔