پانی کی پلاسٹک بوتلیں کتنی خطرناک، ماہرین کا انتباہ

کراچی: نئی تحقیق کے مطابق روزمرہ کی استعمال کی اشیاء سے نکلنے والے مائیکرو پلاسٹک براہ راست لبلبے کو نقصان پہنچاسکتی ہے۔
گزشتہ مطالعوں میں مائیکرو پلاسٹکس کو صحت کے متعدد مسائل سے جوڑا گیا ہے۔ ان مسائل میں ہارمون میں خلل، ذیابیطس، فالج اور متعدد اقسام کے کینسر شامل ہیں۔ لیکن زیادہ تر مطالعوں میں براہ راست تعلق قائم نہیں کیا جاسکا تھا۔
تازہ ترین تحقیق میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ پولی ایتھائلین ٹیریفتھالیٹ (PET، پلاسٹک کی بوتلوں کا اہم جزو) لبلبے پر زہریلے اثرات ڈالتا ہے۔
پولینڈ اور اسپین سے تعلق رکھنے والے محققین کو ایک تحقیق میں دیکھا گیا کہ PET مائیکرو پلاسٹکس نے خنزیروں کے لبلبے کے خلیوں پر زہریلے اثرات مرتب کیے، جو ممکنہ طور پر ذیابیطس اور موٹاپے کا سبب بنے۔
سائنس دانوں نے خنزیر کے لبلبے پر مختلف مقدار کی PET مائیکرو پلاسٹکس افشا کی اور خلیاتی سطح پر چکنائی کے جمع ہونے میں اور زہر پھیلنے کا جائزہ لیا۔
سائنس دانوں نے حاصل شدہ تشویش ناک شواہد میں دیکھا کہ PET مائیکرو پلاسٹکس لبلبے کے اندر خلیات کی موت کو بڑھاسکتے ہیں اور عضو کی فعالیت میں خلل ڈال سکتے ہیں۔ یہ مائیکرو پلاسٹکس براہ راست لبلبے کے فعال ہونے کے لیے ضروری پروٹینز کو متاثر کرتے ہیں۔

Experts warnHow dangerous For HealthPlastics Bottles