بلال ظفر سولنگی
پچھلے کچھ دنوں سے امریکا اور ایران کے درمیان حالات خاصے کشیدہ شکل اختیار کرچکے ہیں۔ اب ایران اور امریکا کے درمیان ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی بحالی کی خبریں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب مشرقِ وسطیٰ اور خطہ جنوبی ایشیا شدید سیاسی، عسکری اور سفارتی تناؤ کی لپیٹ میں ہے۔ استنبول میں متوقع ان مذاکرات میں پاکستان کو باضابطہ طور پر شرکت کی دعوت دینا نہ صرف پاکستان کی سفارتی اہمیت کا اعتراف ہے بلکہ یہ خطے میں امن کے لیے اس کے ممکنہ تعمیری کردار کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے اس دعوت کی تصدیق اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی متوقع شرکت اس امر کی نشان دہی کرتی ہے کہ پاکستان اس عمل کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ ایران اور امریکا کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے کشیدگی، عدم اعتماد اور تصادم کا شکار رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ان میں خاصی شدت دیکھنے میں آئی ہے۔ جوہری معاہدے (JCPOA) سے امریکا کی یکطرفہ علیحدگی کے بعد حالات مزید بگڑ گئے تھے۔ ایسے میں ترکیے میں دوبارہ بات چیت کا آغاز، وہ بھی علاقائی ممالک کی شمولیت کے ساتھ، ایک اہم پیش رفت تصور کی جارہی ہے۔ خاص طور پر پاکستان، سعودی عرب، قطر، عمان، مصر اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ محض دوطرفہ معاملہ نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کو ان مذاکرات میں مدعو کیے جانے کے پس منظر میں اس کی متوازن خارجہ پالیسی، ایران اور امریکا دونوں کے ساتھ تعلقات اور حالیہ برسوں میں سفارتی سرگرمیوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں کشیدگی کم کرنے، مکالمے کے فروغ اور تنازعات کے پُرامن حل پر زور دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیک ڈور سفارت کاری میں پاکستان اور ترکیے کا کردار نمایاں بتایا جارہا ہے۔ یہ امر پاکستان کے لیے ایک سفارتی کامیابی بھی ہے اور ایک ذمے داری بھی۔ ایرانی سفارتی ذرائع کا یہ کہنا کہ ایران نہ زیادہ پُرامید ہے اور نہ ہی مایوس، دراصل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تہران اس بار بات چیت کو حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھ رہا ہے۔ ایران کا مؤقف واضح ہے کہ وہ دھمکیوں، دباؤ اور غیر معقول مطالبات کے بغیر برابری کی بنیاد پر مذاکرات چاہتا ہے۔ ساتھ ہی ایران نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ اس کی دفاعی صلاحیتیں کسی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں بن سکتیں۔ یہ سخت مؤقف اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ مذاکرات آسان نہیں ہوں گے اور فریقین کو لچک اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ دوسری طرف امریکا کی جانب سے نمائندہ خصوصی اسٹیو ویٹکوف کی شرکت اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن بھی سفارتی راستہ اختیار کرنے پر آمادہ دکھائی دے رہا ہے۔ عالمی برادری، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کے ممالک، ایک نئی جنگ یا بڑے تصادم کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ غزہ، یوکرین اور دیگر عالمی تنازعات کے باعث دنیا پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ایسے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ قطر، سعودی عرب اور عمان جیسے ممالک کی جانب سے مسلسل ثالثی کی کوششیں بھی قابلِ ذکر ہیں۔ قطر کی وزارت خارجہ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے ممالک ایک مشترکہ مؤقف کے تحت کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ یہ ایک مثبت رجحان ہے کیونکہ ماضی میں اکثر عالمی طاقتیں خطے کے مسائل کو اپنے مفادات کے تحت دیکھتی رہی ہیں، جس کے نتائج ہمیشہ تباہ کن نکلے۔ پاکستان کے لیے یہ مذاکرات کئی حوالوں سے اہم ہیں۔ ایک طرف یہ پاکستان کو عالمی سفارتی منظرنامے میں ذمے دار اور مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں، تو دوسری جانب یہ اس کی خارجہ پالیسی کے توازن کا امتحان بھی ہیں۔ پاکستان کو نہایت احتیاط، دانش مندی اور غیر جانب داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ کسی ایک فریق کے زیادہ قریب جانے کا تاثر نہ پیدا ہو۔ اسحاق ڈار کی متوقع شرکت اس حوالے سے اہم ہے کیونکہ انہیں معاشی اور سفارتی دونوں محاذوں پر تجربہ حاصل ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کسی حد تک اعتماد سازی ہو جاتی ہے تو اس کے مثبت اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔ توانائی کے منصوبے، تجارتی راہیں، علاقائی استحکام اور سلامتی کے معاملات میں بہتری آ سکتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے، جو پہلے ہی معاشی چیلنجز کا سامنا کررہا ہے، ایک مستحکم خطہ بے حد ضروری ہے۔ تاہم یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ استنبول مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات ایک طویل، پیچیدہ اور نازک عمل ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود بات چیت کا آغاز ہی ایک مثبت قدم ہے۔ پاکستان سمیت دیگر علاقائی ممالک کی موجودگی اس عمل کو مزید شفاف، جامع اور متوازن بنا سکتی ہے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ استنبول میں ہونے والے مذاکرات نہ صرف ایران اور امریکا کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے ایک امتحان ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس موقع کو امن، مکالمے اور سفارت کاری کے فروغ کے لیے استعمال کرے۔ اگر یہ کوششیں کامیاب ہوجاتی ہیں تو یہ خطے کو ایک نئی جنگ سے بچانے اور استحکام کی طرف لے جانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ بصورت دیگر، ناکامی کی صورت میں اس کے نتائج بھی پورے خطے کو بھگتنا پڑسکتے ہیں۔ اس لیے امید یہی کی جانی چاہیے کہ عقل، تدبر اور سفارت کاری کی جیت ہو۔