کراچی: نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پیٹ میں جمی چربی انفیکشنز اور سوزش سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
پیٹ اور اندرونی اعضا کے گرد موجود چربی (جس کو وسرل فیٹ کہا جاتا ہے) کو عموماً نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔ اس چربی کا تعلق ٹائپ 2 ذیابیطس، قلبی مرض، کینسر کی کچھ اقسام، فالج اور ہائی بلڈپریشر سے جوڑا جاتا ہے۔
تاہم، سوئیڈن کے کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ کے محققین نے بتایا ہے کہ چربی کی کچھ اقسام مفید بھی ہوسکتی ہیں۔
تحقیق کے مرکزی مصنف جیاوے ژونگ کا کہنا تھا کہ چربی کا ٹشو صرف توانائی ذخیرہ نہیں کرتا بلکہ یہ ایک فعال عضو کے طور پر بھی کام کرتا ہے، جو ایسے سگنلز بھیجتا ہے جو پورے جسم کو متاثر کرتے ہیں۔ ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ پیٹ کی چربی یکساں ہوتی ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ کئی مختلف اور جداگانہ حصوں پر مشتمل ہوتی ہے۔