لندن: اگلے مہینے بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا انعقاد آئی سی سی سمیت تمام شریک ممالک کے لیے درد سر بن گیا ہے۔
پاکستان ٹیم ہائبرڈ ماڈل معاہدے کے تحت پہلے ہی اپنے تمام میچز بھارت کے بجائے سری لنکا میں کھیلے گی۔
دوسری جانب بنگلادیشی ٹیم نے بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے بھارت جاکر کھیلنے سے انکار کردیا ہے۔
ان حالات کے برعکس بھارت خود کئی ٹیموں کو پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کو ویزا دینے میں تاخیری حربے آزما رہا ہے۔
امریکا کے علی خان سمیت چار پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کو بھارتی ویزا نہ دیے جانے کی تصدیق کے بعد اب انگلینڈ کے پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کو بھی ویزا نہ ملنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق عادل رشید اور ریحان احمد کو پاکستان سے تعلق ہونے کے باعث ابھی تک بھارتی ویزا جاری نہیں کیا گیا، جس کے باعث دونوں کھلاڑیوں کا اس ہفتے کے آخر میں سری لنکا کے خلاف 6 وارم اپ میچز کی سیریز کے لیے انگلینڈ کے اسکواڈ کے ساتھ سفر کرنے کا امکان نہیں ہے۔
خیال رہے کہ دو سال قبل شعیب بشیر انگلینڈ کے دورۂ بھارت کے ابتدائی ٹیسٹ میں شرکت نہیں کرسکے تھے، جس کے بعد انہیں ویزے کا عمل مکمل کرنے کے لیے لندن واپس جانا پڑا تھا جب کہ ثاقب محمود کو بھی ویزا سے متعلق مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔