حسان احمد
شیراز نے کھڑکی کے باہر دیکھا تو استنبول کی سرد ہوا شیشوں سے ٹکرا رہی تھی۔ آسمان بوجھل تھا اور زمین جیسے ابھی تک لرزنے کے خوف سے سہم رہی تھی۔ چند دن پہلے آنے والے زلزلے نے شہر کو ہلاکر رکھ دیا تھا مگر شیراز کی دنیا تو اس سے پہلے ہی ٹوٹ چکی تھی۔
اس کی والدہ، اس کی زندگی کا واحد سہارا، بسترِ علالت پر تھیں۔ ایک ایسی بیماری میں مبتلا جس کا علاج عام ڈاکٹروں کے بس کی بات نہ تھا۔ دنیا میں صرف ایک ماہر ڈاکٹر فراز تھا، جس کا تعلق یمن سے تھا، مگر وہ لندن میں رہائش پذیر تھا۔
شیراز کے لیے یہ فاصلہ صرف میلوں کا نہیں، تقدیر کا فاصلہ تھا۔
شیراز دن رات محنت کرتا، کبھی مزدوری، کبھی چھوٹے موٹے کام، مگر جتنی بھی کمائی ہوتی، وہ دوا اور گھر کے اخراجات میں ختم ہوجاتی۔ ہر رات وہ اپنی ماں کے سرہانے بیٹھتا، ان کے ہاتھ تھامے، آنکھوں میں آنسو لیے بس ایک ہی دعا کرتا:
“یااللہ، میری ماں کو صحت دے دے… میری زندگی لے لے مگر انہیں ٹھیک کر دے…”
سجدوں میں اس کی پیشانی اکثر بھیگ جاتی تھی۔ وہ ہر نماز میں روتا، گڑگڑاتا، جیسے آسمان کو پکار رہا ہو۔ مگر جواب خاموشی تھا۔
ایک رات، جب بارش اور ہوا نے قیامت کا سماں باندھ رکھا تھا، دروازے پر زور کی دستک ہوئی۔ شیراز چونک گیا۔ ایسے موسم میں کون ہوسکتا ہے؟
دروازہ کھولا تو سامنے ایک اجنبی شخص کھڑا تھا۔ کپڑے بھیگے ہوئے، چہرے پر تھکن، آنکھوں میں بے بسی۔
“براہِ کرم… کیا میں کچھ دیر کے لیے اندر آسکتا ہوں؟” اُس نے ٹوٹی پھوٹی ترکی میں کہا۔
شیراز نے فوراََ کہا، “آئیں، اندر آئیں…”
اس نے اسے اپنے چھوٹے سے گھر میں جگہ دی، خشک کپڑے دیے اور گرم چائے بنا کر پیش کی۔ ترکی کے عوام پر زلزلے کے آفٹر شاکس کا خوف تھا۔
وہ اجنبی دراصل ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سلسلے میں ترکی آیا تھا، مگر زلزلے نے سب کچھ درہم برہم کردیا تھا۔ ہوٹل خالی کروائے جاچکے تھے، سڑکیں بند تھیں اور وہ راستہ بھٹک کر یہاں پہنچا تھا۔
شیراز نے اس کی ہر ممکن خدمت کی، جیسے وہ کوئی مہمان نہیں بلکہ اپنا ہو۔ اس رات وہ دونوں دیر تک خاموش بیٹھے رہے، صرف بارش کی آواز سنائی دیتی رہی۔
اچانک شیراز کو اپنی ماں کا خیال آیا۔ وہ جلدی سے اٹھا، “معاف کیجیے گا، مجھے اپنی والدہ کے پاس جانا ہے…”
وہ اندر گیا، ماں کو دوا دی، ان کا ماتھا چوم کر واپس آیا۔
اجنبی نے نرمی سے پوچھا، “تمہاری والدہ بیمار ہیں؟”
شیراز کی آنکھیں بھر آئیں۔ “جی… بہت زیادہ۔ ایک نایاب بیماری ہے… دنیا میں صرف ایک ڈاکٹر اس کا علاج کرسکتا ہے… مگر وہ لندن میں ہے… اور میرے پاس اتنے وسائل نہیں…”
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
اجنبی نے پوچھا، اُس ڈاکٹر کا نام کیا ہے۔
شیراز نے جواب دیا، ڈاکٹر فراز۔
وہ شخص ہلکا سا مسکرایا۔ “اب تمہیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے…”
شیراز نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا۔
“تمہاری والدہ کا علاج یہیں ہوگا… اور ڈاکٹر فراز ہی کرے گا…”
شیراز کو لگا جیسے اس نے غلط سنا ہو۔ “ڈاکٹر فراز؟۔۔۔ یہاں کیسے؟”
وہ شخص آہستہ سے بولا، “میرا نام ڈاکٹر فراز ہے… اور تم میرا ہی ذکر کررہے تھے… میں یہاں لندن سے کانفرنس کے سلسلے میں آیا ہوں اور مجھے کچھ عرصہ ترکی میں قیام بھی کرنا ہے۔”
یہ سن کر شیراز کے ہاتھ کانپنے لگے۔ آنکھوں سے آنسو بے اختیار بہنے لگے۔ وہ کچھ بول نہ سکا۔ بس سجدے میں گر گیا۔
“یااللہ… تُو نے سن لی… تُو نے واقعی سن لی…”
اگلے دن سے علاج شروع ہوا۔ وہی چھوٹا سا گھر ایک امید کا مرکز بن گیا۔ ڈاکٹر فراز نے پوری توجہ اور مہارت سے علاج کیا۔ دن گزرتے گئے اور شیراز کی والدہ کی حالت بہتر ہونے لگی۔
ایک صبح، جب سورج کی روشنی کھڑکی سے اندر آئی، شیراز کی والدہ نے کمزور آواز میں کہا، “بیٹا… میں بہتر محسوس کررہی ہوں…”
شیراز کی دنیا جیسے واپس لوٹ آئی۔ وہ رو پڑا، مگر اس بار یہ آنسو خوشی کے تھے۔
چند دن بعد، ڈاکٹر فراز جانے لگا۔ شیراز نے اس کے ہاتھ پکڑ لیے، “میں آپ کا قرض کبھی نہیں اتار سکتا…”
وہ مسکرایا، “یہ قرض نہیں… یہ اللہ کا کام تھا… اور تمہاری دعاؤں کا نتیجہ…”
شیراز نے آسمان کی طرف دیکھا۔ اب وہی آسمان روشن لگ رہا تھا، جو پہلے خاموش تھا۔
اس دن اسے یقین ہوگیا تھا کہ سچے دل سے مانگی گئی دعا کبھی ضائع نہیں جاتی…
اور جب اللہ کرم کرتا ہے، تو راستے خود بخود بن جاتے ہیں۔