رحمت کی بارش۔۔۔

عبدالعزیز بلوچ

بارش اُس دن غیر معمولی تھی۔ بوندیں جیسے آسمان سے نہیں، کسی ٹوٹے ہوئے دل کی گہرائیوں سے برس رہی ہوں۔ شہر کی سڑکیں بھیگی ہوئی تھیں اور لوگوں کے چہروں پر ایک عجیب سی خاموشی تھی، جیسے ہر کوئی اپنے اندر کے شور کو چھپا رہا ہو۔
حارث اپنی گاڑی میں بیٹھا شیشے سے باہر دیکھ رہا تھا۔ وہ ایک کامیاب بزنس مین تھا، دولت، عزت، سب کچھ تھا اس کے پاس، سوائے سکون کے۔ اُس کی زندگی میں سب کچھ تھا مگر کچھ بھی نہیں تھا۔ بارش کی ہر بوند جیسے اُس کے دل پر دستک دے رہی تھی مگر وہ ان دستکوں کو برسوں سے نظرانداز کرتا آیا تھا۔ گاڑی ایک سگنل پر رکی تو اُس کی نظر ایک بوڑھے آدمی پر پڑی۔ وہ سڑک کے کنارے بیٹھا تھا، بارش میں بھیگتا ہوا، مگر اُس کے چہرے پر عجیب سا سکون تھا۔ اُس کے ہاتھ دعا کے لیے اُٹھے ہوئے تھے اور ہونٹ ہل رہے تھے۔ حارث نے غور سے دیکھا، وہ شخص بارش میں اللہ سے باتیں کر رہا تھا۔
حارث کو عجیب لگا۔ “یہ کیسا انسان ہے؟ اتنی بارش، اتنی تکلیف اور پھر بھی شکر ادا کر رہا ہے؟” اچانک اُس کے دل میں ایک خیال آیا اور اُس نے گاڑی سائیڈ پر لگا دی۔ وہ باہر نکلا، بارش میں بھیگتا ہوا اُس بوڑھے کے پاس جا پہنچا۔
“بابا جی، آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟ بارش ہورہی ہے، آپ بھیگ جائیں گے، بیمار ہو جائیں گے۔”
بوڑھے نے مسکرا کر اُس کی طرف دیکھا۔ اُس کی آنکھوں میں ایسی چمک تھی جو کسی امیر آدمی کے پاس نہیں ہوتی۔ “بیٹا، یہ بارش بیماری نہیں، رحمت ہے اور میں رحمت سے کیوں بھاگوں؟”
حارث کچھ لمحوں کے لیے خاموش ہوگیا۔ اُس کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔ بوڑھے نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، “جانتے ہو بیٹا، بارش کیوں آتی ہے؟”
حارث نے سرہلایا، “نہیں۔”
“بارش ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اللہ کی رحمت کبھی بند نہیں ہوتی۔ چاہے زمین کتنی ہی خشک کیوں نہ ہو، ایک وقت آتا ہے جب وہ سیراب ہوجاتی ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے انسان کا دل، چاہے کتنا ہی سخت کیوں نہ ہوجائے، اگر وہ اللہ کی طرف لوٹ آئے تو نرم ہوجاتا ہے۔”
یہ الفاظ حارث کے دل میں اترتے چلے گئے۔
“لیکن بابا جی، ہر کسی کو یہ رحمت محسوس نہیں ہوتی…” حارث نے آہستہ سے کہا۔
بوڑھے نے اُس کی طرف دیکھا، “کیونکہ ہر کوئی مانگتا نہیں اور جو مانگتا ہے، وہ صرف دنیا مانگتا ہے، رب نہیں۔”
یہ سن کر حارث کے اندر کچھ ٹوٹنے لگا۔ اُسے اپنے وہ دن یاد آنے لگے جب وہ نماز پڑھا کرتا تھا، جب اُس کی دعائیں سچی ہوتی تھیں، جب اُس کا دل زندہ تھا۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب اُس نے سب کچھ چھوڑ دیا۔ نماز، دعا اور وہ سکون جو صرف اللہ کے قریب ہونے سے ملتا ہے۔
بارش تیز ہوگئی۔ سڑکوں پر پانی جمع ہونے لگا، لوگ بھاگ رہے تھے، گاڑیاں رک رہی تھیں مگر حارث وہیں کھڑا تھا، جیسے وقت رک گیا ہو۔
“بابا جی، اگر کوئی بہت دور چلا گیا ہو تو؟” اُس نے کپکپاتی آواز میں پوچھا۔
بوڑھے نے مسکرا کر کہا، “اللہ سے دور؟ یا دنیا میں دور؟”
“اللہ سے…” بوڑھے نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے،
“اللہ سے کوئی دور نہیں جاتا، بیٹا۔ ہم خود ہی آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔ وہ تو ہمیشہ قریب ہوتا ہے۔ قرآن میں آیا ہے کہ میں تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں۔”
یہ سن کر حارث کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے، بارش کے ساتھ مل کر وہ آنسو کسی کو نظر نہیں آرہے تھے، مگر اُس کے اندر ایک طوفان برپا تھا۔
“تو پھر میں کیا کروں؟” اُس نے بے بسی سے پوچھا۔
بوڑھے نے کہا، “بس ایک قدم اٹھاؤ۔ سچے دل سے کہو: ‘یا اللہ، میں واپس آ گیا ہوں۔’ باقی وہ خود تمہیں سنبھال لے گا۔”
یہ الفاظ جیسے حارث کی زندگی کا رخ بدل گئے۔ وہ وہیں سڑک کے کنارے بیٹھ گی، ایک کامیاب بزنس مین، ایک مغرور انسان، ایک کھویا ہوا بندہ، آج پہلی بار ٹوٹ کر اللہ کے سامنے جھک گیا۔
یا اللہ… میں تھک گیا ہوں… میں کھو گیا ہوں… مجھے واپس لے آ…
بارش مسلسل برس رہی تھی، مگر اب وہ صرف پانی نہیں تھی، وہ اُس کے گناہوں کو دھو رہی تھی، اُس کے دل کو نرم کررہی تھی، اُس کی روح کو زندہ کررہی تھی۔
کچھ دیر بعد جب حارث نے آنکھیں کھولیں تو وہ بوڑھا شخص وہاں نہیں تھا۔
وہ حیران ہوا، اِدھر اُدھر دیکھا مگر وہ کہیں نظر نہ آیا۔ جیسے وہ آیا ہی کسی اور دنیا سے تھا، صرف ایک پیغام دینے کے لیے۔ حارث اٹھا، اُس کے چہرے پر سکون تھا، وہ سکون جو اُس نے برسوں سے محسوس نہیں کیا تھا۔
اُس نے آسمان کی طرف دیکھا، بارش اب بھی ہورہی تھی، مگر اب وہ بارش نہیں، رحمت لگ رہی تھی۔
اُس دن کے بعد حارث کی زندگی بدل گئی۔ اُس نے اپنے کاروبار کو نہیں چھوڑا، مگر اُس نے اپنے رب کو پا لیا۔ اُس نے نماز کو اپنا سہارا بنا لیا، دعا کو اپنی طاقت اور عاجزی کو اپنی پہچان۔
وہ اکثر بارش میں کھڑا ہو جاتا، آنکھیں بند کر کے مسکراتا، کیونکہ اب وہ جان چکا تھا: بارش صرف زمین کو نہیں، دلوں کو بھی زندہ کرتی ہے۔ اور جو دل اللہ کی طرف لوٹ آئے، وہ کبھی ویران نہیں رہتا۔
زندگی کی سب سے بڑی کامیابی دولت یا شہرت نہیں، بلکہ وہ سکون ہے جو اللہ کے قریب ہونے سے ملتا ہے۔ جب بھی زندگی میں اندھیرا چھا جائے، بارش کو یاد رکھیں، کیونکہ ہر بارش کے بعد زمین بھی ہری ہوتی ہے اور دل بھی۔

islamMotivational StoryRain of Mercy