کراچی: عالمی مارکیٹ میں جمعرات کی شب سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑی ہلچل مچ گئی اور قیمتیں بڑے اضافے کے بعد 5 فیصد گر گئی۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمت 5 ہزار 594 ڈالر کی ریکارڈ بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد اچانک 5 فیصد گر کر 5 ہزار 109 ڈالر کی تک پہنچ گئی۔ چاندی کی قیمت میں بھی بڑی کمی دیکھنے میں آئی۔
پاکستان کی تاریخ میں بھی سونے کی قیمت میں پہلی بار فی تولہ 35 ہزار سے زائد کمی دیکھنے میں آئی۔ آل جیمز اینڈ جولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت 35 ہزار 500 روپے کم ہوکر 5 لاکھ 37 ہزار 363 روپے ہوگئی ہے، اسی طرح دس گرام سونا 30 ہزار 435 روپے سستا ہوکر 4 لاکھ 60 ہزار 701 روپے ہوگیا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں 355 ڈالر کم ہوکر 5150 ڈالر ہوگئی ہے۔
ماہرین کے مطابق ریکارڈ اضافے کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کے حصول کے لیے بڑے پیمانے پر فروخت سونے کی قیمتوں پر دباؤ کا باعث بنی، تاہم سونا اب بھی ماہانہ بنیادوں پر 24 فیصد اضافے کے ساتھ سال 1980 کے بعد بہترین پوزیشن میں ہے۔
دوسری جانب، چاندی کی قیمت بھی 121 ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد دوبارہ 7ڈالر گر کر 114 ڈالر کی سطح پر آگئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چاندی اور پلاٹینم جیسی چھوٹی مارکیٹوں میں قیاس آرائیوں کی وجہ سے حقیقی قیمت سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہیں۔
یونین بینک آف سوئٹزرلینڈ (UBS) نے پیش گوئی کی ہے کہ 2026 کے وسط تک عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا 6 ہزار 200 ڈالر کی بلند ترین سطح تک جاسکتا ہے۔
آل پاکستان جیم مرچنٹس اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عمران ٹیسوری کے مطابق سونے کی قیمت میں 4 فیصد سے زائد کی کمی سے قریباً 5 ہزار 140 ڈالر فی اونس رہ گئی ہے، کیونکہ سرمایہ کاروں کی جانب سے سونے کی فی اونس قیمت 5ہزار 600 ڈالر کی بلند سطح پر پہنچتے ہی وسیع پیمانے پر منافع حاصل کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سونے کو امریکی اثاثوں پر اعتماد میں کمی کی حمایت حاصل تھی، جو بڑھتی ہوئی معاشی اور جغرافیائی سیاسی بے یقینی صورت حال کے باعث پیدا ہوئی۔