مشرقِ وسطیٰ کا تنازع: دبئی کی معاشی کمزوری بے نقاب

2025 کے آخر میں خلیجی ریاستوں خاص طور پر یو اے ای کو معاشی مضبوطی اور لچک کے باعث بہت سراہا گیا تھا۔ World Bank اور World Economic Forum کی رپورٹس کے مطابق یہ خطہ مستحکم، جدید اور قابلِ اعتماد سمجھا جا رہا تھا اور اس کا مرکز و محور دبئی قرار پایا تھا۔
ایک ایسا تنازع جو اب علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے اور جس نے اچانک استحکام کو ختم کردیا ہے، اس میں دبئی کا بہت بڑا معاشی نقصان ہو سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں ایک وسیع مصنوعی ذہانت (AI) کیمپس قائم کیا گیا ہے۔
اسی طرح کے منصوبوں کی وجہ سے World Bank اور World Economic Forum نے حال ہی میں اس خطے کے بارے میں انتہائی مثبت رپورٹس شائع کی تھیں۔ دونوں اداروں نے 2025 کے آخر میں اتفاق کیا تھا کہ تیل کی دولت کو مستقبل کے لیے دانش مندی سے سرمایہ کاری میں تبدیل کیا جارہا ہے۔
عمومی رائے یہی تھی کہ GCC معاشی استحکام اور تنوع کا مرکز بن رہا ہے۔
لیکن اب تمام GCC ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملے ہوچکے ہیں۔ ڈرون حملوں نے تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ آبنائے ہرمز جو دنیا کی توانائی کی بڑی مقدار کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے، عملی طور پر بند ہو چکا ہے۔
ایران سے داغے گئے میزائلوں نے ایمازون ویب سروسز کی تین تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں ایک بحرین اور دو متحدہ عرب امارات میں تھیں۔ اس کے بعد کمپنی نے GCC کے کاروباری اداروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے ڈیٹا کا بیک اپ لے کر اسے امریکا کے ڈیٹا سینٹرز میں منتقل کریں۔
دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹیں تیزی سے گر گئی ہیں۔ توانائی کے بل اور پٹرول کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، یو اے ای و دبئی میں تیل اور گیس کی ریفائنریاں بند ہو چکی ہیں۔
اگرچہ معیشت کو تیل سے ہٹا کر متنوع بنانے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن فی الحال یہ خطہ اب بھی تیل کی برآمدات اور خوراک کی درآمدات پر واضح طور پر انحصار کرتا ہے، اسی لیے آبنائے ہرمز کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ یہاں کے بے شمار ڈی سیلینیشن پلانٹس (جو سمندری پانی کو پینے کے قابل بناتے ہیں) کے بارے میں بھی خدشات پیدا ہو گئے ہیں، کیونکہ یہی پلانٹس پینے کا پانی فراہم کرتے ہیں اور ساتھ ہی لگژری ہوٹلوں کے سوئمنگ پول اور گالف کورسز کو بھی برقرار رکھتے ہیں۔
اب دبئی کی وہ حیثیت بھی سوالیہ نشان بن گئی ہے جس کے تحت اسے کانفرنسوں کے منتظمین، سوشل میڈیا انفلوئنسرز، سیاحوں اور دوسرے گھروں کے مالکان کے لیے ایک محفوظ اور دھوپ بھری پناہ گاہ سمجھا جاتا تھا۔
اگرچہ یہ تنازع جلد ختم بھی ہوجائے، تب بھی ساکھ کو نقصان پہنچ چکا ہے۔ لوگ علاقے سے نکل رہے ہیں جبکہ دھویں سے بھرے آسمانوں کی تصاویر دنیا بھر میں نشر ہو رہی ہیں۔
یہ صورتحال قریبی مدت میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو یقینی طور پر متاثر کرے گی۔ تنازع کی نوعیت اور مدت اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا یہ خطہ دوبارہ سنبھل کر سیاحوں، نوجوان پیشہ ور افراد اور زیادہ دھوپ اور کم ٹیکس والی زندگی کے خواہش مند لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکے گا یا نہیں۔
جغرافیائی سیاسی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو دبئی کی حالیہ کامیابی اس کے وسیع اور آسانی سے نکالے جانے والے قدرتی وسائل کے علاوہ زیادہ تر اس سیاسی استحکام پر مبنی تھی جس کی ضمانت امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی اور امریکی ہتھیاروں کی خریداری سے ملتی تھی۔ اب یہی دونوں عوامل معاشی بوجھ بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

dubaieconomicsExposedMiddle East War