مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں ایران کے اسرائیل پر میزائل حملے

تہران: ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق ملک نے اپنے نئے رہنما مجتبیٰ خامنہ‌ ای کی قیادت میں پہلی بار اسرائیل کی جانب میزائل داغے ہیں، میزائل کی تصویر بھی جاری کی گئی جس پر لکھا ہوا تھا ، لبیک سید مجتبیٰ۔
اس سے پہلے مجلس خبرگان رہبری نے آیت اللہ خامنہ ای شہید کے بیٹے مجتبیٰ علی کو تیسرے سپریم لیڈر کے طور پر متعارف کرایا اور مقرر کر دیا ہے، ایران کی سیاسی و عسکری قیادت نے نئے سپریم لیڈر کے ساتھ وفاداری کا عہد بھی کیا ہے۔
امریکا اور اسرائیل نے دو دن قبل تہران میں آئل ڈپو پر حملے کیے جس سے تیل کے ذخائر میں آگ بھڑک اٹھی، تیل بہنے سے سڑکوں پر بھی آگ پھیلتی نظر آئی۔
ایرانی دارالحکومت تہران میں اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد تباہ ہونے والے تیل کے ڈپو سے بہنے والا تیل شہر کے سیوریج نظام میں داخل ہوگیا، جس کے نتیجے میں سڑکوں کے کناروں پر آگ بھڑک اٹھی اور اسے مقامی طور پر آگ کی ندی قرار دیا جا رہا ہے۔
نیویارک میں قائم انسانی حقوق تنظیم نے اپنی نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس نے 7 تصاویر کی تصدیق کی ہے جن میں جنوبی لبنان کے رہائشی علاقے Yohmor پر وائٹ فاسفورس کے گولے فائر ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے گنجان آباد رہائشی علاقوں میں وائٹ فاسفورس کے گولے برسائے جبکہ 3 مارچ کو کیے گئے ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم دو گھروں میں آگ بھڑک اٹھی۔
اسپین اور جرمنی کے بعد سوئٹزرلینڈ نے بھی ایران پر امریکی اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دے دیا، امریکا اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملہ کرکے بین الاقوامی قانون کو توڑا ہے، تمام فریق سویلین آبادی کے تحفظ کیلئے لڑائی بند کردیں۔
سوئس وزیر دفاع فِسٹر کے مطابق فیڈرل کونسل کی رائے ہے کہ ایران پر حملہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، ہمارے نزدیک یہ تشدد کی ممانعت کے قانون کی خلاف ورزی ہے، وہ ان تمام ممالک کا ذکر کر رہے ہیں جو تشدد کی ممانعت کی پاسداری نہیں کر رہے، بشمول امریکا اور اسرائیل۔
مشرقی لبنان میں اسرائیلی زمینی فوج داخل ہوگئی جس کے بعد لبنانی افواج سے جھڑپیں شروع ہوگئیں، اسرائیلی فوج ہیلی کاپٹر کے ذریعے مشرقی لبنان میں اتری۔
لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے ایک اسرائیلی ہیلی کاپٹر کو تباہ کر دیا، اسرائیل نے دارالحکومت بیروت کے نواحی علاقے الغبیری پر حملے کیے جس میں کئی شہری شہید اور زخمی ہو گئے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے 24 گھنٹوں کے دوران 4 امریکی میزائل شکن دفاعی ریڈار تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، ایرانی حملے میں تل ابیب میں کئی عمارتیں تباہ ہو گئیں۔
اس سے قبل ایرانی پاسداران انقلاب نے 24 گھنٹے کے دوران 200 امریکی فوجی ہلاک اور زخمی کر نے کا دعویٰ کیا تھا۔
سعودی عرب نے پیر کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے حملے جاری رہے تو اس کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان خود تہران کو ہوگا۔
سعودی وزارت خارجہ نے ایران کی جانب سے سعودی مملکت اور دیگر خلیجی، عرب اور اسلامی ممالک پر کیے گئے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں گھناؤنا قرار دیا۔
بحرین کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کے ڈرون حملے کے نتیجے میں دارالحکومت کے قریب کم از کم 32 افراد زخمی ہوئے ہیں، تمام زخمیوں کا تعلق بحرین سے ہے، ان میں ایک 17 سالہ لڑکی بھی شامل ہے جس کے سر اور آنکھوں کی شدید چوٹیں آئی ہیں، سب سے کم عمر زخمی دو ماہ کا بچہ ہے۔
بحرین کی سرکاری ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں سے چار افراد کی حالت نازک ہے جن میں وہ بچے بھی شامل ہیں جنہیں سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق بحرین کی بیپکو آئل ریفائنری پر بھی حملہ ہوا ہے، ریفائنری سے گہرے دھوئیں کے بادل بلند ہوتے دیکھے گئے۔
عمانی وزیرخارجہ نے ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکا کی کارروائی کو غیراخلاقی اور غیرقانونی قرار دیا ہے۔
عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے ایک ہنگامی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے عمانی وزیر خارجہ نے ایران کی ہمسایوں کے خلاف جوابی کارروائی پر بھی اظہار افسوس کیا اور فریقین سے جنگ بندی کرکے سفارت کاری کی طرف لوٹنے کی اپیل کی۔

Iran Missile Attack on IsraelMojtaba KhameneiSupreme Leader Elected