اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ بورڈ آف پیس کو ابراہام معاہدے سے جوڑنا غلط فہمی ہے، پاکستان ابراہام معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا اور پاکستان نے بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ رواں ہفتے صدر مملکت متحدہ عرب امارات کا دورہ کررہے ہیں، دورہ دونوں ممالک کے مابین دیرینہ تعلقات کا عکاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ڈیوس کا دورہ کیا، انہوں نے متعدد عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، انہوں نے واپسی پر ابوظہبی میں اسٹاپ اوور کیا، ابوظہبی میں انہوں نے اتصالات کے اعلی عہدیداران سے ملاقاتیں کیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نائب وزیراعظم نے ڈیوس سے واپسی پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا۔ نائب وزیراعظم کی اتصالات اور پی ٹی سی ایل کے صدر سمیت اہم شخصیات سے ملاقاتیں ہوئیں، ملاقاتوں میں دوطرفہ تجارتی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے غزہ بورڈ آف پیس کو خلوصِ نیت سے جوائن کیا، پاکستان سمیت 7 دیگر اہم مسلم ممالک نے بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کی، بورڈ آف پیس کے ذریعے پاکستان فلسطین میں امن کا خواہاں ہے، پاکستان غزہ کی تعمیرِ نو اور بہتری کے لیے بورڈ آف پیس کا حصہ بنا۔
ان کا کہنا تھا کہ بورڈ آف پیس سے متعلق ابراہام اکارڈ کے الزامات بے بنیاد ہیں، غزہ بورڈ آف پیس کا ابراہام اکارڈ سے کوئی تعلق نہیں، بورڈ آف پیس کے فریم ورک پر عمل درآمد کے لیے پاکستان پُرامید ہے، پاکستان 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا حامی ہے، آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت القدس الشریف ہونا چاہیے۔
طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بورڈ آف پیس میں نیک نیتی کے تحت شمولیت اختیار کی، بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم بنانا ہے، بورڈ آف پیس کا دوسرا مقصد غزہ کی تعمیر نو میں معاونت ہے، تیسرا مقصد فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت پر مبنی دیرپا امن کا قیام ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان اکیلا نہیں بلکہ7 دیگر مسلم ممالک بھی بورڈ آف پیس میں شامل ہیں، سعودی عرب، مصر، اردن، یو اے ای، انڈونیشیا اور قطر بھی بورڈ آف پیس کا حصہ ہیں، بورڈ آف پیس کا آغاز گزشتہ برس ستمبر میں اجتماعی کوشش کے تحت ہوا، بورڈ آف پیس غزہ اورمسئلہ فلسطین کے لیے امید کی کرن ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2 برس سے غزہ کےعوام شدید تباہی اور انسانی بحران کا شکار ہیں، اقوام متحدہ کی کوششیں اسرائیلی جارحیت روکنے میں ناکام رہیں، بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی منظوری حاصل ہے، بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کا متبادل نہیں بلکہ معاون پلیٹ فارم ہے۔
طاہر حسین اندرابی کا کہنا تھا کہ بورڈ آف پیس کو ابراہام معاہدے سے جوڑنا غلط فہمی ہے، پاکستان ابراہام معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا اور پاکستان نے بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے، انڈیا اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاہدے پر تبصرہ نہیں کریں گے، ڈی آئی خان حملے میں افغان حملہ آور کی شمولیت ایک پیٹرن ہے، اصل میں افغان نیشنلز پاکستان میں دہشت گردی کررہے ہیں، ڈی آئی خان حملے کا معاملہ دو طرفہ اور دیگر پلیٹ فارمز پر اٹھایا گیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سزا پاکستان کا داخلی معاملہ ہے۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ ایمان مزاری کیس میں جج مجوکہ کے ایران سے متعلق ریمارکس ذاتی رائے ہے، ایران سے متعلق ایسا کوئی مؤقف پاکستان کا نہیں ہے۔
دفتر خارجہ نے جج مجوکہ کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کردیا جب کہ ایمان مزاری کیس میں جج مجوکہ نے ایران کو دہشت گرد ریاست قرار دیا تھا۔