فیلڈ مارشل کا دورۂ جرمنی، اہم شخصیات سے ملاقات

دانیال جیلانی

پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نے جرمنی کے دارالحکومت میونخ میں منعقد ہونے والی 62 ویں میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں شرکت کی، جو عالمی سطح پر سیکیورٹی، دفاعی تعلقات اور علاقائی استحکام پر تبادلہ خیال کا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، یہ دورہ تین روزہ سرکاری نوعیت کا تھا اور اس کے دوران فیلڈ مارشل نے متعدد عالمی رہنماؤں اور اعلیٰ فوجی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ یہ دورہ نہ صرف پاکستان کی دفاعی اور خارجہ پالیسی میں ایک نیا مرحلہ ثابت ہوتا ہے، بلکہ عالمی اور علاقائی سیکیورٹی ڈائیلاگ میں پاکستان کی فعال شمولیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ میونخ سیکیورٹی کانفرنس ہر سال دنیا کے مختلف ممالک کے حکام، عسکری سربراہان، سیکیورٹی ماہرین اور بین الاقوامی سیاستدانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لاتی ہے تاکہ وہ عالمی اور علاقائی سیکیورٹی کے مسائل پر بات چیت کریں۔ اس کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے کرنا یہ اہم پیغام بھیجتا ہے کہ پاکستان علاقائی اور عالمی سطح پر سیکیورٹی تعاون اور انسداد دہشت گردی میں اپنا کردار بخوبی ادا کر رہا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، فیلڈ مارشل نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت متعدد اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خاص طور پر علاقائی سیکیورٹی، انسداد دہشت گردی تعاون اور مشترکہ دفاعی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ یہ ملاقاتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان عالمی سطح پر سیکیورٹی شراکت داری میں اپنی ذمے دارانہ پوزیشن کو مضبوط کررہا ہے اور اپنے خطے میں امن و استحکام کے لیے فعال کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
فیلڈ مارشل نے جرمنی کے وزیر داخلہ، مشیر خارجہ اور چیف آف ڈیفنس سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ دفاعی تعاون کے موضوعات پر بات ہوئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ فوجی اور عسکری تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے تاکہ خطے میں امن قائم رہ سکے۔ دفاعی تعلقات کی مضبوطی نہ صرف پاکستان کے لیے اہم ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر تعاون کی راہیں بھی ہموار کرتا ہے، جس سے خطے میں دہشت گردی کے خطرات کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ فیلڈ مارشل کی برازیل کے جوائنٹ اسٹاف سربراہ اور لبنان کی مسلح افواج کے کمانڈر جنرل سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ ان ملاقاتوں میں دفاعی تعاون کے علاوہ عالمی اور علاقائی سیکیورٹی کی صورت حال پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ یہ ملاقاتیں اس بات کی دلیل ہیں کہ پاکستان نہ صرف اپنی داخلی اور علاقائی سیکیورٹی کے مسائل کو سمجھتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی تعاون کے لیے تیار ہے۔ فیلڈ مارشل کا یہ دورہ اس وقت سامنے آیا ہے جب عالمی سیکیورٹی منظرنامہ متغیر اور بے یقینی حالات سے بھرپور ہے۔ افغانستان میں تبدیلیوں، جنوبی ایشیا میں بڑھتے ہوئے خطرات اور خطے میں انسداد دہشت گردی کے مسائل نے پاکستان کے دفاعی و خارجہ حکام پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کریں۔ اس کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی اس بات کا پیغام دیتی ہے کہ ہمارا ملک علاقائی امن اور عالمی تعاون میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ یہ دورہ محض رسمی ملاقاتوں یا پروٹوکول کے لیے نہیں تھا، بلکہ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی عملی ترجمانی تھا۔ علاقائی سیکیورٹی میں پاکستان کی شراکت داری، دہشت گردی کے خلاف تعاون اور دفاعی تعلقات میں شفافیت کے موضوعات اس دورے کی مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ مضبوط ہوتی ہے بلکہ عالمی شراکت داروں کو بھی یقین دلایا جاتا ہے کہ پاکستان مستحکم اور ذمے دارانہ کردار ادا کررہا ہے۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات کیے ہیں اور یہ دورہ اسی عزم کو عالمی سطح پر اجاگر کرتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں انسداد دہشت گردی تعاون پر تبادلہ خیال، یہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان عالمی پارٹنرز کے ساتھ شفاف اور فعال تعلقات رکھتا ہے اور دہشت گردی کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کررہا ہے۔ میونخ کانفرنس میں پاکستان کی شمولیت کی ایک اور اہم جہت دفاعی تعلقات کو مضبوط کرنا بھی ہے۔ جرمن وزیر داخلہ، مشیر خارجہ اور چیف آف ڈیفنس کے ساتھ ہونے والی بات چیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان نے عالمی سطح پر اپنے دفاعی تعلقات کو مستحکم کرنے کا عملی قدم اٹھایا ہے۔ یہ تعلقات مستقبل میں مشترکہ فوجی مشقوں، تربیتی پروگراموں اور سیکیورٹی شراکت داری کے نئے مواقع فراہم کریں گے۔ مزید برآں، برازیل اور لبنان کے اعلیٰ فوجی حکام کے ساتھ ملاقاتیں پاکستان کی خارجہ پالیسی میں متوازن اور فعال کردار کی نشاندہی کرتی ہیں۔ یہ ملاقاتیں نہ صرف دفاعی تعاون بلکہ عالمی اور علاقائی سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی تجزیہ بھی تھیں۔ ان ملاقاتوں کے ذریعے پاکستان عالمی سطح پر اپنا موقف مضبوط کرنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا حصہ ڈالنے کی صلاحیت ظاہر کر رہا ہے۔ یہ دورہ ایک پیغام ہے کہ عسکری اور دفاعی قیادت عالمی سطح پر اپنی ذمے داریوں کو سمجھتی ہے اور خطے میں استحکام کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں یہ ملاقاتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان نہ صرف داخلی سیکیورٹی کے مسائل حل کرنے کے لیے پرعزم ہے بلکہ عالمی سطح پر تعاون اور شراکت داری کے لیے بھی تیار ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورۂ جرمنی پاکستان کی دفاعی اور خارجہ پالیسی میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ دورہ نہ صرف پاکستان کی عالمی سیکیورٹی میں شمولیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ خطے میں استحکام، انسداد دہشت گردی تعاون، اور دفاعی تعلقات کو مستحکم کرنے کی جانب ایک عملی قدم بھی ہے۔ اس سے عالمی شراکت داروں کو یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ پاکستان ایک ذمے دار، مستحکم اور فعال ملک ہے جو امن و تعاون کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔

CDFField Marshal Asim MunirGermany Visit