غلام مصطفیٰ
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی ظاہری اور باطنی زندگی دونوں کی اصلاح کرتا ہے۔ قرآن و سنت میں بار بار نیک اعمال کی تاکید کی گئی ہے، کیونکہ نیک اعمال ہی وہ سرمایہ ہیں جو انسان کو دنیا میں عزت اور آخرت میں نجات عطا کرتے ہیں۔ ایک مسلمان کی پہچان صرف اس کے دعوؤں سے نہیں بلکہ اس کے اعمال سے ہوتی ہے۔ ایمان اور عمل صالح لازم و ملزوم ہیں، ایک کے بغیر دوسرا ادھورا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: “جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، انہی کے لیے خوش خبری ہے اور بہترین ٹھکانہ ہے” (الرعد: 29)۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ایمان کے ساتھ نیک اعمال انسان کو کامیابی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔ نیک عمل صرف نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ عمل جو خلوصِ نیت سے اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے، نیکی میں شمار ہوتا ہے۔ کسی کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دینا، کسی محتاج کی مدد کرنا، والدین کی خدمت، یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنا، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹادینا، یہ سب نیک اعمال ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “ہر نیکی صدقہ ہے” (بخاری)۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ نیکی کے مواقع ہر لمحہ ہمارے آس پاس موجود ہیں، بس نیت اور شعور کی ضرورت ہے۔ اسلام میں عمل سے پہلے نیت کی اصلاح پر زور دیا گیا ہے۔ ایک چھوٹا سا عمل اگر خلوص کے ساتھ ہو تو وہ پہاڑ جتنا وزن رکھتا ہے، اور بڑا عمل اگر ریاکاری کے لیے ہو تو وہ بے وقعت ہوجاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:
“اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے” (بخاری، مسلم)۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے ہر عمل میں یہ دیکھیں کہ آیا ہم اللہ کو راضی کرنے کے لیے کررہے ہیں یا لوگوں کو دکھانے کے لیے۔ نیت کی درستی انسان کے پورے کردار کو بدل دیتی ہے۔ نیک اعمال کا فائدہ صرف آخرت تک محدود نہیں بلکہ دنیا میں بھی اس کے مثبت اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ نیکی دل کو سکون دیتی ہے، معاشرے میں اعتماد پیدا کرتی ہے اور انسان کو عزت و احترام دلاتی ہے۔ جو شخص دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسانیاں پیدا فرما دیتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو کسی مسلمان کی دنیاوی پریشانی دور کرے، اللہ قیامت کے دن اس کی پریشانی دور فرمائے گا” (مسلم)۔ آج کے پُرفتن دور میں جہاں خودغرضی، نفرت اور ظلم عام ہوچکا ہے، نیک اعمال معاشرے کے لیے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ثابت ہوسکتے ہیں۔ آخرت کی کامیابی کا اصل معیار نیک اعمال ہیں۔ قیامت کے دن نہ مال کام آئے گا نہ اولاد، بلکہ صاف دل اور نیک عمل ہی نجات کا ذریعہ ہوں گے۔ میزان میں سب سے بھاری چیز حسنِ اخلاق اور نیک اعمال ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “پس جس کے پلڑے بھاری ہوں گے وہ کامیاب ہوگا” (الاعراف: 8)۔ نیک اعمال قبر کو روشن کرتے ہیں، پلِ صراط کو آسان بناتے ہیں اور جنت کے درجات بلند کرتے ہیں۔ یہ وہ سرمایہ ہے جو کبھی ضائع نہیں ہوتا۔
اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ نیکی میں تسلسل ہو، چاہے عمل تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اللہ کو وہ عمل زیادہ پسند ہے جو مسلسل کیا جائے، چاہے وہ تھوڑا ہو” (بخاری)۔ روزانہ دو رکعت نفل، تھوڑی سی تلاوت، کسی ایک ضرورت مند کی مدد، یا کسی ایک برے عمل سے بچ جانا، یہ سب چھوٹے اعمال وقت کے ساتھ بڑے نتائج پیدا کرتے ہیں۔
آج امتِ مسلمہ کو صرف باتوں کی نہیں بلکہ عمل کی ضرورت ہے۔ ہمیں خود سے آغاز کرنا ہوگا۔ اپنے گھروں سے، اپنے اخلاق سے، اپنے معاملات سے۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم اپنے عمل سے اسلام کی خوبصورت تصویر پیش کررہے ہیں یا نہیں۔ اگر ہر مسلمان یہ عزم کرلے کہ وہ جھوٹ سے بچے گا۔ وعدہ پورا کرے گا۔ کمزور کا ساتھ دے گا۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھائے گا۔ اور اللہ کی مخلوق کے لیے آسانی پیدا کرے گا تو یقیناً معاشرہ بدل سکتا ہے۔
نیک اعمال صرف عبادت نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی ہیں۔ یہ انسان کو انسان بناتے ہیں، دلوں کو جوڑتے ہیں اور اللہ کے قریب کرتے ہیں۔ آج اگر ہم نے نیکی کو اپنا شعار بنالیا تو نہ صرف ہماری ذاتی زندگی سنور جائے گی بلکہ ہمارا معاشرہ بھی امن، محبت اور عدل کا گہوارہ بن جائے گا۔ آئیے عہد کریں کہ ہم نیک اعمال کو وقتی جوش نہیں بلکہ مستقل عادت بنائیں گے، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اللہ کی رضا، رسول ﷺ کی شفاعت اور جنت کی کامیابی تک لے جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔