حسان احمد
شفیق ایک سرکاری دفتر میں کلرک تھا۔ نہ بہت بااختیار، نہ بہت نمایاں مگر اس کے دل میں ایک خواہش ضرور تھی کہ کسی طرح سب سے آگے نکل جائوں، چاہے راستہ درست ہو یا نہیں۔ اسی دفتر میں ایک اور ملازم سلمان تھا۔ سلمان وقت کا پابند، نرم گفتار اور کام میں دیانت دار تھا۔ وہ نہ کسی کی خوشامد کرتا، نہ سازش، بس اپنا کام اللہ کو حاضر ناظر جان کر کرتا تھا۔
دفتر میں اکثر لوگ کہتے: “سلمان بڑا سیدھا آدمی ہے، اللہ اس کو آگے لے جائے گا۔” یہ جملہ شفیق کے دل میں کانٹے کی طرح چبھتا۔ وہ سوچتا: “یہ کیا خاص ہے؟ مجھ سے زیادہ عقل مند ہے؟ مجھ سے بہتر ہے؟” حسد آہستہ آہستہ اس کے دل میں گھر کر گیا۔
ایک دن اعلان ہوا کہ دفتر میں پروموشن ہونے والی ہے۔ شفیق کو یقین تھا کہ یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ریکارڈ، حاضری اور کارکردگی، ہر لحاظ سے سلمان اس سے آگے تھا۔ اسی دن شفیق نے فیصلہ کرلیا:“اگر میں آگے نہیں جاسکتا، تو اسے بھی نہیں جانے دوں گا۔”
اس نے سلمان کے خلاف خاموش وار شروع کیے۔ فائلوں میں معمولی غلطیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا، افسر کے کان بھرتا رہا کہ سلمان کام میں لاپروا ہے، یہاں تک کہ ایک دن اس نے جھوٹا الزام لگادیا کہ سلمان نے ایک اہم فائل دیر سے جمع کرواکر نقصان پہنچایا ہے۔
یہ سب کرکے شفیق کے دل کو عجب سا سکون ملا۔ اسے لگا جیسے اس نے کوئی بڑی جنگ جیت لی ہو۔ مگر وہ بھول گیا تھا کہ اللہ سب سے بڑا گواہ ہے۔ سلمان کو جب الزامات کا علم ہوا تو وہ خاموش رہا۔ نہ اس نے بددعا دی، نہ شور مچایا۔
اس نے بس اتنا کہا: “اے اللہ! تُو سب جانتا ہے، میں اپنا معاملہ تیرے سپرد کرتا ہوں۔”
رات کو وہ سجدے میں دیر تک روتا رہا۔ اس کی زبان پر صرف ایک دعا تھی:
“یا اللہ! اگر کوئی میرے لیے بُرا چاہ رہا ہے تو مجھے صبر دے اور اگر میں کہیں غلط ہوں تو مجھے درست کردے۔”
ادھر شفیق کا غرور بڑھتا جا رہا تھا۔ وہ ہر روز سوچتا: “میں نے اسے دبا دیا، اب میری پروموشن پکی ہے۔” لیکن اللہ کی تدبیر کچھ اور تھی۔
چند ہفتوں بعد دفتر میں اچانک انکوائری شروع ہوئی۔ پرانی فائلیں دوبارہ کھولی گئیں۔
ہر کام کا ریکارڈ نکالا گیا۔ ای میلز، نوٹس اور دستخط سب سامنے آنے لگے۔ جلد ہی یہ بات واضح ہوگئی کہ جس فائل میں تاخیر کا الزام سلمان پر تھا، وہ دراصل شفیق کی اپنی میز پر رکی ہوئی تھی۔
سب راز فاش ہونے کے بعد شفیق کے ہاتھ پیر کانپنے لگے۔ اس کی راتوں کی نیند اُڑ گئی۔ وہی زبان جو دوسروں کے خلاف بولتی تھی، اب خاموش ہوگئی۔
انکوائری رپورٹ آئی۔ الزامات جھوٹے ثابت ہوئے۔ سلمان باعزت بری ہوگیا اور شفیق؟ اس پر جھوٹ، بددیانتی اور الزام تراشی ثابت ہوگئی۔ اس کی ترقی رک گئی، تنزلی ہوگئی اور سب سے بڑھ کر، دفتر میں اس کی عزت ختم ہوگئی۔
ایک دن شفیق تنہا مسجد کے ایک کونے میں بیٹھا تھا۔ دل بوجھل، آنکھیں نم، سر جھکا ہوا۔ وہ خود سے کہہ رہا تھا: “میں نے کسی کا بُرا چاہا تھا، مگر انجام میرا اپنا بُرا ہوگیا۔”
اسی وقت امام صاحب کا درس شروع ہوا۔ انہوں نے قرآن کی آیت کا ترجمہ پڑھا: بری چالیں بالآخر اپنے ہی کرنے والوں کو گھیر لیتی ہیں۔
یہ آیت شفیق کے دل میں اتر گئی۔ اسے لگا جیسے اللہ خود اس سے مخاطب ہو۔ کچھ دن بعد اس نے سلمان سے ملاقات کی۔ آنکھوں میں شرمندگی تھی، آواز میں لرزش۔
اس نے کہا: “میں نے تمہارا بُرا چاہا، مگر اللہ نے مجھے دکھا دیا کہ ظلم کس طرح پلٹتا ہے۔ مجھے معاف کردو۔”
سلمان نے سر جھکا کر کہا: “میں نے تمہیں کب کا معاف کر دیا تھا، کیونکہ میں جانتا تھا کہ انصاف انسان نہیں، اللہ کرتا ہے۔”
وہ دن شفیق کی زندگی کا نیا موڑ تھا۔ اس نے دل سے حسد نکال دیا۔ اللہ سے سچی توبہ کی۔ اب وہ کسی کے لیے گڑھا کھودنے کے بجائے اپنے دل کو صاف رکھنے کی فکر کرنے لگا۔ کیونکہ وہ جان چکا تھا: جو کسی کا بُرا چاہتا ہے، وہ دراصل اللہ کے نظام سے لڑتا ہے اور اس جنگ میں ہار ہمیشہ اسی کی ہوتی ہے۔