فہیم سلیم
اگر انسان اپنی زندگی کے دکھوں کو سب سے بڑا المیہ سمجھنے لگے تو اسے تاریخ کے چند اوراق ضرور پلٹنے چاہئیں، جہاں ایسے کردار ملتے ہیں جنہوں نے تکلیف، محرومی اور جسمانی کمی کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیا بلکہ اسے طاقت میں بدل دیا۔ انہی عظیم کرداروں میں ایک نام پرنس رینڈین کا ہے، جنہیں دنیا Human Caterpillar یعنی انسانی کیڑا کے نام سے جانتی ہے مگر حقیقت میں وہ انسانی حوصلے و عزم کی عظیم مثال تھے۔
پرنس رینڈین 1871 میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک نایاب پیدائشی بیماری ٹیٹرا امیلیا سنڈروم (Tetra-Amelia Syndrome) میں مبتلا تھے، جس کے باعث ان کے نہ بازو تھے اور نہ ٹانگیں۔ ایک ایسے دور میں، جب معذوری کو عیب اور بوجھ سمجھا جاتا تھا، رینڈین کا اس دنیا میں آنا کسی امتحان سے کم نہ تھا۔ مگر سوال یہ نہیں تھا کہ وہ کس حالت میں پیدا ہوئے، اصل سوال یہ تھا کہ انہوں نے اس حالت کے ساتھ جینا کیسے سیکھا۔ عام طور پر ایسے افراد کے لیے زندگی دوسروں پر انحصار کا نام بن جاتی ہے مگر رینڈین نے یہ راستہ اختیار نہیں کیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ترس کے محتاج نہیں بنیں گے بلکہ اپنی کمزوری کو اپنی پہچان بنائیں گے۔ یہی فیصلہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا موڑ ثابت ہوا۔ پرنس رینڈین نے وہ سب کچھ سیکھا جو بظاہر ناممکن لگتا تھا۔ انہوں نے اپنے منہ، ٹھوڑی اور کندھوں کی مدد سے روزمرہ کے کام انجام دینا سیکھے۔ وہ خود شیو کرتے، لکھتے، پینٹنگ بناتے تھے، خطوط لکھتے تھے اور یہاں تک کہ سگریٹ بنانا اور جلانا بھی جانتے تھے۔ یہ سب کچھ اس مہارت کے ساتھ کرتے کہ دیکھنے والا حیرت میں پڑ جاتا۔
ان کی زندگی کا ایک یادگار لمحہ 1932 میں آیا، جب وہ مشہور فلم “Freaks” میں نظر آئے۔ اس فلم کا ایک منظر آج بھی تاریخ کا حصہ ہے، جس میں پرنس رینڈین بغیر ہاتھوں کے سگریٹ رول کرتے ہیں اور خود ہی اسے جلاتے ہیں۔ یہ منظر محض ایک فلمی سین نہیں بلکہ انسانی عزم اور خوداعتمادی کا اعلان تھا۔ وہ دنیا کو بتا رہے تھے کہ جسمانی کمی انسان کو کمزور نہیں بناتی، اصل کمزوری ہمت ہار جانا ہے۔ پرنس رینڈین کی زندگی صرف اسٹیج یا فلم تک محدود نہیں تھی۔ انہوں نے ذاتی زندگی میں بھی وہ سب کچھ حاصل کیا جو ایک عام انسان چاہتا ہے۔ انہوں نے شادی کی، بچے پیدا کیے اور ایک باوقار زندگی گزاری۔ یہ سب کچھ اس معاشرے میں رہتے ہوئے کیا جو انہیں اکثر عجوبہ سمجھتا تھا، انسان نہیں۔ مگر رینڈین نے کبھی معاشرتی رویوں کو اپنی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ ان کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل معذوری جسم کی نہیں، سوچ کی ہوتی ہے۔ اگر انسان خود کو کمزور مان لے تو دنیا بھی اسے کمزور سمجھتی ہے، لیکن اگر وہ خود پر یقین رکھے تو دنیا کو ماننا پڑتا ہے۔ پرنس رینڈین نے اپنی زندگی سے یہ ثابت کیا کہ طاقت پٹھوں میں نہیں بلکہ ارادے میں ہوتی ہے۔
آج کے دور میں، جہاں ذرا سی ناکامی انسان کو مایوسی میں دھکیل دیتی ہے، رینڈین کی زندگی ایک آئینہ ہے۔ ہم اکثر شکایت کرتے ہیں کہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں، مواقع نہیں ملتے، یا حالات سازگار نہیں۔ مگر پرنس رینڈین کے پاس تو وہ بنیادی چیزیں بھی نہیں تھیں جنہیں ہم زندگی کے لیے ضروری سمجھتے ہیں، پھر بھی انہوں نے شکوہ نہیں کیا، بلکہ جدوجہد کو اپنا مقدر بنایا۔
رینڈین ہمیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ کامیابی کا مطلب صرف دولت یا شہرت نہیں، بلکہ خوداعتمادی اور خودمختاری ہے۔ انہوں نے کسی کے سہارے جینے کے بجائے اپنے لیے راستہ خود بنایا۔ وہ دوسروں کے لیے ترس کا موضوع نہیں بنے بلکہ حوصلے کی مثال بن گئے۔
ان کی زندگی کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ گرنا ناکامی نہیں، بلکہ گر کر نہ اٹھنا ناکامی ہے۔ پرنس رینڈین ہر روز زندگی کی سخت زمین پر گرتے تھے، مگر ہر بار نئے عزم کے ساتھ اٹھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ایک صدی گزرنے کے بعد بھی ان کا ذکر ہوتا ہے۔ آخر میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ پرنس رینڈین کی کہانی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنی زندگی کے مسائل کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ اگر ہم مشکلات کو دیوار سمجھ لیں تو وہ ہمیں روک لیں گی، لیکن اگر انہیں سیڑھی بنالیں تو وہ ہمیں بلند کر دیں گی۔ پرنس رینڈین نے دنیا کو دکھایا کہ انسان کو عظیم بنانے کے لیے مکمل جسم نہیں، بلکہ مکمل حوصلہ چاہیے۔ اور واقعی، طاقتور وہ نہیں جو کبھی گرے ہی نہیں، بلکہ وہ ہے جو ہر بار گر کر بھی مسکرا کر اٹھ کھڑا ہو۔