کراچی: چیمپئنز ٹرافی میں ناقص پرفارمنس کے باعث پہلے ہی رائونڈ میں باہر ہونے پر پاکستان کرکٹ ٹیم پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔
اس موقع پر ہیڈ کوچ عاقب جاوید کھلاڑیوں کی حمایت میں سامنے آگئے۔
عاقب جاوید نے روالپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بہترین ٹیم سلیکٹ کی تھی لیکن توقعات کے مطابق پرفارمنس نہیں آئی جو ایک حقیقت ہے۔ کچھ کھلاڑی میچ کے لیے بہت ضروری ہوتے ہیں، ٹیم میں جو بھی سلیکٹ ہوا اپنی کارکردگی کی وجہ سے آیا، یہ حقیقت ہے ہماری پرفارمنس نہیں آرہی، بابر کے سوا ہمارے پاس کون سا آپشن ہے؟
انہوں نے واضح کیا کہ کرکٹ میں کوئی معذرت نہیں ہوتی اور ہر میچ سے پہلے ٹیم پُرامید ہوتی ہے، جسے ہم سپورٹ بھی کرتے ہیں۔ کھلاڑی خود بھی کارکردگی سے افسردہ ہیں، قوم کو یہ یقین رکھنا چاہیے کہ ٹیم کی طرف سے پوری کوشش کی جاتی ہے۔ بھارت اور پاکستان کے میچ میں جذبات مختلف ہوتے ہیں۔
بھارت کے خلاف میچ کے حوالے سے عاقب جاوید نے کہا کہ اگر پاکستان 300 کے قریب اسکور بنالیتا تو اچھا مقابلہ ہوسکتا تھا۔ جب اچھا ٹوٹل نہ ہو تو بولرز کو زیادہ اٹیکنگ جانا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑے میچز میں امپیکٹ پلیئرز کا ہونا ضروری ہوتا ہے، صائم ایوب اور فخر زمان کی عدم موجودگی سے فرق پڑا۔ سفیان مستقیم اور عرفان نیازی کا ون ڈے کے حوالے سے ایکسپوژر نہیں تھا۔
عاقب جاوید نے مزید کہا کہ ون ڈے میں سات بیٹرز اور چار بولرز کا کمبی نیشن کھلایا جاتا ہے اور چونکہ صائم ایوب بیٹنگ کے ساتھ کچھ اوورز بھی کرواسکتے تھے، اسی لیے ان کی جگہ خوشدل شاہ کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔
انہوں نے بابراعظم اور شاہین آفریدی کو ٹیم کے سب سے تجربہ کار کھلاڑی قرار دیا اور کہا کہ پاکستان نے اپنی بہترین دستیاب ٹیم میدان میں اتاری تھی۔ انہوں نے سعود شکیل کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی جگہ محنت سے بنائی۔