میلبورن: پاکستانی نژاد آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔
عثمان خواجہ کا 15 سالہ ٹیسٹ کیریئر صرف کرکٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ میدان سے باہر بھی ایک مضبوط آواز بن کر ابھرے۔
39 سالہ عثمان خواجہ نے ایک طویل اور جذباتی پریس کانفرنس میں اپنے کیریئر کے ساتھ نسلی امتیاز اور شناخت کے مسائل پر بھی کھل کر بات کی۔
پاکستان میں پیدا ہونے والے عثمان خواجہ پانچ سال کی عمر میں آسٹریلیا منتقل ہوئے جو بعدازاں آسٹریلیا کی نیشنل ٹیم کی نمائندگی کرنے والے پہلے مسلمان کرکٹر بنے۔
انہوں نے بتایا کہ ماضی میں انہیں نسلی تعصب کا سامنا رہا، اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کرنی پڑتی تھی۔ کرکٹ ٹیم میں جگہ بنانے کے لیے خود کو دوسروں جیسا دکھانے کی کوشش کی، مگر اس کے باوجود انہیں بار بار ٹیم سے باہر کیا گیا۔
عثمان خواجہ نے کہا کہ 2012 میں کوئنزلینڈ منتقل ہونے کے بعد اپنی اصل شخصیت کو قبول کیا، جس کا مثبت اثر میری کارکردگی پر بھی پڑا۔
انہوں نے بتایا کہ میں فخریہ مسلمان ہوں، میرا تعلق پاکستان سے ہے۔ مجھے ملسمان ہونے کی وجہ سے کہا گیا تم آسٹریلیا کے لیے نہیں کھیل سکو گے، لیکن آج میں یہاں بیٹھا ہوں۔
عثمان خواجہ نے حالیہ ایشز سیریز کے دوران ہونے والی تنقید کو بھی نسلی تعصبات سے جوڑا، جب انہیں گالف کھیلنے پر غیر معمولی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کے مطابق اسی طرح کے معاملات میں دیگر کھلاڑیوں کو کبھی نشانہ نہیں بنایا گیا۔
انہوں نے کرکٹ میں شمولیت، تنوع اور مساوات پر بھی بات کی اور کہا کہ اگرچہ بہتری آئی ہے مگر اب بھی چیلنجز موجود ہیں۔ فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے پر انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ وہ نفرت کے بجائے اتحاد اور انسانیت کی بات کرتے رہیں گے۔
آخر میں عثمان خواجہ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں ایک اچھے انسان، عاجز کرکٹر اور نوجوانوں کے لیے امید کی علامت کے طور پر یاد رکھا جائے، خاص طور پر ان بچوں کے لیے جو خود کو مختلف یا نظرانداز محسوس کرتے ہیں۔