مہروز احمد
کچھ سال بعد ان شاء اللہ آئی ٹی کے شعبے میں پاکستان اپنی برتری ثابت کرنے میں سرخرو ہوگا۔ پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں معیشت کی بحالی، روزگار کے مواقع اور عالمی سطح پر مسابقت کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کا شعبہ کلیدی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف کی جانب سے پاکستانی نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کی آئی ٹی تعلیم و تربیت فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے، جو اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت مستقبل کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ڈیجیٹل پاکستان کے خواب کو عملی جامہ پہنانا چاہتی ہے۔ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، ڈیٹا سائنس، سائبر سیکیورٹی اور فری لانسنگ جیسے شعبے نہ صرف ترقی یافتہ ممالک بلکہ ترقی پذیر ریاستوں کے لیے بھی معاشی استحکام کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ پاکستان جیسے نوجوان آبادی والے ملک کے لیے آئی ٹی شعبہ ایک سنہری موقع ہے، جہاں کم سرمایہ کاری سے زیادہ زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیرِاعظم کی جانب سے آئی ٹی کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مرحومہ عرفہ کریم رندھاوا پاکستان کی تاریخ میں ایک روشن مثال کے طور پر یاد رکھی جائیں گی۔ کم عمری میں مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل بن کر انہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں ملک کا نام روشن کیا۔ عرفہ کریم اس بات کی علامت تھیں کہ اگر پاکستانی نوجوانوں کو درست رہنمائی، مواقع اور اعتماد دیا جائے تو وہ عالمی سطح پر کسی سے کم نہیں۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں لاہور کے آئی ٹی ٹاور کو عرفہ کریم ٹاور کا نام دینا محض ایک علامتی قدم نہیں بلکہ اس عزم کی ترجمانی ہے کہ پاکستان علم، ٹیکنالوجی اور جدت کو اپنا راستہ بنانا چاہتا ہے۔ عرفہ کریم فاؤنڈیشن کا قیام بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس فاؤنڈیشن کا مقصد نوجوانوں کو آئی ٹی کی جدید تعلیم، تربیت اور مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ وہ عملی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں۔ وزیرِاعظم کی جانب سے فاؤنڈیشن کو حکومتی سطح پر ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی اس بات کی علامت ہے کہ حکومت پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے اشتراک سے آئی ٹی انقلاب برپا کرنے کی خواہاں ہے۔ پاکستان کو اس وقت جن معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، ان کا حل صرف روایتی صنعتوں یا قرضوں میں نہیں بلکہ علم پر مبنی معیشت میں پوشیدہ ہے۔ آئی ٹی شعبہ نہ صرف نوجوانوں کو روزگار فراہم کر سکتا ہے بلکہ پاکستان کو عالمی مارکیٹ سے جوڑنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ فری لانسنگ میں پاکستان پہلے ہی دنیا کے چند نمایاں ممالک میں شامل ہو چکا ہے، تاہم اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس شعبے کو منظم، محفوظ اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ وزیرِاعظم کی جانب سے طلبہ و طالبات میں لیپ ٹاپس کی تقسیم کا عمل بھی قابلِ ستائش ہے۔ ڈیجیٹل آلات تک رسائی کے بغیر آئی ٹی تعلیم کا تصور ادھورا ہے۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ لیپ ٹاپس کے ساتھ معیاری تربیت، جدید نصاب اور مارکیٹ سے جڑی مہارتیں بھی فراہم کی جائیں تاکہ طلبہ محض ڈگری ہولڈر نہ ہوں بلکہ ہنرمند پیشہ ور بن سکیں۔ جامعات اور ٹیکنیکل اداروں میں نصاب کو عالمی معیار کے مطابق اپ ڈیٹ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انٹرپرینیورشپ کی حوصلہ افزائی بھی آئی ٹی ترقی کا ایک اہم ستون ہے۔ نوجوانوں کو نوکری تلاش کرنے کے بجائے روزگار فراہم کرنے کے قابل بنانا ہی اصل کامیابی ہے۔ اسٹارٹ اپ کلچر، ٹیکنالوجی انکیوبیٹرز اور بزنس ایکسیلیریٹرز کے فروغ سے پاکستان میں جدت اور تخلیق کا نیا باب کھل سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ٹیکس میں رعایت، آسان قرضوں اور پالیسی سپورٹ کے ذریعے نوجوان کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کرے۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ آئی ٹی ترقی صرف شہروں تک محدود نہ رہے بلکہ دیہی علاقوں اور پسماندہ خطوں کے نوجوانوں کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔ آن لائن تعلیم، ریموٹ ورک اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اس خلا کو پُر کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر بلوچستان، خیبر پختونخوا اور جنوبی پنجاب کے نوجوان بھی عالمی آئی ٹی مارکیٹ سے جڑ جائیں تو یہ نہ صرف معاشی ترقی بلکہ قومی یکجہتی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ عرفہ کریم کا خواب دراصل ایک ڈیجیٹل، خودمختار اور ترقی یافتہ پاکستان کا خواب تھا۔ آج حکومت، نجی ادارے اور تعلیمی تنظیمیں اگر اس وژن کو مشترکہ طور پر آگے بڑھائیں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان خطے میں آئی ٹی کا مرکز بن کر ابھرے گا۔ وزیرِاعظم کے حالیہ بیانات اور اقدامات امید کی ایک کرن ہیں، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ اعلانات عملی اقدامات میں ڈھلیں تاکہ آنے والی نسلیں ایک مضبوط، باوقار اور ڈیجیٹل پاکستان کی وارث بن سکیں۔ پاکستان کا مستقبل روشن ہے اور آئی ٹی اس میں بڑا حصہ ڈالے گا۔