عبدالعزیز بلوچ
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا تھا جہاں معمولی سی چنگاری بھی ایک بڑی جنگ کو جنم دے سکتی تھی۔ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، سخت بیانات، دھمکیاں اور ڈیڈلائنز نے دنیا بھر کو تشویش میں مبتلا کردیا تھا۔ عالمی ماہرین خدشہ ظاہر کررہے تھے کہ اگر بروقت کوئی مؤثر کردار سامنے نہ آیا تو یہ تنازع نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن اور معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ ایسے خطرناک وقت میں پاکستان نے وہ کردار ادا کیا، جس نے پوری دنیا کو حیران کرنے کے ساتھ متاثر بھی کیا۔
پاکستان نے ایک ذمے دار اور امن پسند ریاست کے طور پر آگے بڑھتے ہوئے نہ صرف کشیدگی کم کرانے میں کردار ادا کیا، بلکہ امریکا اور ایران جیسے بڑے حریف ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے میں بھی کامیابی حاصل کی۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ ایک بڑی سفارتی فتح ہے، جس نے پاکستان کا وقار عالمی سطح پر بلند کردیا ہے۔
اس کامیابی کے پیچھے وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت، حکمت عملی اور بروقت فیصلے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو سخت وارننگز دی جارہی تھیں اور 48 گھنٹوں کی ڈیڈلائن نے صورت حال کو انتہائی سنگین بنادیا تھا، تب پاکستان نے خاموشی سے مگر مؤثر سفارت کاری کا آغاز کیا۔ پس پردہ رابطے، مسلسل بات چیت اور اعتماد سازی کے اقدامات نے بالآخر وہ نتیجہ دیا، جس کی دنیا کو اشد ضرورت تھی۔
پاکستان کی انہی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی ممکن ہوئی۔ یہ جنگ بندی صرف ایک وقتی وقفہ نہیں بلکہ ایک ایسے عمل کا آغاز ہے، جو مستقل امن کی طرف لے جاسکتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ دونوں ممالک نے اسلام آباد میں مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی، جو پاکستان پر عالمی اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔
اسلام آباد کو مذاکرات کے لیے منتخب کرنا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کو ایک غیر جانب دار، قابلِ اعتماد اور مؤثر ثالث کے طور پر تسلیم کیا جارہا ہے۔ دنیا بھر کے سفارتی حلقے اس پیش رفت کو پاکستان کی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے پاکستان کی کاوشوں کو سراہنا بھی اس کامیابی کا ایک اہم پہلو ہے۔ انہوں نے کھلے الفاظ میں پاکستان کی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور اس کردار کو خطے میں امن کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔ یہ اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے واقعی ایک مثبت اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔
دوسری جانب عالمی میڈیا اور تجزیہ کار بھی پاکستان کی سفارتی کامیابی کو غیر معمولی قرار دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی پاکستان کے کردار کی بھرپور تعریف کی جارہی ہے اور کئی حلقے اسے “امن کا سفیر” قرار دے رہے ہیں۔
اس پیش رفت کے اثرات صرف سیاسی سطح تک محدود نہیں رہے، بلکہ عالمی معیشت پر بھی فوری مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور اسٹاک مارکیٹس میں تیزی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ دنیا اس کشیدگی سے کس قدر متاثر ہورہی تھی۔ جنگ بندی نے عالمی معیشت کو ایک بڑا ریلیف فراہم کیا ہے، جس کا کریڈٹ بھی بڑی حد تک پاکستان کی سفارت کاری کو دیا جارہا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان نے ایسے مشکل وقت میں مثبت کردار ادا کیا ہو۔ ماضی میں بھی پاکستان نے ہمیشہ امن، مذاکرات اور مفاہمت کو ترجیح دی ہے، لیکن اس بار جو کامیابی حاصل ہوئی ہے، اس نے پاکستان کو عالمی سفارتی منظرنامے میں ایک نئی پہچان دی ہے۔
آج دنیا ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے، جہاں تنازعات بڑھ رہے ہیں اور جنگ کے خطرات ہر وقت منڈلارہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا یہ کردار نہایت اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور قیادت مضبوط ہو تو بڑے سے بڑا بحران بھی ٹالا جاسکتا ہے۔
پاکستان کی اس کامیابی نے نہ صرف اس کی عالمی ساکھ کو مضبوط کیا ہے، بلکہ یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ پاکستان عالمی امن کے قیام میں ایک کلیدی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں پاکستان کی دھوم مچی ہوئی ہے اور اس کے کردار کو سراہا جا رہا ہے۔
اب تمام نظریں 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہونے والے مذاکرات پر مرکوز ہیں۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان نے نہ صرف ایک جنگ کو روکا بلکہ دنیا کو امن کی ایک نئی راہ بھی دکھائی۔
یہ لمحہ پاکستان کے لیے فخر کا لمحہ ہے اور اس بات کا ثبوت بھی کہ جب قیادت مخلص ہو اور نیت درست ہو تو ناممکن کو بھی ممکن بنایا جاسکتا ہے۔