اسلام آباد: دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ایران کے خلاف اپنی سرزمین و فضا استعمال نہ ہونے دینے کے مؤقف پر کاربند ہے۔
ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو امیرِ قطر کی جانب سے ٹیلی فون کال موصُول ہُوئی، جس میں دو طرفہ تعلقات اور باہمی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ازبکستان کے وزیر خارجہ کی جانب سے بھی ٹیلی فون کال موصول ہوئی، جس میں دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کی گئی۔
علاوہ ازیں اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ٹیلی فونک گفتگو کی، جس میں ایران کی موجودہ صُورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ انہوں نے میانمار کے وزیر خارجہ سے بھی رابطہ کیا۔ اس کے علاوہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے انڈونیشیا کے وزیر سرمایہ کاری سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا۔
امریکی ویزا پابندیوں سے متعلق سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم نے یہ رپورٹس دیکھی ہیں اور اس معاملے پر امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ترجمان کے مطابق امریکا اپنی ویزا پالیسی پر نظرثانی کررہا ہے اور امید ہے کہ امریکا جلد پاکستان کے لیے ویزے بحال کرے گا۔ امریکا کی امیگریشن سے متعلق ڈیولپمنٹ رات گئے سامنے آئی ہے اور ہم اس معاملے کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ ہموار تجارتی تعلقات کا خواہش مند ہے۔ ایران کے ساتھ پاکستان کی تجارت عالمی قوانین کے مطابق ہے۔ پاکستان تجارتی تعلقات کے حوالے سے ایران اور امریکا دونوں سے رابطے میں ہے۔ ترجمان کے مطابق پاکستان اور دیگر ممالک کے درمیان تجارت قوانین کے تحت ہورہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم پُراعتماد ہیں کہ ایران اپنی عقل مندی، فراست، قدیم تہذیب و جذبے سے حالات پر قابو پالے گا۔ پاکستان نے ماضی میں ایران کے جوہری مذاکرات میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان ماضی کی طرح اب بھی ایران کے خلاف اپنی سرزمین اور فضائی حدود استعمال نہ ہونے دینے کے موقف پر قائم ہے اور آج بھی ہمارا مؤقف یہی رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ معاہدہ ابراہیمی پر پاکستان کا بینچ مارک ایک آزاد اور خودمختار ریاست فلسطین کا قیام ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان عرب اسلامی ممالک کے گروپ کے ذریعے غزہ امن عمل میں شریک ہے۔ غزہ امن عمل کے دوسرے مرحلے کے اعلان کے بارے میں سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے آگاہی ملی۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طلبہ کی واپسی کے معاملے پر کابل میں پاکستانی سفارت خانہ کام کررہا ہے، ہم اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔ ایران میں پھنسے ہوئے طلبہ کی بڑی تعداد گوادر پہنچ چکی ہے۔ پاکستانی حکومت ایران سے لوٹنے والے طلبہ کی سہولت کاری کررہی ہے۔ ایران میں پاکستانی سفارت خانے نے بھی لوٹنے والے طلبہ کی معاونت کی۔
ترجمان کے مطابق اندازاً بدھ کو 54 طلبہ جب کہ اس سے قبل 2 درجن کے قریب طلبہ ایران سے واپس پہنچ چکے ہیں۔ جلد واپس آنے والے طلبہ کی تعداد سے متعلق مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔