دبئی: گولڈن ویزا دبئی میں طویل مدتی رہائش کے لیے متعارف کرایا گیا تھا، یہ پروگرام گزشتہ چند برسوں سے سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات اور ہنرمند پیشہ ور افراد کے لیے خاص کشش رکھتا چلا آرہا ہے، تاہم حالیہ عرصے میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے بعد اس پروگرام میں دلچسپی میں نمایاں کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔
ماہرین کے مطابق خطے میں سیکیورٹی خدشات اور بے یقینی صورت حال نے بیرونی سرمایہ کاروں اور ہنرمند افراد کے فیصلوں کو متاثر کیا ہے۔ کئی ممکنہ درخواست دہندگان جو پہلے دبئی میں طویل مدتی رہائش حاصل کرنے کے خواہش مند تھے، اب محتاط رویہ اختیار کررہے ہیں۔ اس صورت حال کے باعث گولڈن ویزا کی نئی درخواستوں کی رفتار میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
گولڈن ویزا اسکیم کو متحدہ عرب امارات نے 2019 میں متعارف کرایا تھا جس کا مقصد عالمی سرمایہ کاروں، سائنسدانوں، ڈاکٹرز، انجینئرز اور باصلاحیت طلبہ کو طویل مدتی رہائش کی سہولت فراہم کرنا تھا۔ اس پروگرام کے تحت اہل افراد کو پانچ سے دس سال تک کی رہائش کی اجازت دی جاتی ہے جسے بعد میں تجدید بھی کیا جا سکتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں اس اسکیم کے ذریعے ہزاروں غیر ملکیوں نے دبئی اور دیگر امارات میں مستقل کاروبار اور رہائش کے مواقع حاصل کیے۔
تاہم حالیہ علاقائی کشیدگی نے سرمایہ کاری کے عمومی ماحول کو متاثر کیا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ دبئی اب بھی خطے کا ایک بڑا مالیاتی اور کاروباری مرکز ہے، لیکن بے یقینی حالات کی وجہ سے سرمایہ کار اس وقت محتاط حکمت عملی اختیار کررہے ہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ جیسے ہی خطے میں صورت حال بہتر ہوگی، گولڈن ویزا پروگرام دوبارہ اپنی سابقہ رفتار حاصل کر سکتا ہے۔
حکام کی جانب سے تاحال اس کمی کے بارے میں کوئی باضابطہ اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے، تاہم امیگریشن اور رئیل اسٹیٹ سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں نئے درخواست گزاروں کی تعداد میں کمی محسوس کی جارہی ہے۔ رئیل اسٹیٹ کے شعبے سے وابستہ افراد کے مطابق گولڈن ویزا پروگرام اکثر جائیداد میں سرمایہ کاری سے بھی جڑا ہوتا ہے، اس لیے درخواستوں میں کمی کا اثر پراپرٹی مارکیٹ پر بھی پڑسکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دبئی کی مضبوط معیشت، کاروباری سہولتوں اور عالمی رابطوں کے باعث یہ پروگرام طویل مدت میں اپنی اہمیت برقرار رکھے گا، تاہم موجودہ حالات میں اس کی رفتار سست ہونے کے آثار واضح دیکھے جارہے ہیں۔