چین کی ثالثی میں پاک افغان مذاکرات

دانیال جیلانی

افغانستان سرزمین پاکستان میں دہشت گردی مقاصد کے لیے کافی سال سے استعمال ہورہی ہے۔ رمضان المبارک کے دوران ضرب للحق کے ذریعے پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں کرکے ان کی کمر توڑ ڈالی ہے۔ گزشتہ دنوں چین کے شہر ارومچی میں پاکستان، افغانستان اور چین کے درمیان ہونے والا سہ فریقی اجلاس بلاشبہ خطے میں ایک مثبت اور خوش آئند پیش رفت ہے۔ ایسے وقت میں جب علاقائی کشیدگی، سیکیورٹی چیلنجز اور باہمی بداعتمادی اپنے عروج پر ہیں، یہ ملاقات اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ متعلقہ ممالک اب بھی سفارت کاری اور مکالمے کو مسائل کے حل کا مؤثر ذریعہ سمجھتے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون بنایا ہے اور اس اجلاس میں اس کا کردار اسی تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ افغانستان کی موجودہ صورت حال نہ صرف اس کے اپنے عوام بلکہ پورے خطے کے لیے اہم اثرات رکھتی ہے۔ دہائیوں سے جاری عدم استحکام، سیاسی غیر یقینی اور سیکیورٹی خدشات نے افغانستان کو ایک نازک مرحلے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے میں پاکستان کا کردار نہایت اہم ہوجاتا ہے، جو نہ صرف ایک پڑوسی ملک ہے بلکہ افغان عوام کے ساتھ تاریخی، ثقافتی اور معاشی روابط بھی رکھتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون کیا ہے اور ہر ممکن کوشش کی ہے کہ وہاں استحکام آئے۔ ارومچی اجلاس میں چین کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بیجنگ خطے میں امن و ترقی کے لیے سنجیدہ ہے۔ چین کا مفاد بھی اسی میں ہے کہ اس کے مغربی سرحدی علاقے پُرامن رہیں اور علاقائی تجارت، خاص طور پر بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو جیسے منصوبے بلارکاوٹ جاری رہیں۔ تاہم، اس تمام سفارتی پیش رفت کے باوجود اصل امتحان زمینی حقائق پر بہتری لانا ہے۔
پاکستان نے اس اجلاس میں واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ وہ بات چیت کے لیے تیار ہے مگر دہشت گردی کے خلاف اپنی پالیسی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ یہ ایک اصولی اور جائز مؤقف ہے۔ کسی بھی خودمختار ریاست کے لیے یہ ناقابل قبول ہے کہ اس کے خلاف ہمسایہ ملک کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہو۔ بدقسمتی سے، حالیہ برسوں میں ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہورہی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان نے پاک افغان سرحد پر باڑ لگاکر دراندازی اور غیر قانونی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے ایک بڑا اور مؤثر اقدام کیا ہے۔ 2640 کلومیٹر طویل اس سرحد کی حفاظت کوئی آسان کام نہیں، مگر پاکستان نے اپنے محدود وسائل کے باوجود اس ذمے داری کو بخوبی نبھایا ہے۔ اس کے برعکس، افغان عبوری حکومت کی جانب سے بارہا ایسے بیانات اور اقدامات سامنے آئے ہیں جو نہ صرف حقائق کے منافی ہیں بلکہ خطے میں اعتماد سازی کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ وزارت اطلاعات کی جانب سے طالبان رجیم اور بھارتی خفیہ ایجنسی را سے متعلق دعوؤں کو مسترد کرنا بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ جھوٹے پروپیگنڈے اور من گھڑت ویڈیوز کے ذریعے حقائق کو مسخ کرنے کی کوششیں نہ صرف غیر ذمے دارانہ ہیں بلکہ علاقائی امن کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ اگر واقعی خطے میں استحکام لانا مقصود ہے تو تمام فریقین کو سچائی، شفافیت اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہوگا۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ دہشت گردی کا مسئلہ اب بھی خطے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں، ہزاروں جانیں گنوائی ہیں اور اربوں ڈالر کا نقصان اٹھایا ہے۔ ایسے میں یہ توقع کرنا بالکل جائز ہے کہ ہمسایہ ملک بھی اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکیں گے۔ افغانستان کی عبوری حکومت پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود ایسے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرے جو پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
ارومچی میں ہونے والا سہ فریقی اجلاس ایک نئے آغاز کی علامت ضرور ہے، مگر اس کی کامیابی کا دارومدار عملی اقدامات پر ہے۔ محض بیانات اور اعلانات سے مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ اس کے لیے سنجیدہ اور مستقل مزاجی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ خطے میں امن کے لیے سنجیدہ ہے اور ہر مثبت قدم کا خیرمقدم کرتا ہے۔ تاہم، یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاکستان اپنے قومی مفادات، خودمختاری اور عوام کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اگر ایک طرف مذاکرات کی میز سجائی جارہی ہے تو دوسری طرف دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں بھی جاری رہیں گی، کیونکہ یہی ایک ذمے دار ریاست کا تقاضا ہے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ خطے کا مستقبل باہمی تعاون، اعتماد اور ذمے داری کے احساس سے جڑا ہوا ہے۔ چین کی ثالثی، پاکستان کی سنجیدگی اور افغانستان کی عملی اقدامات کی آمادگی اگر ایک نقطے پر آ جائیں تو نہ صرف تینوں ممالک بلکہ پورا خطہ امن، ترقی اور خوش حالی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے ہر صورت روکے، کیونکہ یہی پائیدار امن کی بنیاد ہے۔