شہدا کی عظمت اور قومی شعور کا تقاضا

اسد احمد

قوموں کی تاریخ میں کچھ اقدار ایسی ہوتی ہیں جو سیاسی اختلافات، نظریاتی تقسیم اور وقتی مفادات سے کہیں بلند مقام رکھتی ہیں۔ وطن پر جان نچھاور کرنے والے شہدا انہی مقدس اقدار میں شامل ہیں۔ وہ لوگ جو اپنی زندگی کا چراغ اس لیے بجھا دیتے ہیں کہ قوم کے گھروں میں امن کے چراغ روشن رہیں، ان کی قربانی کسی ایک ادارے، جماعت یا طبقے کی نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ سرمایہ ہوتی ہے۔ اسی لیے شہدا کا احترام ہر مہذب معاشرے کی اخلاقی اور قومی ذمے داری سمجھا جاتا ہے۔
گزشتہ دنوں شہدا سے متعلق ایک سیاسی بیان نے ملک میں وسیع بحث چھیڑ دی ہے۔ مختلف حلقوں نے اس پر اپنے اپنے زاویۂ نظر سے تبصرہ کیا، بعض نے اسے تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ بعض نے وضاحتیں پیش کیں۔ یہ واقعہ ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ قومی حساسیت سے جڑے موضوعات پر الفاظ کے انتخاب میں غیر معمولی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ سیاست میں اختلاف رائے فطری امر ہے، لیکن جب گفتگو ان شخصیات یا قربانیوں تک پہنچ جائے جن سے پوری قوم کی وابستگی ہو، تو ذمے داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ شہادت محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایثار، وفاداری اور قربانی کی معراج کا نام ہے۔ ایک سپاہی جب وطن کے دفاع کے لیے اپنی جان قربان کرتا ہے تو وہ صرف اپنی زندگی نہیں دیتا بلکہ اپنے خاندان کی خوشیاں، اپنے بچوں کا مستقبل اور اپنے والدین کا سہارا بھی قوم پر نچھاور کر دیتا ہے۔ ایسے عظیم ایثار کے سامنے الفاظ ہمیشہ چھوٹے پڑ جاتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ جمہوری معاشروں میں اختلاف رائے ہر شہری اور ہر سیاسی رہنما کا حق ہے۔ ریاستی پالیسیوں، حکومتی فیصلوں یا اداروں کی کارکردگی پر تنقید کی جاسکتی ہے، لیکن شہدا کی قربانیوں کے احترام کو سیاسی کشمکش کا حصہ بنانا قومی وحدت کے لیے سودمند نہیں ہوتا۔ ایسی گفتگو اکثر غیر ضروری تلخی کو جنم دیتی ہے اور عوامی جذبات کو مجروح کرتی ہے۔
قومی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی، انتہاپسندی اور سرحدی خطرات کے خلاف طویل جدوجہد کی ہے۔ اس دوران ہزاروں فوجی اہلکاروں، پولیس جوانوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور عام شہریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان قربانیوں نے ملک میں امن کے قیام کی بنیاد رکھی۔ ان شہدا کی یاد صرف سرکاری تقریبات تک محدود نہیں بلکہ ہر اس گھر میں زندہ ہے جہاں آج بھی کسی شہید کی تصویر دیوار پر آویزاں ہے۔
سیاسی قائدین پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قومی معاملات پر گفتگو کرتے وقت ایسے الفاظ اختیار کریں جو اتحاد، برداشت اور باہمی احترام کو فروغ دیں۔ اگر کسی بیان سے غلط فہمی پیدا ہو یا عوامی جذبات مجروح ہوں تو وضاحت یا معذرت کو کمزوری نہیں بلکہ سیاسی بلوغت سمجھا جانا چاہیے۔ بڑے رہنما وہی ہوتے ہیں جو قوم کو جوڑنے والی زبان استعمال کریں، نہ کہ تقسیم کو گہرا کرنے والی۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ شہدا کی قربانیوں کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھا جائے۔ ان کے خاندانوں کے دکھ، ان کے ایثار اور ان کی لازوال خدمات کو ہمیشہ احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ اختلافات آئیں گے، سیاسی بیانات بھی دیے جائیں گے، مگر قومی وحدت کا تقاضا یہی ہے کہ شہدا کے تقدس پر پوری قوم ایک آواز رہے۔ وطن کی حفاظت کرنے والے سپوت ہماری تاریخ کا روشن باب ہیں۔ ان کے خون سے لکھی گئی داستانیں آنے والی نسلوں کو یہ سبق دیتی رہیں گی کہ آزادی، امن اور خودمختاری کی قیمت ہمیشہ قربانی سے ادا کی جاتی ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جسے ہر سیاسی، سماجی اور فکری اختلاف سے بالاتر ہو کر زندہ رکھنا چاہیے، کیونکہ شہدا کا احترام دراصل پاکستان کے وقار، یکجہتی اور مستقبل کا احترام ہے۔