دانیال جیلانی
پاکستان کو ایک بار پھر دہشت گردی اور سرحد پار اشتعال انگیزی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق افغان سرزمین سے پاکستان کے مختلف علاقوں پر ڈرون حملوں کی کوشش کی، جنہیں بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا۔ یہ واقعہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل خطرات موجود ہیں اور پاکستان کی سلامتی کے خلاف سرگرم عناصر کسی بھی موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان ڈرونز کو اپنے اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی مار گرایا گیا، تاہم ملبہ گرنے کے باعث کچھ شہری زخمی ہوئے۔ اس واقعے نے یہ واضح کردیا کہ پاکستان کے دفاعی ادارے ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پوری طرح چوکس ہیں۔ سرحد پار سے ہونے والی ایسی کارروائیاں نہ صرف پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں بلکہ خطے میں امن کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہیں۔ پاکستان بارہا اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ کسی بھی ملک کی سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ یہ بین الاقوامی اصول بھی ہے اور علاقائی امن کے لیے ایک بنیادی شرط بھی۔ اگر اس اصول کو نظر انداز کیا جائے تو اس کے نتائج پورے خطے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب ملک کے اندر دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں بھی بھرپور انداز میں جاری ہیں۔ لکی مروت میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے گئے آپریشن میں 7 دہشت گردوں کی ہلاکت اس بات کا ثبوت ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے امن کو سبوتاژ کرنے والے عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کررہے ہیں۔ اس طرح کی کارروائیاں نہ صرف دہشت گرد نیٹ ورکس کو کمزور کرتی ہیں بلکہ عوام میں اعتماد بھی پیدا کرتی ہیں کہ ریاست اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ حالیہ دھماکے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کی نماز جنازہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ امن کی قیمت ہمیشہ قربانیوں کی صورت میں ادا کی جاتی ہے۔ ان اہلکاروں کی قربانیاں قوم کے لیے فخر اور عزم کا پیغام ہیں۔ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کا یہ مؤقف بھی واضح ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے تک آپریشن غضب للحق جاری رہے گا۔ کسی بھی ریاست کے لیے داخلی امن اور سرحدی سلامتی بنیادی ترجیح ہوتی ہے اور پاکستان بھی اسی اصول کے تحت اپنی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ ضرورت قومی اتحاد اور یکجہتی کی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز کی ذمے داری نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ فرض ہے۔ عوام، ریاستی اداروں اور حکومت کے درمیان تعاون ہی وہ طاقت ہے جو اس چیلنج کا مؤثر جواب بن سکتی ہے۔ یہی اجتماعی عزم پاکستان کو ایک پرامن اور مستحکم مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔