دانیال جیلانی
پاکستان امن پسند ملک ہے، لیکن جب بھی کسی نے اُس کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے تو پاک افواج نے اس کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات عشروں پر محیط تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں پر استوار رہے ہیں مگر بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں یہ تعلقات مسلسل کشیدگی کا شکار ہیں، افغان سرزمین مسلسل پاکستان پر دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال ہورہی ہے، پاکستان نے بارہا اس معاملے کو پڑوسی ملک کے ساتھ اُٹھایا، لیکن وہاں کی طالبان حکومت نے اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ ہی نہ دی۔ تازہ واقعات، جن میں سرحدی علاقوں پر بلااشتعال فائرنگ، دہشت گرد حملے اور پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتیں شامل ہیں، اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ صورتِ حال ایک نازک موڑ پر آ پہنچی ہے۔ ایسے میں پاکستان کا یہ فیصلہ کہ وہ اپنی قومی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل قومی عزم اور ملی یکجہتی کے ساتھ جواب دے گا، نہ صرف جائز بلکہ ناگزیر بھی ہے۔ افغانستان کی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ہونا کوئی نیا معاملہ نہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں شہری اور سیکیورٹی اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔ اربوں ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کیا گیا، مگر اس کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے افغانستان کا استحکام ضروری ہے۔ پاکستان نے افغان مہاجرین کی میزبانی کی، سفارتی سطح پر تعاون کیا اور عالمی برادری سے بھی افغانستان کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ تاہم حالیہ واقعات، جن میں بنوں میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے قافلے پر حملہ، شکردرہ (کوہاٹ) میں ڈی ایس پی اسد محمود کی شہادت اور بھکر میں خودکُش حملہ شامل ہیں، اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ دہشت گرد عناصر بدستور افغانستان کی سرزمین استعمال کررہے ہیں۔ اگر یہ حملے منظم منصوبہ بندی کے تحت ہورہے ہیں اور ان کے تانے بانے سرحد پار ملتے ہیں تو یہ پاکستان کی خودمختاری پر کھلا حملہ تصور ہوگا۔ کوئی بھی خودمختار ریاست اس امر کی اجازت نہیں دے سکتی کہ اس کے شہریوں اور سیکیورٹی اداروں کو بیرونی سرزمین سے نشانہ بنایا جائے۔
ضلع خیبر میں پاک افغان سرحد پر ہونے والی حالیہ کشیدگی بھی اسی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتی ہے۔ طورخم اور تیراہ جیسے حساس سرحدی علاقوں میں بلااشتعال فائرنگ اور گولا باری نہ صرف بین الاقوامی سرحدی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی خطرناک ہے۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کا فوری اور مؤثر جواب اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور کسی بھی جارحیت کو برداشت نہیں کرے گی۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ پاکستان نے بارہا افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان مخالف دہشت گرد گروہوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ اگر اس مطالبے پر عمل درآمد کے بجائے سرحدی اشتعال انگیزی اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے تو یہ تشویش ناک ہے۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق ہر ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنی حدود کو کسی دوسری ریاست کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ اس اصول کی خلاف ورزی علاقائی استحکام کو شدید نقصان پہنچاسکتی ہے۔ رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں خودکش حملے اور بے گناہ جانوں کا ضیاع اس بات کی دلیل ہے کہ یہ عناصر نہ اسلامی تعلیمات کے پابند ہیں اور نہ ہی خطے کی روایات کے۔ اسلام معصوم جان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیتا ہے۔ لہٰذا جو گروہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں، وہ کسی مذہبی جواز کے مستحق نہیں ہوسکتے۔ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی نہ صرف ریاستی ذمے داری بلکہ اخلاقی فریضہ بھی ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان سفارتی محاذ پر متحرک رہے۔ علاقائی طاقتوں سے مشاورت اور عالمی برادری کو حقائق سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ ٹھوس شواہد کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کرے تاکہ دنیا یہ سمجھے کہ مسئلہ محض دو ہمسایہ ممالک کا تنازع نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف ایک اصولی مؤقف ہے۔ ساتھ ہی، سرحدی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے، انٹیلی جنس شیئرنگ کو بہتر کرنے اور داخلی سیکیورٹی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی پالیسی کا ہدف کسی قوم کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گرد عناصر اور ان کی پشت پناہی کرنے والے ڈھانچوں کے خلاف ہے۔ دونوں ممالک کے عوام تاریخی، مذہبی اور سماجی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ ایک پائیدار حل اسی وقت ممکن ہے جب سرحد کے دونوں جانب امن کو اولین ترجیح دی جائے۔ حکومتِ پاکستان کا یہ اعلان کہ وہ کسی بھی اشتعال انگیزی کا بھرپور اور فوری جواب دے گی، دراصل ایک واضح پیغام ہے کہ ریاست اپنی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ مگر طاقت کے استعمال کے ساتھ سفارت کاری اور داخلی استحکام بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ قومی وقار اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہر حکومت کی بنیادی ذمے داری ہے اور اس مقصد کے لیے سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈالنا وقت کا تقاضا ہے۔ آج پاکستان ایک ایسے مرحلے پر کھڑا ہے جہاں اسے بیک وقت داخلی استحکام اور خارجی خطرات کا سامنا ہے۔ اس چیلنج کا مقابلہ صرف عسکری قوت سے نہیں بلکہ قومی اتحاد، مؤثر حکمتِ عملی اور واضح پالیسی سے کیا جاسکتا ہے۔ اگر پوری قوم یک زبان ہوکر دہشت گردی کے خلاف کھڑی ہوجائے اور ریاستی ادارے باہمی ہم آہنگی سے کام کریں تو کوئی بیرونی یا اندرونی دشمن پاکستان کو نقصان نہیں پہنچاسکتا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم جذبات کے ساتھ حکمت اور تدبر سے کام لیں، مگر اس عزم کے ساتھ کہ پاکستان کی خودمختاری، سلامتی اور وقار پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ یہی قومی یکجہتی اور پختہ ارادہ ہماری اصل طاقت ہے اور اسی کے بل بوتے پر ہم ہر چیلنج کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔