عبدالعزیز بلوچ
پاکستان امن کا داعی ملک ہے اور دُنیا بھر میں امن کے حوالے سے اس کی خدمات بھلائی نہیں جاسکتیں۔ مشرقِ وسطیٰ اس وقت تاریخ کے ایک انتہائی نازک اور حساس دور سے گزر رہا ہے، جہاں جنگ، کشیدگی نے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کا کردار ایک بار پھر عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ حالیہ پیش رفتوں کے مطابق پاکستان نے نہ صرف اس بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے بلکہ اسے حل کرنے کے لیے فعال اور تعمیری سفارتی کردار ادا کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ بیان کہ پاکستان جاری بحران کے خاتمے کے لیے بامقصد مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، محض ایک سفارتی جملہ نہیں بلکہ ایک واضح پالیسی سمت کی نشان دہی کرتا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ مذاکرات کی میزبانی پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے اور یہ کہ خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات ضروری ہیں، پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کی توثیق ہے کہ جنگیں کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتیں بلکہ مکالمہ اور سفارت کاری ہی پائیدار امن کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان کی یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی میڈیا رپورٹس، بالخصوص برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، خطے میں پسِ پردہ سفارتی رابطے تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ان رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اعلیٰ سطح پر پاکستان ایک مرکزی ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے، جہاں ایرانی اور امریکی فریقین کے درمیان غیر رسمی اور بیک چینل رابطے ممکن بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اگرچہ ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں اور رابطوں کی موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ اسلام آباد خطے میں امن کے لیے سنجیدہ اور فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی تناظر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی قیادت کے درمیان رابطوں کا ذکر بھی عالمی ذرائع ابلاغ میں سامنے آیا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت ایک ہی صفحے پر رہتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے متحرک ہیں۔ اگر یہ سفارتی کوششیں درست سمت میں آگے بڑھتی ہیں تو پاکستان نہ صرف ایک ثالث کے طور پر اپنی حیثیت مضبوط کرے گا بلکہ عالمی سفارت کاری میں ایک قابلِ اعتماد کردار کے طور پر بھی ابھرے گا۔
دوسری جانب وزیراعظم کی زیرصدارت اعلیٰ سطح اجلاس اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست پاکستان اس صورت حال کو محض بیرونی بحران نہیں سمجھ رہی بلکہ اسے اپنی قومی سلامتی، توانائی کے استحکام اور خطے کے وسیع تر سیاسی اثرات کے تناظر میں دیکھ رہی ہے۔ ایران پر امریکی حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال، توانائی بحران اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورت حال پر غور اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اپنی پالیسی سازی میں حقیقت پسندانہ اور جامع نقطہ نظر اختیار کیے ہوئے ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے اس حوالے سے رابطہ کیا ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان بھی اسی سفارتی حکمت عملی کا تسلسل ہے، جس میں میڈیا کو قیاس آرائیوں سے گریز کرنے اور سرکاری اعلانات کا انتظار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ یہ مؤقف نہ صرف سفارتی عمل کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ بعض اوقات امن کے لیے خاموشی، صبر زیادہ مؤثر ہوتے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ سفارتی حکمت عملی کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام آباد ایک ایسے نازک موڑ پر عالمی برادری کے سامنے ایک ذمے دار ریاست کے طور پر ابھر رہا ہے جو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے کی خواہش رکھتا ہے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے اس مقصد کے حصول کی کوشش بھی کررہا ہے۔ پاکستان کی یہ کوششیں اس کی خارجہ پالیسی کے اس بنیادی اصول کی عکاسی کرتی ہیں جس کے مطابق امن، مذاکرات اور باہمی احترام ہی عالمی تعلقات کی مضبوط بنیاد ہیں۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان جغرافیائی طور پر ایسے خطے میں واقع ہے جہاں عالمی طاقتوں کے مفادات اکثر ٹکراتے ہیں، اس کے باوجود پاکستان نے نسبتاً متوازن، محتاط اور غیرجانبدارانہ پالیسی اختیار کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے اب ایک ممکنہ “اعتماد کے پل” کے طور پر دیکھا جارہا ہے جو مخالف فریقین کو ایک میز پر لاسکتا ہے۔ اگر پاکستان اپنی اس سفارتی پیش رفت کو تسلسل اور حکمت عملی کے ساتھ جاری رکھتا ہے تو یہ نہ صرف خطے میں امن کے امکانات کو بڑھا سکتی بلکہ پاکستان کے بین الاقوامی وقار کو بھی مزید مستحکم کر سکتی ہے۔ عالمی برادری کے لیے بھی یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی کہ ایک ایسا ملک جس پر براہِ راست جنگی مفادات کا دباؤ نہیں، وہ امن کے لیے ایک فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان کا کردار ایک امید کی کرن کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اگرچہ خطے میں چیلنجز اب بھی موجود ہیں، لیکن مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی افہام و تفہیم کی جانب بڑھتے ہوئے یہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ امن ابھی بھی ممکن ہے اور پاکستان اس امید کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ایک اہم کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔