انجینئر بخت سید یوسف زئی
(engr.bakht@gmail.com)
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)
کراچی کے مصروف اور گنجان آباد تجارتی علاقے میں واقع گل پلازہ میں ہفتے کی رات اچانک لگنے والی خوف ناک آگ نے پورے شہر کو غم، خوف اور شدید تشویش میں مبتلا کردیا۔ آگ کے شعلے دیکھتے ہی دیکھتے بلند ہوتے گئے اور آسمان پر دھویں کے گہرے بادل چھا گئے، جس سے صورت حال کی سنگینی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
آگ لگنے کے فوراً بعد پلازہ میں موجود دکان داروں اور خریداروں میں شدید بھگدڑ مچ گئی۔ لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے ادھر اُدھر بھاگنے لگے، مگر تنگ راستوں اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث متعدد افراد بروقت باہر نہ نکل سکے اور عمارت کے اندر ہی پھنس کر رہ گئے۔
اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق 15 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے جب کہ 73 لوگ تاحال لاپتا ہیں، جن میں مرد، خواتین اور معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ یہ خبر سن کر پورا شہر صدمے کی کیفیت میں ہے اور ہر آنکھ اشک بار نظر آتی ہے۔
ریسکیو 1122، فائر بریگیڈ اور دیگر امدادی ادارے رات گئے سے موقع پر موجود رہے اور بھرپور کوششیں جاری رکھیں، تاہم حالات غیر معمولی حد تک خطرناک ہو چکے تھے، جس کے باعث ریسکیو آپریشن شدید مشکلات کا شکار رہا۔ ریسکیو حکام کے مطابق اس وقت ٹیمیں پلازہ کے اندر داخل نہیں ہوسکتیں، کیونکہ عمارت کے دو حصے پہلے ہی گرچکے ہیں جب کہ باقی ڈھانچہ بھی کسی بھی وقت منہدم ہونے کے خدشے سے دوچار ہے۔ مسلسل آگ، شدید دھویں اور کمزور ساخت کے باعث اندر جانا ریسکیو اہلکاروں کی جانوں کے لیے انتہائی خطرناک ہوچکا ہے۔
ان خطرناک حالات کے باوجود امدادی کارروائیاں مکمل احتیاط کے ساتھ جاری ہیں اور بیرونی سطح پر موجود وسائل کے ذریعے ممکنہ حد تک لوگوں کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اسی دوران ایک نہایت افسوس ناک خبر سامنے آئی کہ ریسکیو اہلکار فرقان علی جامِ شہادت نوش کر گئے۔ فرقان علی نے انسانیت کی خدمت کے دوران اپنی جان قربان کر کے فرض شناسی کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ فرقان علی کی شہادت نے نہ صرف ان کے اہلِ خانہ بلکہ پوری قوم کو غم زدہ کردیا ہے۔ وہ ہمیشہ ایک بہادر اور فرض شناس ہیرو کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔
اس سانحے میں اب تک 22 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے، جنہیں فوری طور پر شہر کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں بعض زخمی زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔
واقعے کے بعد کراچی کے گورنمنٹ سول اسپتال کے برنس وارڈ میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی۔ تمام دستیاب ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو طلب کرلیا گیا جب کہ غیر ضروری چھٹیاں منسوخ کرکے عملے کو الرٹ کردیا گیا ہے۔ برنس وارڈ میں زخمیوں کے علاج کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، تاہم محدود وسائل اور مریضوں کی بڑھتی تعداد کے باعث طبی عملے کو شدید دباؤ کا سامنا ہے، اس کے باوجود وہ فرض شناسی کے جذبے کے تحت خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اسپتالوں کے باہر زخمیوں کے اہل خانہ بے چینی، اضطراب اور شدید ذہنی کرب کا شکار نظر آتے ہیں۔ کوئی اپنے پیارے کی ایک جھلک کے لیے بے قرار ہے تو کوئی مسلسل دعاؤں میں مصروف ہے، ہر چہرہ ایک ان کہی داستان سنارہا ہے۔ صدر ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے رہنما تنویر قاسم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگر ریسکیو ٹیم کے ساتھ اندر موجود لوگوں کو نکالنے کا مناسب انتظام ہوتا تو صورت حال مختلف اور زیادہ کنٹرول شدہ ہوتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریسکیو ٹیم کے وقت پر نہ پہنچنے کی وجہ سے انسانی نقصانات میں اضافہ ہوا۔ تنویر قاسم کے مطابق، اس سانحے کے وقت پلازہ میں قریباً 7 سے 8 ہزار افراد موجود تھے، کیونکہ ویک اینڈ کے دنوں میں اس علاقے میں خریداری اور دکان داری کے لیے رش بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس بڑی تعداد نے ہنگامی صورت حال کو اور پیچیدہ بنادیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پلازہ میں موجود فائر ایگزٹ اور دیگر حفاظتی انتظامات ٹھیک تھے اور یہی وجہ تھی کہ ابتدائی مراحل میں متعدد افراد آسانی سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے، لیکن آگ کی شدت اور دھویں کی وجہ سے بعد میں کئی افراد پھنس گئے۔ اس سانحے کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ گل پلازہ میں اصل میں صرف 500 دکانوں کی اجازت تھی، مگر ضابطوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اسے بڑھا کر قریباً 1200 دکانوں میں تبدیل کردیا گیا۔ یہ غیر قانونی توسیع نہ صرف عمارت کی مضبوطی کو متاثر کرتی رہی بلکہ ہنگامی حالات میں انسانی جانوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بھی بنی۔
گل پلازہ تین منزلوں پر مشتمل تھا، تاہم ہر منزل پر ضرورت سے کہیں زیادہ دکانیں، تنگ گزرگاہیں اور ناقص سیڑھیاں تعمیر کی گئیں، جس نے عمارت کو ایک خطرناک ڈھانچے میں بدل دیا۔ ایسی ناقص منصوبہ بندی کے باعث کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں محفوظ انخلا قریباً ناممکن ہوجاتا ہے اور یہی صورت حال اس الم ناک حادثے میں واضح طور پر سامنے آئی۔ اطلاعات کے مطابق عمارت میں آگ سے بچاؤ کے بنیادی انتظامات موجود نہیں تھے۔ فائر الارم، ایمرجنسی ایگزٹس اور فائر فائٹنگ سسٹم یا تو ناکارہ تھے یا سرے سے لگائے ہی نہیں گئے تھے۔
یہ تمام حقائق متعلقہ اداروں کی غفلت، لاپروائی اور نگرانی کے فقدان کی نشان دہی کرتے ہیں، جن کی ذمے داری تھی کہ وہ شہری عمارتوں کی باقاعدہ جانچ پڑتال اور حفاظتی معیارات پر عمل درآمد یقینی بناتے۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں اس نوعیت کے الم ناک واقعات کا بار بار پیش آنا اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ قوانین موجود ہونے کے باوجود ان پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ متاثرہ خاندان اس وقت شدید ذہنی اذیت، صدمے اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ کوئی اسپتالوں کے چکر لگا رہا ہے تو کوئی جائے وقوعہ پر اپنے پیاروں کی خبر کے انتظار میں کھڑا ہے۔
سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس سانحے پر شدید ردعمل پایا جاتا ہے، جہاں لوگ نہ صرف افسوس کا اظہار کررہے ہیں بلکہ ذمے دار عناصر کے خلاف سخت اور شفاف کارروائی کا مطالبہ بھی کررہے ہیں۔ عوام یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر کب تک انسانی جانوں کو تجارتی مفادات، بدعنوانی اور انتظامی غفلت کی بھینٹ چڑھایا جاتا رہے گا اور کب ان سانحات کا حقیقی احتساب ہوگا۔ یہ واقعہ اجتماعی طور پر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اگر بروقت نگرانی، سخت قوانین اور غیر جانبدار احتساب کا نظام موجود ہوتا تو شاید اس قدر قیمتی جانوں کو خطرے میں نہ ڈالا جاتا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے فوری تمام غیر قانونی پلازوں اور تجارتی عمارتوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں اور حفاظتی نظام کو مؤثر بنائیں۔ ذمے دار مالکان، ٹھیکیداروں اور اجازت دینے والے افسران کو قانون کے کٹہرے میں لا کر مثال قائم کی جائے، تاکہ مستقبل میں کوئی انسانی جانوں سے کھیلنے کی جرأت نہ کرسکے۔ یہ سانحہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ہمارے مجموعی نظام کی کمزوریوں اور اجتماعی بے حسی کی عکاسی کرتا ہے، جس پر سنجیدہ غور و فکر ناگزیر ہے۔
ہمیں بطور معاشرہ یہ عہد کرنا ہوگا کہ انسانی جان کی حرمت کو ہر قسم کے فائدے، لالچ اور وقتی مفاد پر فوقیت دی جائے۔ یہ امید کی جاتی ہے کہ یہ سانحہ محض ایک خبر بن کر ماضی کا حصہ نہ بنے گا بلکہ اصلاح، احتساب اور حقیقی تبدیلی کی بنیاد ثابت ہوگا۔