مہروز احمد
کراچی کے معروف شاپنگ مال، گل پلازہ میں ہفتے کی شب لگنے والی آگ نے نہ صرف شہر بلکہ پورے ملک کے عوام کو ہلاکر رکھ دیا۔ ایم اے جناح روڈ پر واقع اس شاپنگ مال میں رات قریباً سوا دس بجے آگ بھڑک اٹھی، جو قابو پانے کے لیے کی جانے والی ابتدائی کوششوں کے باوجود بڑھتی ہی چلی گئی۔ نامعلوم کس سیکیورٹی کمپنی کے گارڈز تھے جو آتش زدگی کے بعد گیٹس کھولنے کی زحمت نہ کرسکے۔ لوگ جلتے اور مرتے رہے، واقعہ کراچی کی تاریخ کا عظیم سانحہ بن گیا۔ آگ لگنے کے بعد فائربریگیڈ اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور خطرناک حالات کے باوجود امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں، لیکن آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اتوار کو عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے اور متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔ ریسکیو 1122 کے چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر عابد جلال الدین شیخ کے مطابق، آپریشن کے دوران پانچ مختلف مقامات پر بیک وقت سرچ آپریشنز جاری تھے، جبکہ ایک خصوصی ٹیم آگ بجھانے اور کولنگ کے عمل میں مصروف تھی۔ ملبہ اتنا بھاری اور خطرناک تھا کہ آپریشن کو مرحلہ وار اور انتہائی مہارت کے ساتھ انجام دینا پڑا۔ متعدد لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، تاہم کچھ کو مختلف مقامات سے حصوں کی شکل میں نکالا گیا، جس کی وجہ سے حتمی تعداد کی تصدیق ممکن نہیں۔
گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں اب تک 26 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے، جن میں 40 سالہ کاشف ولد یونس، 55 سالہ فراز ولد ابرار اور 25 سالہ فرقان ولد شوکت علی شامل ہیں جبکہ کئی لاشیں ناقابل شناخت ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق لاپتا افراد کی تعداد 59 ہے اور ان کی تلاش جاری ہے۔ زخمی ہونے والے افراد میں 22 کو سول اسپتال اور برنس سینٹرز میں طبی امداد فراہم کی گئی، جن میں دو فائر فائٹرز بھی شامل ہیں۔ چیف فائر آفیسر ہمایوں احمد نے بتایا کہ عمارت کا ڈھانچہ انتہائی خستہ حال ہے اور کسی بھی وقت گرنے کا خطرہ ہے۔ اسی وجہ سے فائر فائٹنگ محدود کردی گئی ہے اور صرف ملبہ ہٹانے کا عمل جاری ہے۔ ریسکیو ٹیمیں ٹارچز اور خصوصی آلات کی مدد سے زندہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں اور امدادی کارروائیاں 40 گھنٹے سے زیادہ جاری ہیں۔ ملبہ ہٹانے اور مزید لاشیں نکالنے کے لیے 15 سے 17 دن لگنے کا امکان ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے موقع پر جا کر متاثرین کی صورتحال کا جائزہ لیا اور جاں بحق افراد کے ورثاء کے لیے امداد کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ تاجروں کے مالی نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا اور ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ٹیموں کی کوششوں کو بروئے کار لایا جائے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ مُراد علی شاہ سے رابطہ کرکے سانحے پر افسوس کا اظہار کیا جب کہ صدر مملکت آصف زرداری نے متاثرین کو ہر ممکن مدد و تعاون فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری اور میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بھی متاثرہ جگہ کا دورہ کیا اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔
حادثے کی شدت اور انسانی جانوں کے ضیاع نے سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ شہر کے مرکزی تجارتی مراکز میں حفاظتی اقدامات ناکافی تھے، جس کا نتیجہ نہ صرف مالی نقصان بلکہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی صورت میں سامنے آیا۔ ریسکیو اور فائر بریگیڈ ٹیمیں انتھک کوششوں کے باوجود محدود وسائل اور خستہ حال عمارت کے سبب متاثرین کو بچانے میں محدود رہ گئیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے کہا کہ امدادی ٹیمیں انسانی جانیں بچانے کے لیے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر کام کررہی ہیں اور عوام سے گزارش کی ہے کہ وہ پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بھی ریسکیو اور طبی سہولتیں فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی جبکہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ واقعہ کی نوعیت اور جاں بحق افراد کی تعداد نے یہ بات واضح کردی ہے کہ کراچی میں تجارتی مراکز کی حفاظت کے حوالے سے موجودہ انتظامی نظام ناکافی ہے۔ گل پلازہ میں لگنے والی آگ ایک المناک یاد دہانی ہے کہ شہری زندگی کی حفاظت میں کمی اور حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی انسانی جانوں کے لیے کتنی مہلک ثابت ہوسکتی ہے۔
یہ سانحہ نہ صرف ریسکیو اور فائر فائٹنگ کے عمل کی ناکامی بلکہ انتظامیہ کی بروقت تیاری اور حفاظتی اقدامات کی سنگین کمزوریوں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ گل پلازہ آتشزدگی نے ہمیں یہ پیغام دیا ہے کہ اگر شہر کے تجارتی اور عوامی مراکز میں حفاظتی اقدامات فوری طور پر مؤثر نہ بنائے گئے تو مستقبل میں بڑے انسانی نقصانات کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ لاپتا افراد کی تلاش، متاثرہ تاجروں کی مالی امداد اور متاثرہ عمارت کے ملبے کی صفائی کے عمل کو شفاف اور مؤثر بنایا جائے۔ ریسکیو، پولیس، فائر بریگیڈ، میونسپل اور وفاقی اداروں کو مشترکہ طور پر فوری اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع سے بچا جا سکے۔ یہ سانحہ کراچی کے عوام، تاجروں اور حکومتی اداروں کے لیے ایک سنگین انتباہ ہے کہ شہری زندگی کی حفاظت اور حفاظتی اقدامات کو ہر حال میں ترجیح دینی ہوگی۔