سب سے پہلے نیکی

اسد احمد

شہر کے ایک پرانے محلے میں کامران نام کا آدمی رہتا تھا۔ کامران کا مزاج سادہ، لیکن دل بڑا اور خوف خدا رکھنے والا تھا۔ وہ دولت مند نہیں تھا، لیکن اپنی کمائی میں سے ہمیشہ دوسروں کی مدد کے لیے کچھ نہ کچھ نکال لیتا۔ کامران کا ماننا تھا کہ “اللہ کی رضا کے لیے کی جانے والی ہر نیکی، چھوٹی یا بڑی، ایک دن انسان کے کام ضرور آتی ہے۔”
ایک دن شام کے وقت کامران نے سڑک کنارے ایک بوڑھی عورت کو دیکھا، جس کی حالت بہت خراب تھی۔ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور وہ خوف زدہ لگ رہی تھی۔ لوگ اسے نظرانداز کررہے تھے، لیکن کامران فوراً اس کے پاس گیا۔ اس نے عورت کو سہارا دیا، اسے پانی پلایا اور اپنے گھر لے آیا۔
بوڑھی عورت نے کامران کی طرف دیکھ کر کہا، “بیٹے، اللہ تمہیں اپنی رحمتوں سے نوازے۔” کامران نے مسکرا کر کہا، “اللہ کی رضا میرے لیے کافی ہے، انسانوں کی خدمت میری عبادت ہے۔” بوڑھی عورت کامران کے گھر رہنے لگی۔ کامران اور اُس کے اہل خانہ نے اُن کا بھرپور خیال رکھا اور خدمت گزاری میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ کامران نے سوچا بزرگ خود کو ہم پر بوجھ نہ سمجھیں، اسی لیے اُن کو معمولی سرمائے سے چھوٹا سا اپنے گھر کے قریب کاروبار کرادیا۔
بزرگ خاتون روزانہ کچھ چیزیں بیچ کر آمدن حاصل کرتی تھیں، لیکن ان کی حالت پھر بھی خراب تھی۔ کامران نے اپنے دل میں فیصلہ کیا کہ وہ اپنی زندگی کے وسائل میں سے کچھ حصہ مستقل طور پر بزرگ خاتون کی دیکھ بھال کے لیے مختص کرے گا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ قربانی آسان نہیں، لیکن اللہ کی رضا کے لیے ہر رکاوٹ قابلِ برداشت تھی۔ خیر کامران کی اس نیکی سے خاتون کے چہرے پر مسکراہٹ لوٹ آئی اور اُن کے تمام مسائل حل ہوگئے۔ وہ خوش حال زندگی بسر کرنے لگیں۔
کچھ ماہ بعد محلے میں ایک حادثہ ہوا۔ ایک چھوٹا سا بچہ اچانک پانی کے ٹینک میں گر گیا۔ لوگ خوف زدہ ہو کر دیکھتے رہے، لیکن کامران نے فوراً اپنی جان خطرے میں ڈال کر بچے کو بچالیا۔ اس دن کامران کو ایک حقیقت کا احساس ہوا، “جب انسان دوسروں کی مدد اللہ کے نام پر کرتا ہے، تو اللہ خود اس کے پیچھے حفاظت کرتا ہے۔”
کامران کی ہر نیکی، ہر چھوٹی قربانی، آہستہ آہستہ محلے کے لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی لانے لگی۔ وہ جو پہلے تنہا اور پریشان تھے، آج سکون اور خوشی محسوس کررہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں امید پیدا ہوئی اور وہ سب کامران کو دیکھ کر سیکھنے لگے کہ نیکی اور انسانیت کی خدمت صرف اچھے لفظوں میں نہیں بلکہ عمل میں ہوتی ہے۔
کامران کی زندگی کا اصل سبق یہ تھا کہ دولت یا طاقت کے بغیر بھی انسان نیکی اور اللہ کی رضا کے لیے سب کچھ کر سکتا ہے۔ ایک شخص کا عمل، اگر اللہ کی رضا کے لیے ہو، تو وہ دوسروں کی زندگی بدل دیتا ہے اور خود بھی روحانی سکون پاتا ہے۔
یہ کہانی ہمیں سبق دیتی ہے: نیکی پہلے، خوف خدا کے ساتھ اور قربانی ہمیشہ دوسروں کی بھلائی کے لیے۔ حقیقی طاقت اور عظمت انسان کی نیت اور عمل میں ہے، نہ کہ مال، شہرت یا طاقت میں۔ اور جو شخص اللہ کے راستے میں دوسروں کی خدمت کرتا ہے، اللہ اسے دنیا اور آخرت میں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔

Goodness comes first