ایران کا سعودی عرب کی تنصیبات پر غیر ذمے دارانہ اور جارحانہ حملہ

تہران/ ریاض: سعودی عرب پر ایران کا غیر ذمے دارانہ حملہ، اس حملے سے پہلے کسی ملک بشمول اسرائیل نے سعودی عرب پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں کی۔ ایران کا سعودی شہر الجبیل کی پٹرولیم تنصیبات پر حملہ نہ صرف سعودی عرب بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات پہ حملہ ہے۔
ایران کا سعودی عرب کے شہر الجبيل آئل ریفائنری اور پیٹرو کیمیکل تنصیبات پرحملہ کسی صورت بھی امریکی تنصیبات پر جوابی حملے کے ساتھ تشبیہ نہیں دیا جاسکتا۔
سعودی عرب نے ہمیشہ اس امر کی یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کی سرزمین پر موجود امریکی bases ایک معاہدے کے تحت قائم ہیں اور ان Bases کو کبھی بھی ایران کے خلاف جارحانہ استعمال کی اجازت نہیں دی گئی۔
اگر کوئی ملک سعودی عرب کی معاشی اہمیت کی حامل تنصیبات پر حملہ کرے گا تو یقیناً اس کے منفی اثرات سعودی عرب کے مجموعی تحفظ و استحکام پر پڑنے کا خدشہ ہے۔ سعودی عرب پر کوئی بھی وار حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے ایک براہ راست خطرہ ہے، جو بطور محافظ حرمین شریفین پاکستان کو قطعی طور پر قابل قبول نہیں۔
پاکستان مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی ابتدا سے ہی ایران کو باور کرانے کی کوشش کرتا آرہا ہے کہ پڑوسی ممالک خصوصاََ سعودی عرب پر حملے کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ پاکستان کے اس اصرار کے باوجود ایران سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
اس کے برعکس سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود کو دفاعی اقدامات تک محدود رکھے ہوئے ہیں۔
ایران کا یہ حملہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کی جانے والی مفاہمتی کاوشوں پر ایک کاری ضرب ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے نازک وقت پر کیا گیا ہے جب جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں حساس جانب گامزن ہیں۔ یہ حملہ ان سفارتی کاوشوں کو بڑی حد تک compromise کرتا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے مابین باہمی دفاعی معاہدہ اور اس کے مضمرات سے مکمل آگاہ ہونے کے باوجود ایران کا یہ حملہ ایرانی اور عرب ممالک کے عوام
کے لیے مشکلات پیدا کرنے اور مسلم اُمّہ کے مفادات سے متصادم ہے۔
یہاں یہ امر بھی واضح ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دیرینہ اور تاریخی تعلقات فرقہ واریت اور کسی لسانی تفریق سے بالاتر ہیں۔ حرمین شریفین پاکستان میں بسنے والے تمام مسلمانوں کے لیے معظم اور مقدس ہےـ
پاکستان سعودی عرب پر ہونے والے ان حملوں کی نہ صرف بھرپور مذمت کرتا ہے بلکہ فریقین کی طرف سے صبر و تحمل کا خواہش مند ہے۔
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ دو مسلمان فریقین میں سے ایک فریق زیادتی کررہا ہو تو دوسرے فریق کے ساتھ کھڑے ہونے کو ترجیح دی جاتی ہے۔
اس طرح کے جارحانہ اور غیر ذمے دارانہ اقدامات پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے عوام اور معاشی استحکام کے لیے خطرناک ہیں اور توانائی تنصیبات پر اس طرح کے حملے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کرسکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ نہ صرف ان حملوں کی مذمت کی جائے، بلکہ ان کو ہر صورت روکا جائے۔

Iran Attack Saudi Oil Plantirresponsible and aggressive attackPakistan condemned