مہروز احمد
خطے میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں حالیہ تیزی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر کشیدگی اور بے یقینی صورت حال میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان حالیہ ملاقات اسی تناظر میں نہایت اہمیت رکھتی ہے، جس میں خطے میں پائیدار امن، کشیدگی میں کمی اور سفارتی کوششوں کے تسلسل کا جائزہ لیا گیا۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن و استحکام کا حامی رہا ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے حساس خطے میں واقع ہونے کے باعث پاکستان نہ صرف براہِ راست علاقائی تنازعات سے متاثر ہوتا ہے بلکہ اس کی معیشت، سلامتی اور سماجی استحکام بھی خطے کے امن سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسی لیے پاکستان کی یہ کوشش کہ وہ ایران اور امریکا جیسے اہم فریقین کے درمیان رابطہ کاری اور مفاہمت کا ذریعہ بنے، ایک تعمیری اور ذمے دارانہ سفارتی پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔ وزیراعظم آفس کے اعلامیے کے مطابق ملاقات میں نہ صرف جاری سفارتی کوششوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا بلکہ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ حالیہ کشیدگی میں کمی ایک مثبت پیش رفت ہے، جسے برقرار رکھنا تمام فریقین کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ جنگ بندی کو قائم رکھنے اور تحمل و برداشت کو فروغ دینے پر زور دینا اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان کسی بھی ممکنہ تصادم کے بجائے مکالمے اور سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی موجودگی اور ان کی جانب سے امن کوششوں پر اطمینان کا اظہار یہ ظاہر کرتا ہے کہ ملکی سول و عسکری قیادت اس معاملے پر ایک صفحے پر ہے۔ پاکستان میں جب بھی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات پر سول اور عسکری ادارے ہم آہنگی کے ساتھ کام کرتے ہیں تو اس کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں۔ یہ ملاقات بھی اسی ہم آہنگی کی ایک مثال ہے، جس میں خطے میں امن کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا۔ پاکستان کا ثالثی کردار کوئی نیا تصور نہیں۔ ماضی میں بھی پاکستان نے مختلف علاقائی اور عالمی تنازعات میں پل کا کردار ادا کیا ہے۔ افغانستان امن عمل سے لے کر مشرق وسطیٰ میں مختلف سفارتی کوششوں تک، پاکستان نے ہمیشہ یہ پیغام دیا ہے کہ وہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور بات چیت کا حامی ہے۔ ایران اور امریکا جیسے دو بڑے فریقین کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی کوششیں اگر کامیاب ہوتی ہیں تو یہ نہ صرف پاکستان کی سفارتی ساکھ کو مضبوط کریں گی بلکہ خطے میں امن کے نئے دروازے بھی کھول سکتی ہیں۔ تاہم یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ ایسے حساس معاملات میں ثالثی کا کردار ادا کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لیے متوازن پالیسی، فریقین کا اعتماد اور مسلسل سفارتی رابطے ناگزیر ہوتے ہیں۔ پاکستان کو اس عمل میں انتہائی احتیاط، تدبر اور دور اندیشی سے کام لینا ہوگا تاکہ کسی بھی فریق کے ساتھ تعلقات متاثر نہ ہوں اور غیر جانبداری برقرار رہے۔ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کے توازن میں تبدیلیاں تیزی سے رونما ہورہی ہیں۔ بڑی طاقتوں کے درمیان کشمکش، علاقائی تنازعات اور توانائی کے مسائل نے دنیا کو ایک نئے سفارتی مرحلے میں داخل کردیا ہے۔ ایسے میں پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ موقع بھی ہے اور امتحان بھی کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کو کتنی مہارت سے استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان کی قیادت کی جانب سے خطے میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ملک ایک ذمے دار ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی ملاقات میں اس عزم کا اظہار کہ پاکستان ثالثی کردار جاری رکھے گا، ایک مثبت اشارہ ہے جس سے سفارتی حلقوں میں امید کی فضا پیدا ہوئی ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اگر پاکستان اپنی موجودہ سفارتی کوششوں کو تسلسل، توازن اور حکمت عملی کے ساتھ جاری رکھتا ہے تو وہ نہ صرف خطے میں امن کے قیام میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، بلکہ عالمی سطح پر ایک مؤثر اور ذمے دار ریاست کے طور پر اپنی شناخت کو مزید مستحکم بھی کرسکتا ہے۔ امن کی یہ کوششیں اگر نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہیں تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک نئی امید کی کرن ثابت ہوں گی۔