عبدالعزیز بلوچ
شہر کی گلیوں میں روشنیوں کی چمک تو رمضان کے آنے سے بڑھ گئی تھی، لیکن دلوں کی روشنی کہیں غائب سی تھی۔ لوگ تیز رفتاری میں اپنے کاموں میں مگن تھے، اکثریت لوگوں میں جھوٹ، حسد اور بے حسی کے آثار صاف دکھائی دے رہے تھے۔ چھوٹے کاروباری لوگ اپنے مفادات کے لیے جھوٹ بولتے، پڑھے لکھے لوگ اپنی عہدوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے اور معاشرتی حسد اتنی بڑھ گئی تھی کہ ہر کوئی اپنے پڑوسی کی خوشی پر رشک کرتا۔ اس محلے میں اصلاح کی ضرورت خاصی شدت سے محسوس ہوتی تھی۔ نیکیاں بُرائیوں کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ کہانی اسی محلے کی ہے، جسے ایک شخص کی کوششوں اور اصلاحی اقدامات نے بدل ڈالا۔اگر سب لوگ اپنے محلوں میں اصلاح کی ادنیٰ سی کوششیں بھی جاری رکھیں تو ہمارا معاشرہ مثالی بن سکتا ہے۔
علی، ایک درمیانے درجے کا شخص تھا، جو پہلے خود بھی دنیاوی مفادات میں اتنا ڈوبا ہوا تھا کہ دوسروں کی پریشانی پر کبھی غور نہیں کیا، لیکن رمضان کی آمد نے اس کے دل میں ایک چھوٹی سی روشنی پیدا کی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اس ماہ میں وہ نہ صرف اپنے اعمال بہتر کرے گا، بلکہ معاشرے میں بھی نیکی اور انصاف کی روشنی پھیلائے گا۔
پہلا دن تھا، علی نے اپنے محلے میں دیکھا کہ ایک چھوٹا بچہ بازار میں بھیک مانگ رہا ہے اور اس کے والدین بیمار اور لاچار تھے۔ علی نے اپنی چھوٹی سی بچت میں سے کچھ دیا، لیکن اس نے دل ہی دل میں سوچا: "صرف چند پیسے دینا کافی نہیں، مسئلہ زیادہ گہرا ہے۔” اس نے اپنے محلے کے دوستوں کو جمع کیا اور اُن سے کہا: "رمضان صرف روزہ رکھنے اور نماز پڑھنے کا مہینہ نہیں ہے۔ یہ مہینہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہماری معاشرت میں ظلم، بے حسی اور حسد کے زہر کو ختم کرنا ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے کے ساتھ ایمان داری، محبت اور رواداری سے پیش آئیں، تو ہمارا محلہ، ہمارا شہر، ہمارا ملک بدل سکتا ہے۔”
دوست پہلے تو حیران ہوئے، لیکن علی کی سچائی اور جذبے نے سب کے دل چھو لیے۔ اس نے اگلے دن محلے کے چھوٹے کاروباری افراد کے ساتھ مل کر ایک شفاف تجارتی ضابطہ قائم کیا، تاکہ کوئی بھی جھوٹ یا دھوکہ نہ کرسکے۔ اس نے بزرگوں اور یتیم بچوں کے لیے کھانے اور کپڑوں کا انتظام کیا اور لوگوں کو سکھایا کہ صدقہ، حسنِ سلوک اور ایمان داری سب سے بڑی عبادت ہے۔
علی اکثر اپنے دوستوں سے کہتا: "یہ دنیا صرف لینے کے لیے نہیں، دینے کے لیے بھی ہے۔ اگر ہم اپنی چھوٹی چھوٹی نیکیوں سے دوسروں کا بھلا کریں، تو ظلم، حسد اور بے حسی کے سائے کم ہوسکتے ہیں۔ رمضان ہمیں یہی سبق دیتا ہے۔”
آہستہ آہستہ محلے کی فضا بدلنے لگی۔ لوگ ایک دوسرے کی مدد کرنے لگے، جھوٹ اور دھوکہ کم ہوا، حسد اور خودغرضی کی جگہ رواداری اور محبت نے لے لی۔ محلے میں بچے، بوڑھے اور عورتیں اب زیادہ محفوظ اور خوش محسوس کرنے لگے۔
یہ سب کچھ چھوٹے چھوٹے اقدامات سے ممکن ہوا۔ اگر ہم سب بھی اپنی زندگی میں ایمان داری، رواداری اور حسنِ سلوک کو اپنائیں، تو پورا معاشرہ بدل سکتا ہے۔ ہمیں نہ صرف اپنے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی جینا سیکھنا ہوگا۔
ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ یااللہ، ہمارے دلوں سے حسد، جھوٹ اور ظلم کو دُور کردے اور ہمیں رمضان کی روشنی میں نیکی اور انصاف کے راستے پر چلنے کی توفیق دے۔”
علی جانتا تھا کہ یہ تبدیلی صرف رمضان تک محدود نہیں، بلکہ ہر دن کے لیے رہنی چاہیے، تاکہ معاشرہ حقیقی معنوں میں بہتر ہو، دل صاف ہوں اور ہر انسان کے اعمال دوسروں کے لیے باعث رحمت بنیں۔