محمد راحیل وارثی
شہر صرف اینٹ، پتھر، سڑکوں اور بلند و بالا عمارتوں سے نہیں بنتے، بلکہ ان کے اصل معمار وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے کردار، محبت اور خدمت کے ذریعے انہیں زندہ رکھتے ہیں۔ دنیا کے بڑے شہروں کی تاریخ میں اگر کسی شہر نے انسان دوستی، ایثار، رواداری اور بے زبان مخلوق پر رحم کی ایسی روشن مثالیں قائم کی ہیں جن پر آج بھی فخر کیا جاسکتا ہے تو ان میں کراچی کا نام نمایاں ہے۔
آج کا نوجوان کراچی کو ٹریفک جام، آلودگی، شور، بے ہنگم آبادی اور دیگر مسائل سے دوچار شہر کے طور پر جانتا ہے، لیکن چند دہائیاں پہلے یہی کراچی محبت، تہذیب، خدمت اور احساس کا ایسا گلستان تھا جہاں انسان تو انسان، پرندے اور جانور بھی خود کو محفوظ محسوس کرتے تھے۔ اس شہر کی گلیوں میں صرف کاروبار نہیں ہوتا تھا، بلکہ انسانیت بھی سانس لیتی تھی۔
کراچی کی تاریخ میں ایک نام ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھا جائے گا اور وہ ہے جمشید نسروانجی مہتا۔ انہیں جدید کراچی کا معمار کہا جاتا ہے۔ کراچی کا پہلا میئر ہونے کا اعزاز انہیں حاصل ہے۔ وہ صرف ایک منتظم یا سیاست دان نہیں تھے بلکہ ایک ایسے انسان تھے جن کے دل میں ہر جاندار کے لیے محبت تھی۔ کہتے ہیں کہ گرمیوں کے دنوں میں وہ شہر کا دورہ کرتے تو جہاں کہیں پرندوں یا جانوروں کے لیے پانی کی کمی محسوس ہوتی، فوراً وہاں پتھر یا سیمنٹ کے خوبصورت حوض بنوانے کا حکم دیتے۔ ان کا کہنا تھا کہ "جس شہر میں پرندے پیاسے ہوں، وہاں انسان بھی سکون سے نہیں رہ سکتے۔” آج بھی کراچی کے بعض پرانے علاقوں میں ایسے پانی کے حوض ان کے عظیم وژن کی یاد دلاتے ہیں۔ یہ ایک ایسی فکر تھی جو انسان کو کائنات کی ہر مخلوق کا ذمے دار سمجھتی تھی۔
کراچی کی فلاحی تاریخ صرف ایک شخصیت تک محدود نہیں۔ پارسی برادری کے متعدد خاندانوں نے اپنی دولت کو محلات بنانے کے بجائے اسپتال، اسکول، لائبریریاں، باغات، مسافر خانے اور رفاہی ادارے بنانے پر خرچ کیا۔ ایڈلجی ڈنشا، کاوس جی اور دیگر مخیر شخصیات نے یہ ثابت کیا کہ دولت کی اصل خوبصورتی اس کے خرچ کرنے میں ہے۔ کراچی کی تعمیر و ترقی اور فلاحی خدمات میں میمن برادری کا کردار بھی ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ اس برادری کے تاجروں اور مخیر حضرات نے اسپتالوں، تعلیمی اداروں، مساجد، یتیم خانوں، لنگر خانوں اور فلاحی منصوبوں پر دل کھول کر خرچ کیا۔ خاموشی سے خدمت کرنا، ضرورت مندوں کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا اور معاشرے کو واپس لوٹانا میمن برادری کی ایسی روشن روایات ہیں جنہوں نے کراچی کی سماجی اور معاشی ترقی میں گراں قدر کردار ادا کیا۔
پرانے کراچی کے بزرگ ایک دلچسپ واقعہ سناتے تھے کہ صدر اور برنس روڈ کے اطراف کئی دکان دار ہر صبح اپنی دکان کھولنے سے پہلے کبوتروں کے لیے دانہ اور پانی رکھتے تھے۔ یہ کوئی سرکاری مہم نہیں تھی بلکہ لوگوں کی اپنی تربیت تھی۔ ان کا ماننا تھا کہ جس رزق میں پرندوں کا بھی حصہ ہو، اس کاروبار میں برکت رہتی ہے۔ یہ روایت برسوں تک کراچی کی پہچان بنی رہی۔
اگر انسانیت کی خدمت کا ذکر ہو اور عبدالستار ایدھی کا نام نہ آئے تو بات ادھوری رہ جاتی ہے۔ ایدھی صاحب نے دنیا کو یہ سکھایا کہ خدمت کے لیے نہ حکومت کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ بڑی دولت کی، بلکہ صرف ایک زندہ دل چاہیے۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایدھی صاحب کو اطلاع ملی کہ ایک زخمی گدھا کئی گھنٹوں سے سڑک کنارے تڑپ رہا ہے۔ لوگ گزرتے رہے مگر کوئی نہ رکا۔ ایدھی صاحب خود وہاں پہنچے، جانور کو اٹھوا کر علاج کے لیے بھیجا اور اپنے ساتھیوں سے کہا: "جو انسان بے زبان کی تکلیف محسوس نہیں کرتا، وہ انسان کی تکلیف بھی زیادہ دیر محسوس نہیں کرسکتا۔” یہ ایک جملہ نہیں بلکہ انسانیت کا ایسا سبق ہے جسے ہر نسل تک پہنچنا چاہیے۔ بلقیس ایدھی نے بھی اپنی پوری زندگی بے سہارا بچوں، خواتین اور لاوارث انسانوں کی خدمت کے لیے وقف کردی۔ ہزاروں نومولود بچوں کو نئی زندگی ملی، سیکڑوں خواتین کو تحفظ ملا اور لاتعداد خاندانوں کو امید ملی۔ ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ خدمت صرف مردوں کا میدان نہیں بلکہ خواتین بھی تاریخ رقم کرسکتی ہیں۔
کراچی میں کئی برسوں تک رمضان المبارک میں ایک عجیب خوبصورت منظر دیکھنے کو ملتا تھا۔ لوگ اپنے گھروں کے باہر صرف انسانوں کے لیے نہیں بلکہ پرندوں کے لیے بھی پانی کے برتن رکھتے تھے۔ بچوں کو سکھایا جاتا تھا کہ صبح اسکول جانے سے پہلے پانی تبدیل کرنا ہے تاکہ کوئی چڑیا پیاسی نہ رہے۔ یہ معمولی سا عمل دراصل ایک پوری تہذیب کی علامت تھا۔ کراچی کے کوچوان، تانگہ بان اور مزدور بھی اپنے گھوڑوں اور گدھوں کو گھر کے فرد کی طرح رکھتے تھے۔ بزرگ بتایا کرتے تھے کہ اگر کسی کوچوان کا گھوڑا بیمار ہوجاتا تو وہ کئی دن خود فاقہ کرلیتا لیکن جانور کے چارے میں کمی نہ آنے دیتا۔ اس زمانے میں جانور کو صرف ذریعہ معاش نہیں بلکہ اللہ کی امانت سمجھا جاتا تھا۔
وقت کے ساتھ شہر کی رفتار تیز ہوتی گئی، آبادی بڑھتی گئی، اقدار بدلتی گئیں اور ہم شاید اپنی انہی خوبصورت روایتوں کو پیچھے چھوڑتے گئے۔ آج سڑکوں پر زخمی جانور گھنٹوں تڑپتے رہتے ہیں، گرمی میں پرندے پانی کو ترستے ہیں اور بہت سے لوگ بے حسی سے گزر جاتے ہیں۔ لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ آج بھی کراچی میں ایسے نوجوان موجود ہیں جو خاموشی سے اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان اینیمل ویلفیئر سوسائٹی (PAWS)، اے سی ایف اینیمل ریسکیو اور دیگر رضاکار تنظیمیں زخمی کتوں، بلیوں، گدھوں اور دیگر جانوروں کا علاج کرتی ہیں، انہیں پناہ دیتی ہیں اور نئی زندگی فراہم کرتی ہیں۔ ان کے رضاکار شدید گرمی، بارش اور رات کی تاریکی میں بھی صرف اس لیے نکلتے ہیں کہ کوئی بے زبان تکلیف میں نہ رہے۔ یہ لوگ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ کراچی کی اصل روح ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو صرف کامیاب ڈاکٹر، انجینئر یا افسر بننے کی تعلیم نہ دیں بلکہ انہیں ایک اچھا انسان بننے کا سبق بھی سکھائیں۔ انہیں بتائیں کہ درخت لگانا بھی عبادت ہے، پرندے کو پانی پلانا بھی صدقہ ہے، زخمی جانور کی مدد کرنا بھی انسانیت ہے اور کسی ضرورت مند کے چہرے پر مسکراہٹ لانا بھی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اگر ہم روزانہ صرف ایک نیکی کا عہد کرلیں، ایک پرندے کے لیے پانی رکھ دیں، ایک درخت لگادیں، کسی بھوکے کو کھانا کھلا دیں، کسی زخمی جانور کی اطلاع متعلقہ ادارے کو دے دیں یا کسی مجبور انسان کا ہاتھ تھام لیں، تو یقین مانیے کراچی دوبارہ وہی شہر بن سکتا ہے جس پر کبھی پوری دنیا رشک کرتی تھی۔
تاریخ صرف کتابوں میں محفوظ رکھنے کی چیز نہیں ہوتی بلکہ اسے زندہ رکھنا پڑتا ہے۔ کراچی کا سنہرا ماضی ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ ترقی صرف بلند عمارتوں سے نہیں آتی، بلکہ بلند کردار سے آتی ہے۔ جب انسان اپنے ساتھ ساتھ اللہ کی ہر مخلوق کا خیال رکھنا شروع کر دیتا ہے تو شہر بھی خوبصورت ہو جاتے ہیں اور معاشرے بھی۔ آئیے، اپنے بزرگوں کی اس عظیم روایت کو پھر سے زندہ کریں، تاکہ آنے والی نسلیں بھی فخر سے کہہ سکیں کہ کراچی صرف روشنیوں کا شہر نہیں، بلکہ انسانیت، محبت اور رحم دلی کا بھی شہر ہے۔