پاکستان کا دفاع مضبوط اور مستحکم ہے

دانیال جیلانی

پاکستان کی خودمختاری اور قومی سلامتی کے امور دوبارہ عالمی اور خطے کے منظرنامے میں سرِفہرست آچکے ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کی تازہ گفتگو نے اس حقیقت کو واضح کردیا کہ پاکستان نہ صرف اپنے دفاع میں مضبوط اور مستحکم ہے، بلکہ وہ کسی بھی جارحیت یا غیر محفوظ صورت حال کے سامنے ڈٹا رہے گا۔ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے حملے اور بھارت کی پراکسی جنگ کے تناظر میں وزیر دفاع نے واضح کردیا کہ پاکستان اپنی فضائی حدود کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے سے نہیں ہچکچائے گا اور کسی بھی خطرے کا فوری اور فیصلہ کُن جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ خواجہ آصف کے مطابق پاکستان پر حملے محض مقامی یا داخلی دہشت گردی کے واقعات نہیں بلکہ یہ بھارت اور طالبان کی مشترکہ پراکسی جنگ کا نتیجہ ہیں۔ کالعدم ٹی ٹی پی، داعش اور دیگر دہشت گرد گروہ افغانستان میں موجود ہیں اور یہ گروہ پاکستان میں حملے کرتے ہوئے کابل کی منظوری اور سرپرستی کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاسکتے۔ یہ بات عالمی سطح پر واضح کردیتی ہے کہ دہشت گردی کا اصل ماخذ اور سرپرست افغانستان میں موجود ہے اور پاکستان نے اس معاملے میں تمام ثبوت اور شواہد عالمی برادری کے سامنے رکھ دیے ہیں۔ پاکستان کی قیادت نے متعدد عالمی فورمز اور دو طرفہ ملاقاتوں کے ذریعے اس صورت حال کو سنجیدگی سے اجاگر کیا ہے۔ وزیر دفاع نے بتایا کہ استنبول، دوحہ اور کابل میں ثالثی کی متعدد کوششیں کی گئیں، لیکن ان کا کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا۔ یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ پاکستان نے ہر ممکنہ سفارتی راستہ استعمال کیا، لیکن دشمنی کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ صرف مذاکرات سے مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔
اس خطے میں بھارت کا جارحانہ کردار بھی واضح ہے۔ وزیر دفاع نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال مئی میں چار روزہ جنگ میں پاکستان نے بھارت کو مضبوط اور شاندار شکست دی تھی اور یہ عالمی سطح پر بھارت کی فوجی حیثیت اور اس کے دعووں کی قلعی کھولنے کا سبب بنی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار اپنی تقاریر میں بھارت کی فضائی کارکردگی پر بات کرتے رہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی فضائیہ نے اپنے سرحدی حدود میں ہر قسم کی مداخلت کو ناکام بنادیا۔ یہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان اپنی فضائی دفاعی صلاحیت میں دنیا کے سامنے مستحکم اور خودکفیل ہے۔خواجہ آصف نے پاکستان کے دفاعی موقف کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور کابل کے درمیان قریبی تعلقات ہیں اور اس وقت پاکستان کا بھارت سے کوئی براہِ راست یا بالواسطہ رابطہ نہیں ہے۔ یہ اس بات کی عکاسی ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر خودمختار فیصلے کرنے والا ملک ہے اور اپنی دفاعی پالیسیوں میں کسی دباؤ یا خوف سے متاثر نہیں ہوتا۔ پاکستان نے ہمیشہ اس اصول پر عمل کیا ہے کہ قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کسی سمجھوتے کا محتاج نہیں۔ پاکستان کی خارجہ اور دفاعی حکمت عملی میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے ایک فعال اور مستحکم پالیسی اختیار کی ہے۔ وزیر دفاع نے واضح کیا کہ اگر افغانستان میں امن قائم کرنے والا کوئی حتمی ادارہ یا طاقت موجود ہے جو پاکستان کے ساتھ تعاون کرے تو پاکستان دشمنی کی طرف نہیں بڑھے گا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کابل میں موجود گروہ بدستور دہشت گردی اور سرپرستی میں شریک ہیں۔ افغانستان پر عملی کنٹرول انہی کے ہاتھ میں ہے اور اگر دہشت گرد پاکستانی سرزمین پر حملے کررہے ہیں تو اس کی ذمے داری بھی ان پر عائد ہوتی ہے۔ خواجہ آصف نے پاکستان کی بین الاقوامی کردار کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کی امن فوج میں حصہ لے رہا ہے اور یہ دنیا کے سب سے بڑے معاونین میں شامل ہے۔ یہ بات اس حقیقت کی عکاس ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے ملک بلکہ عالمی امن کے قیام کے لیے بھی اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ غزہ اور فلسطین کے معاملے میں پاکستان کی پالیسی ہمیشہ واضح اور مضبوط رہی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ عالمی فورمز پر فلسطین کے حق میں آواز بلند کی ہے اور اس کے عوام کی حمایت کی ہے۔ پاکستان کے اندرونی دفاع کی بات کی جائے تو وزیر دفاع نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی حکمت عملی میں پاکستان کی افواج، فضائیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری طرح مستعد اور متحرک ہیں۔ کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائیاں مسلسل جاری ہیں اور یہ عمل صرف ردعمل پر مبنی نہیں بلکہ منصوبہ بندی اور پیش بندی کے تحت کیا جارہا ہے۔ وزیر دفاع کی یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان کی فضائیہ نے نہ صرف اپنی سرحدوں کی حفاظت کی بلکہ دشمن کی ہر مداخلت کو ناکام بنایا ہے۔ خواجہ آصف کے بیان میں یہ بھی واضح ہوا کہ پاکستان پر دہشت گردی اور جارحیت کے حملے نہ صرف فوجی بلکہ عوام دشمنی کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ طالبان اور بھارت کی پراکسی جنگ کی بنیاد پر حملے ایسے منصوبے ہیں جو عوام کی روزمرہ زندگی اور قومی سلامتی دونوں کو متاثر کرتے ہیں۔ پاکستان نے اس سلسلے میں اپنی ذمے داری کو بھرپور طریقے سے نبھایا ہے اور کسی بھی صورت میں اپنی خودمختاری کو خطرے میں ڈالنے سے گریز نہیں کیا۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیانات پاکستان کی طاقت، خودمختاری اور دفاعی حکمت عملی کی مضبوطی کو اجاگر کرتے ہیں۔ پاکستان نے اپنی افواج اور حکومتی اداروں کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ہر قسم کی دہشت گردی، جارحیت اور پراکسی وار کے سامنے مستحکم اور فیصلہ کن ہے۔ آخر میں یہ بات کہنا ضروری ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے دفاع میں مضبوط ہے بلکہ وہ عالمی برادری کے سامنے بھی ایک ذمے دار اور مستحکم ملک کے طور پر اپنی پوزیشن برقرار رکھتا ہے۔ وزیر دفاع کے بیان نے یہ واضح کردیا ہے کہ پاکستان اپنی فضائی حدود، زمینی دفاع اور عوام کی حفاظت میں کسی قسم کی کمی برداشت نہیں کرے گا۔ دہشت گردی، بھارت کی پراکسی وار اور دیگر خطے کو درپیش خطرات کے باوجود پاکستان نے اپنی پالیسیوں اور دفاعی حکمت عملی کے ذریعے یہ پیغام دنیا کو دیا ہے کہ اس کی خودمختاری اور قومی سلامتی ناقابلِ تنسیخ ہے۔ پاکستان کی یہ مضبوط پوزیشن خطے میں توازن قائم رکھنے اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ پاکستان کے عوام، افواج اور قیادت نے یہ واضح کردیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین، عوام اور قومی مفادات کی حفاظت کے لیے ہر قسم کے اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وزیر دفاع کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان صرف اپنی سرحدوں کی حفاظت نہیں کررہا بلکہ وہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے بھی سنجیدہ اقدامات اٹھا رہا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب پاکستان کی قیادت، افواج اور عوام متحد ہو کر دہشت گردی، جارحیت اور پراکسی وار کے ہر چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ پاکستان نے اپنی افواج اور حکومتی اداروں کے ذریعے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور عوامی حفاظت کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔

AfghanistanDefense MinisterField MarshalIndiakhawaja asifPakistanPakistan ArmyPakistan Security Forces