دولت نہیں دفاع ہی اصل طاقت

دانیال جیلانی

دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ قومیں صرف دولت، بلند عمارتوں، سونے کے ذخائر یا سیاحت سے محفوظ نہیں ہوتیں۔ اصل طاقت اس قوم کے مضبوط دفاع، دور اندیش قیادت اور قومی اتحاد میں ہوتی ہے۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب دنیا کے کئی ممالک اپنے شہروں کو بلند عمارتوں، سیاحتی مقامات اور جدید سہولتوں سے سجارہے تھے۔ سمندروں اور دریاؤں کے کنارے شاندار شہر بسائے جارہے تھے اور انہیں ترقی کی علامت سمجھا جارہا تھا۔
اسی دوران پاکستان ایک مختلف راستہ اختیار کررہا تھا۔ ہمارے وسائل محدود تھے اور معیشت بھی بہت مضبوط نہیں تھی۔ اُس وقت پاکستان پر اکثر تنقید کی جاتی تھی کہ دفاع پر اتنی توجہ کیوں دی جارہی ہے۔ کچھ لوگ کہتے تھے کہ اس سے کیا فائدہ ہوگا، ہمیں بھی عمارتیں بنانی چاہئیں، سیاحت بڑھانی چاہیے اور دولت جمع کرنی چاہیے۔ لیکن پاکستان کی قیادت نے اُس وقت ایک ایسا فیصلہ کیا، جس نے آنے والے وقت میں ملک کی تقدیر بدل دی۔ پاکستان نے اپنی بقا اور سلامتی کے لیے ایٹمی پروگرام شروع کیا۔ یہ راستہ آسان نہیں تھا۔ عالمی دباؤ، پابندیاں اور معاشی مشکلات سب موجود تھیں، مگر اس کے باوجود پاکستان نے ہمت نہیں ہاری۔
اس سفر میں مختلف رہنماؤں نے کردار ادا کیا۔ اگرچہ سیاسی طور پر ان سے اختلاف ہوسکتا ہے مگر قومی دفاع کے معاملے میں ان کی خدمات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان رہنماؤں میں ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاء الحق، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف شامل ہیں۔ ان سب نے اپنے اپنے ادوار میں پاکستان کے دفاعی پروگرام کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا۔
خصوصاً ذوالفقار علی بھٹو کا وہ تاریخی جملہ آج بھی یاد کیا جاتا ہے کہ “ہم گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔” یہ صرف ایک نعرہ نہیں تھا، بلکہ ایک عزم تھا کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
بالآخر وہ وقت بھی آیا جب پاکستان نے کامیابی سے ایٹمی صلاحیت حاصل کی اور خطے میں طاقت کا توازن قائم ہوگیا۔ اس کے بعد پاکستان اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن کر ابھرا اور اس کا دفاع پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوگیا۔
آج کی دنیا کے حالات اس فیصلے کی اہمیت کو مزید واضح کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطوں میں ہونے والی جنگیں اور تنازعات یہ یاد دلاتے ہیں کہ عالمی سیاست میں طاقت اور دفاع کی اہمیت ابھی بھی ختم نہیں ہوئی۔ ایسے حالات میں ہر ملک کو اپنی سلامتی کے بارے میں سنجیدہ ہونا پڑتا ہے۔
یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ صرف تیل، سونا، سیاحت یا بلند عمارتیں کسی ملک کو مکمل طور پر محفوظ نہیں بناسکتیں۔ اصل طاقت ایک مضبوط دفاع، مضبوط اداروں اور قومی عزم میں ہوتی ہے۔ پاکستان نے اپنی تاریخ میں مشکل فیصلے کیے، قربانیاں دیں اور اپنے دفاع کو مضبوط بنایا۔ اسی وجہ سے آج پاکستان ایک مضبوط دفاعی صلاحیت رکھنے والا ملک ہے جسے نظر انداز کرنا آسان نہیں۔
تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ وقتی شان و شوکت سے زیادہ اہم چیز قومی سلامتی اور دفاع ہوتا ہے۔ عمارتیں وقت کے ساتھ بدل سکتی ہیں، مگر ایک مضبوط دفاع قوم کی بقا کی ضمانت بنتا ہے۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔

Not wealth defense is the real strengthNuclear powerPakistan